مستونگ ، پشاور بنوں میں حملے ، ملتان میں شہدا کی غائبانہ نمازجنازہ : شرکاہ روتے رہے ، وکلا ء کی بھی ہڑتال ، عدالتی بائیکاٹ

مستونگ ، پشاور بنوں میں حملے ، ملتان میں شہدا کی غائبانہ نمازجنازہ : شرکاہ ...

ملتان( سٹی رپورٹر‘ خبر نگار خصوصی) ملی مسلم لیگ پاکستان کے صدر پروفیسرسیف اللہ خالد کی اپیل پر ملک بھر کی طرح جنوبی پنجاب کے تمام اضلاع میں بھی سانحہ پشاور، بنوں اور مستونگ میں شہید ہونے والوں کا غائبانہ نماز جنازہ پڑھایا گیا ، ملتان میں نواں شہر چوک پر غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔نماز(بقیہ نمبر11صفحہ12پر )

جنازہ ملی مسلم لیگ پاکستان کے صدر پروفیسر سیف اللہ خالد نے پڑھائی۔نماز جنازہ میں تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔نم آنکھوں ،آہوں اور سسکیوں کے ساتھ نماز جنازہ ادا کی گئی۔نماز جنازہ میں ملی مسلم لیگ جنوبی پنجاب کے کنوینئر ابومعاذ عمران،مسؤل جماعۃا لدعوۃ ملتان میاں سہیل احمد ،اللہ اکبر تحریک کے حلقہ این اے 156سے نامزد امیدوار چوہدری محمد عبداللہ میو،پی پی216سے امیدوار ملک عبدالاحد بھٹہ نے بھی شرکت کی۔غائبانہ نمازجنازہ سے پہلے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ملی مسلم لیگ پروفیسر سیف اللہ خالد کا کہنا تھا کہ ہم پشاور،بنوں اور مستونگ میں ہونیوالے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ ایسے حملوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔پاکستان دشمن قوتوں کو وطن عزیز کا امن برداشت نہیں،یہ وقت ہمارے متحد ہونے کا ہے،دشمن ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتا۔بیرونی قوتیں وطن عزیز پاکستان میں انتخابات سے قبل دہشت گردی کو ہوا دے رہی ہیں۔ منظم منصوبہ بندی کے تحت امن و امان برباد کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔نگران حکومت امیداروں اور عوام کی سیکیورٹی یقینی بنائے۔انہوں نے کہا کہ ساری دنیا جانتی ہے کہ مستونگ حملے کے پیچھے بیرونی طاقتیں ہیں جو پاکستان کو کسی صورت مستحکم نہیں دیکھنا چاہتی۔پاکستان کے دشمن الیکشن کے عمل کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔ صوبہ بھر کی طرح ملتان میں بھی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ملتان نے بنوں اور مستو نگ میں شہید ہونے والے افراد کی ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے مکمل ہڑتال کی ہے۔ اس ضمن میں پنجاب بار کونسل کے فیصلے کے مطابق گزشتہ روز ملتان بار ایسوسی ایشن نے شہداء اور ان کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کیلئے مکمل ہڑتال کی اور وکلاء عدالتوں میں پیش نہ ہوئے جس کے بیشتر مقدمات کی سماعت ملتوی کردی گئیں ہیں۔

سیف اللہ خالد

مزید : ملتان صفحہ آخر