ملتان میں 3روزہ مینگو فیسٹیول شرع ، مختلف اقسام نمائش کیلئے پیش

ملتان میں 3روزہ مینگو فیسٹیول شرع ، مختلف اقسام نمائش کیلئے پیش

ملتان ( سپیشل رپورٹر) آسٹریلین ہائی کمشنر مس مارگریٹ ایڈمسن نے کہاکہ مینگو فیسٹیول میں دوسری بار شرکت کرنے پر بہت خوشی ہے ۔ پاکستان کا آم پوری دنیا میں ذائقے کے لحاظ سے بہترین(بقیہ نمبر35صفحہ12پر )

آم ہے ۔ انہوں نے کہاکہ آسٹریلین اداراہ آسٹریلین سنٹر فار انٹرنیشنل ایگریکلچرل ریسرچ پاکستان میں کئی شعبوں میں تعاون کر رہا ہے اور محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی ملتان کے ساتھ مل کر بھی کام کیا جارہاہے ۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے گزشتہ روز محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی کے زیر اہتمام،بہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان، محکمہ زراعت پنجاب اور ضلعی حکومت ملتان کے تعاون سے منعقدہ سالانہ تین روزہ مینگو فیسٹیول 2018 کے افتتاح کے مو قع پر کیا۔انھوں نے کہاکہ مینگو فیسٹیول کی وجہ سے پاکستانی آم ایکسپورٹ کرنے کے مواقع بڑھیں گے ۔ انہوں نے مزید کہاکہ آسٹریلیا میں پاکستانی آم کو بہت پسند کیا جاتا ہے ۔ مینگو فیسٹیول 2018کے افتتاح کے موقع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر جامعہ پروفیسر ڈاکٹر آصف علی نے کہاکہ آم کو پھلوں کا بادشاہ بھی کہا جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق برصغیر پاک و ہند میں آم کی کاشت 4000سال پہلے شروع ہوئی اور اس وقت دنیا میں قلمی آم کی 149اقسام اور دیسی آم کی تقریباً 1000اقسام کاشت ہورہی ہیں۔ مجموعی طور پر تقریباً 25ملین ٹن آم اس وقت دنیا میں پیدا ہو رہا ہے اور پاکستان ، انڈیا ، برازیل ، چائنہ ، نائیجیریا ، میکسیکو اور تھائی لینڈ آم کی پیداوار کے لحاظ سے دنیا کے پہلے دس ممالک کی فہرست میں آتے ہیں ۔ پاکستان میں بھی تقریباً 4لاکھ 25ہزار ایکڑ اراضی رقبے پر آم کی کاشت کی گئی ہے جس سے مجموعی طور پر تقریباً 18لاکھ ٹن کا پھل حاصل ہو رہا ہے ۔ پاکستان میں اس وقت تقریباً 200کے لگ بھگ آم کی مختلف اقسام کاشت کی جارہی ہیں جن میں دسہری ، سندھڑی ، انو ررٹول ، چونسہ اور لنگڑا وغیرہ سر فہرست ہیں ۔ ترشاوہ پھلوں کے بعد آم پیداواری لحاظ سے د وسرابڑا پھل ہے ۔پاکستانی آم اپنے مخصوص ذائقے اور خوشبو کی وجہ سے بہت زیادہ مقبول ہے اور تقریباً دنیا کے ہر ملک میں اس کو انتہائی پسند کیا جاتا ہے ۔ جنوبی پنجاب کے ہر ضلع میں تقریباً آم کی کاشت کی جاتی ہے۔ گزشتہ چند سالوں کے دوران پاکستان نے امریکا، جاپان، اردن، موریشیس اور جنوبی کور یااور یورپ کی مارکیٹ میں کامیابی کے ساتھ رسائی حاصل کی ہے جبکہ اس سے قبل پاکستان سے آم کی ایکسپورٹ زیادہ تر متحدہ عرب امارات کو کی جاتی رہی ہے جو قریباً 60سے 70ہزار ٹن ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ مینگو فیسٹیول کا انعقاد مینگو گرورز اور ایکسپورٹرز کے روابت بڑھانے کیلئے منعقد کیا جاتا ہے ۔ اس موقع پر چےئر مین زشعبہ ہارٹیکلچر بہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان ڈاکٹر عامر نواز خان ، چےئر مین شعبہ فوڈ سائنس ڈاکٹر شیخ سعید اختر ، ڈاکٹر ناظم حسین لابر ، ڈاکٹر راؤ عبدالقیوم ، ڈاکٹر وقاص ملک ، ڈاکٹر عرفان احمد بیگ ، ڈاکٹر ذولفقار علی ، ڈاکٹر حماد ندیم طاہر ، ڈاکٹر محمد امین سمیت لوگوں کی کثیر تعداد موجود تھی ۔ قبل ازیں محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی کے زیر اہتمام،بہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان، محکمہ زراعت پنجاب اور ضلعی حکومت ملتان کے تعاون سے منعقدہ سالانہ تین روزہ مینگو فیسٹیول 2018کا افتتاح پاکستان میں تعینات آسٹریلین ہائی کمشنر ہر ایکسی لینسی مس مارگریٹ ایڈمسن(Margret Adamson)، وائس چانسلرمحمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی ملتان پروفیسر ڈاکٹر آصف علی اس موقع پر وائس چانسلر محمد نواز شریف یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پروفیسر ڈاکٹر عامر اعجاز، قائم مقام وائس چانسلر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر بشیر احمد چوہدری ، ڈائریکٹر جنرل زراعت ریسر چ پنجاب ڈاکٹر عابد محمود ، ڈائریکٹر جنرل زراعت توسیع ڈاکٹر ظفریاب حیدر ، پرو وائس چانسلر جامعہ پروفیسر ڈاکٹر اشتیاق احمد رجوانہ ، ڈائریکٹر مینگو ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ملک اللہ بخش بھی موجود تھے ۔ مینگو فیسٹیول 2018کے افتتاح کے موقع پر عوام الناس ، آم کے باغبانو ں ، مینگو انڈسٹری سے وابسطہ لوگ اورزرعی سائنسدانوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔ مینگو فیسٹیول میں آم کے باغبانو ں اور ، مینگو انڈسٹری سے وابسطہ لوگوں نے آم کی پراسیسنگ اور ایکسپورٹ کے سلسلہ میں لگائے گئے مختلف سٹالز میں گہری پر دلچسپی کا اظہار کیا ۔مینگو فیسٹیول کا تھیم "سٹرنتھ، چیلنجز اینڈ پراسپکٹس ان مینگو ویلیو چین"ہے۔

مینگو فیسٹیول

مزید : ملتان صفحہ آخر