چکوال،دوقومی،چارصوبائی نشستوں کیلئے انتخابی مہم سست روی کاشکار

چکوال،دوقومی،چارصوبائی نشستوں کیلئے انتخابی مہم سست روی کاشکار

چکوال(ڈسٹرکٹ رپورٹر)ضلع چکوال کی دو قومی اور چار صوبائی اسمبلی کی نشستوں کیلئے25جولائی کیلئے میدان لگ گیا ہے۔ ضلع چکوال کی انتخابی تاریخ کا یہ سب سے بوداالیکشن ہے کہ ابھی تک اس میں عوام کی شرکت دور دور تک دکھائی نہیں دیتی۔ پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن دونوں جماعتوں کی طرف سے ابھی تک کوئی بڑا جلسہ اور ریلی نہیں نکالی گئی۔ عمران خان کے شیڈول میں چکوال کا کوئی نام نہیں البتہ مسلم لیگ ن کے امیدوار شہباز شریف یا حمزہ شہبا زشریف کو چکوال اور تلہ گنگ لانے کیلئے سر توڑ کوشش کررہے ہیں۔ سردار غلام عباس کے حلقہ این اے64سے باہر ہو جانے سے الیکشن میں وہ گرما گرمی اور تیزی دکھائی نہیں دیتی جو سردار غلام عباس کو پی ٹی آئی کا ٹکٹ ملنے کے بعد دیکھی گئی تھی۔ سردار غلام عباس کے کاغذات نامزدگی سپریم کورٹ تک مسترد ہونا یہ بھی ضلع چکوال کی انتخابی تاریخ کا ایک انہونا اور عجب واقعہ ہے جبکہ سردار غلام عباس کی35سالہ سیاسی جدوجہد کا ڈراؤنا خواب ہے۔ سردار غلام عباس کی طرف سے سردار ذوالفقار کی حمایت کے اعلان کے بعد ان کی پوزیشن بہتر ہونا شروع ہوگئی ہے جبکہ دوسری طرف میاں نواز شریف اور مریم نواز کی گرفتاری کے بعد ہمدردی کا ووٹ مسلم لیگ ن کے امیدوار میجر طاہر اقبال کو ملنے کاامکان ہے ، یہاں پر پیپلز پارٹی کے محلہ جبار چلہ بھی میدان میں ہیں اور وہ پارٹی کے پرانے جیالوں اور کارکنوں کو باہر نکالنے کی کوشش میں ہیں۔ لہٰذا اس نشست پر ایک کانٹے دار مقابلہ ہوگا۔ حلقہ پی پی21پر پی ٹی آئی کے راجہ یاسر سرفراز کی انتخابی مہم میں بھی تیزی آگئی ہے جبکہ دوسری طرف مسلم لیگ ن کے چوہدری سلطان حیدر علی مستقل مزاجی اور دھیمے انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ اہلسنت والجماعت کی طرف سے حمایت ملنے سے حیدر سلطان کی پوزیشن بہتر ہوئی ہے۔تحریک خدام اہلسنت کا فیصلہ بھی آنے والا ہے، امکان یہی ہے کہ چوہدری سلطان حیدر کی حمایت یقینی ہے بہرحال چوہدری لیاقت مرحوم کی سیاسی خدمات بھی چوہدری سلطان کیساتھ ہیں لہٰذا اس نشست پر بھی کانٹے دار مقابلہ ہوگا۔ پیپلز پارٹی نے اس حلقے میں اپنا کوئی امیدوار نامزد نہیں کیا اور اس امر کا امکان ہے کہ ان کا زیادہ تر ووٹ چوہدری حیدر سلطان کوجائے گا۔ پی پی22میں مسلم لیگ ن کے ملک تنویر اسلم سیتھی اپنی عوامی خدمت کے پس منظر میں حلقے میں نکلے ہیں اور انہیں بڑی پذیرائی مل رہی ہے۔ البتہ انہیں میجر طاہر اقبال کے حوالے سے کئی جگہ پر ان کا بوجھ بھی اٹھانا پڑ رہا ہے۔ راجہ طارق افضل کالس پی ٹی آئی کے امیدوار اس حلقے میں نئے ہیں مگر سردار غلام عباس کی حمایت کی وجہ سے وہ بھی اب بھرپور پیش قدمی شروع کرچکے ہیں یہاں پر پیپلز پارٹی کے راجہ رضوان ڈنڈوت بھی میدان میں ہیں اور انہیں بھی حلقے میں ہاتھوں ہاتھ لیا جارہا ہے۔ حلقہ این اے65میں مسلم لیگ ق اور پاکستان تحریک انصاف کے مشترکہ امیدوار چوہدری پرویز الہٰی کی پوزیشن اس وقت سے کافی بہتر ہونا شروع ہوگئی ہے جب مسلم لیگ ن نے اپنے ایم این اے سردار ممتاز ٹمن کو ہٹا کر ان کی جگہ پر سردار فیض ٹمن کو ٹکٹ جاری کیا ہے ، سردار ممتاز ٹمن غصے میں آکر ٹریکٹر پر سوار ہوگئے ہیں جو چوہدری پرویز الہٰی کا انتخابی نشان ہے اور وہ حلقے میں بھرپور انتخابی رابطہ مہم شروع کیے ہوئے ہیں۔ اس حلقے میں سردار ممتاز ٹمن کا اپنا ذاتی ووٹ بینک بھی ہے جس کی وجہ سے چوہدری پرویز الہٰی فیورٹ دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں سردار فیض ٹمن بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔2008کے انتخابات میں سردار فیض ٹمن نے صرف 300ووٹوں کے فرق سے چوہدری پرویز الہٰی کو اسی حلقے سے شکست دی تھی۔ پیپلز پارٹی نے یہاں پر ملک ہاشم خان ترین کو میدان میں اتارا ہے جبکہ پی ٹی آئی کا ٹکٹ نہ ملنے پر سابق ایم این اے سردار منصور حیات ٹمن بھی آزاد امیدوار کی حیثیت سے جیپ پر سوار ہیں۔ پی پی23پر پی ٹی آئی کے سردار آفتاب اکبر بڑی قانونی لڑائیوں کے بعد بل آخر انتخابی عمل میں شامل ہوگئے ہیں ،2013کے الیکشن میں ان کے چچا سردار غلام عباس نے اسی حلقے سے 48ہزار ووٹ حاصل کیے تھے اور یہاں پر سرداران چکوال کا مضبوط ووٹ بینک ہے، مسلم لیگ ن کو یہاں اس وقت بڑا دھچکا لگا جب مسلم لیگ ن کے ٹکٹ ہولڈر سردار ذوالفقار علی خان دلہہ نے ٹکٹ واپس کرتے ہوئے حلقہ این اے64میں پی ٹی آئی کا ٹکٹ حاصل کرلیا جس کی وجہ سے مسلم لیگ ن یہاں پر ابھی تک سنبھل نہیں سکی ہے اور انہوں نے کرنل مشتاق اعوان کوہنگامی طور پر میدان میں اتارا ہے جو اس حلقے میں بالکل نئے ہیں اور بھرپور کوشش کر رہے ہیں کہ ملک سلیم اقبال اور ملک اسلم سیتھی کے ذریعے اپنے پاؤں جما سکیں۔ حلقہ پی پی24پر مسلم لیگ ق کے حافظ عمار یاسر جنہیں پی ٹی آئی کی بھی حمایت حاصل ہے میدان میں ہیں بلدیاتی انتخابات2015میں حافظ عمار یاسر نے تلہ گنگ اور لاوہ کی میونسپل کمیٹیوں میں شاندار کامیابی حاصل کر کے اس وقت کی مضبوط اور ناقابل شکست مسلم لیگ ن کو چیلنج کر دیا تھا اور اب حلقے میں تیز رفتار پیش قدمی کر رہے ہیں۔ ان کا مقابلہ مسلم لیگ ن کے شہریار اعوان کیساتھ ہے جو کہ نوجوان ہیں اور ضمنی الیکشن میں اپنے چچا ملک ظہور انور کی وفات کے بعد اسی حلقے سے ایم پی اے منتخب ہوئے تھے یہاں پر کانٹے دار مقابلہ بتایا جاتا ہے بہرحال حافظ عمار یاسر کو اپنے حریف پر نفسیاتی برتری حاصل ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر