یہ مکافات عمل ہے جناب

یہ مکافات عمل ہے جناب
 یہ مکافات عمل ہے جناب

  

مسلم لیگ (ن) کا گڑھ لاہور اور میاں نواز شریف کو  نیب والے ائیرپورٹ سے گرفتار کر کے لے جائیں ؟ انگلی کے اشارے پر گزشتہ دس سال تک  انتظامیہ کو نچانے والے میاں شہباز شریف  لوہاری سے ائیر پورٹ  اپنے بڑے بھائی کو ملنے نہ پہنچ سکیں ؟ان کے لئے اتحاد ائیر لائن کی فلائٹ بھی لیٹ ہوئی  کہ شائد میاں شہباز شریف  پہنچ ہی جائیں مگر  بقول شاعر  سجن  بے ایمان نکلا۔ ِِ۔۔  

تیرا جولائی کی حبس زدہ رات  اور خاموش ماحول میں میاں نواز شریف اپنی صاحبزادی  مریم نواز کے ہمراہ  اتحاد ائیرلائن کے طیارے سے باہر نکلے تو وہ جان چکے تھے کہ یہاں معاملات انکی امنگوں کے  مطابق نہیں بلکہ  الٹ ہیں۔ان کو باور کرایا گیا تھا کہ وہ لاہور اپنے قلعے میں واپس پہنچیں گے  تو عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر جہاز کو گھیر لے گا ۔متوالے انہیں کندھوں پر اٹھا لیں گے اور پھر ہر طرف شیر ہی شیر ہوگا،وزیر اعظم نواز شریف  ہوگا  باقی ہر شے خس و خاشاک کی طرح بہہ جائے گی۔افسوس ہوا،  باقی پنجاب کو تو  چھوڑیں میاں صا حب کی واپسی پرلاہور نے بھی  ان کا وہ استقبال  نہ کیا جو ان  کا حق تھا ۔میاں شہباز شریف ائر پورٹ ہی نہ پہنچے۔کیوں ؟اب وہ جتنی چاہے وضاحتیں دیں سب ناکافی ہیں۔سیاست میں شائد یہی ہوتا ہے؟محبت اور جنگ کے بعد  اب سیاست میں بھی سب جائز ہے۔اقتدار کا کھیل تو بہت ہی باریک کھیل ہے ۔  کیا یہ مکافات عمل نہیں جو آج شریف خاندان کے ساتھ ہو رہا ہے؟

آج جو کچھ سابقہ حکمران خاندان کے ساتھ ہورہا ہے وہ مکافات عمل سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔میاں صاحب سمجھ رہے تھے کہ ائیرپورٹ پر عوام کا سونامی آجائے گا اور انتظامیہ کو انہیں گرفتار کرنا اور لاہور سے اسلام آباد شفٹ کرنا ناممکن ہو گا لیکن سوائے نگران حکومت کی چند بونگیوں کے علاوہ ن لیگ کو کوئی فائدہ نہیں ہوسکا۔اگر نگران حکومت کنٹینر لگا کر راستے بند نہ کرتی اور موبائل فون سروس بند نہ ہوتی تو شاید اتنا شو  بھی  نہ ہوتا   جو ہوا  ۔مسلم لیگ  کے کئی راھنما  پیدل چلنے کی ایکٹنگ کر رہے تھے اور کچھ نظر ہی نہ  آئے    عوام نے  تو  میاں صاحب کا ساتھ نہیں دیا  مگر  ان کے اپنے ہی ان سے دور   رہنے  کا میسیج دے رہے ہیں  ۔ میاں شہباز شریف جو  ان کے سیاسی جانشین بن چکے ہیں وہ دانستہ ائیرپورٹ نہیں گئے اور جب کوئی اپنا ائیرپورٹ نہ   جائے تو دوسرے کیا خاک جائیں گے،میاں شہباز شریف اور حمزہ شہباز لاہور میں ہی ریلیوں کی قیادت کرتے رہے  ، مجھے تو ایسے  لگا کہ وہ  میاں نواز شریف کا استقبال   کرنے کے لئے  نہیں نکلے  بلکہ اپنی الیکشن کمپین کےلئے نکلے تھے ۔

  اس دفعہ سوشل میڈیا نے  بھی بہت اہم کردار ادا کیا خصوصاً اس پیغام نے لوگوں کو بہت متاثر کیا ہے کہ خود تو میاں صاحب کے صاحبزادے لندن میں بیٹھے ہیں اور وہ یہاں لوگوں کے بچوں کو پیغام بھیجوارہے ہیں کہ وہ باہر نکل کر احتجاج کریں ۔دراصل صورتحال یہ ہے کہ اس وقت پاکستان کے   عوام بھی ان تمام چیزوں سے  تنگ آ  چکے ہیں بدظن ہوچکے  ہیں   اور وہ تبدیلی چاہتے ہیں چہروں کی ہی نہیں نظام کی تبدیلی اس لیے آج  وہ لوگ جو    نسل در نسل ن لیگ کے سپورٹر  رہے    وہ بھی کہ رہے   ہیں کہ ایک دفعہ عمران کو بھی موقع دینا چاہیے۔دیکھا جائے تو یہ عمران خان کی فتح ہی ہے کہ انہوں نے اپنے دور حکومت میں ہی میاں نواز شریف کو فارغ کروایا بلکہ پہلی دفعہ انہیں سزا بھی دلوا دی جو یہ سوال کرتے تھے کہ مجھے کیوں نکالا یا ایک دھیلے کی کرپشن ثابت کردی جائے تو وہ آج سرٹیفائیڈ سزا یافتہ بن چکے ہیں اور قسمت کی ستم ظریفی  دیکھیں کہ پنجاب میں گزشتہ چالیس سال سے حکومت کرنے والوں کی گرفتاری پر نہ تو کوئی شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوئی اور نہ ہی کسی قسم کی کوئی بڑی احتجاجی لہر  اٹھی۔ 

یہ امر تمام پاکستانی سیاستدانوں کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے کہ وہ اندازہ لگا لیں جب کوئی عوام کے لیے  کام نہیں کرے گا تو اب عوام بھی اس کے لیے باہر نہیں نکلے گی ۔عمران خان نے پاکستان کی سیاست میں اس تبدیلی کو  لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے جس کی وجہ سے آج ایک عام آدمی سے لے کر اپنے اپنے علاقے کے بڑے زمیندار وڈیرے اور الیکٹ ایبلز عمران خان کی جماعت میں شامل ہونے کے لیے بے تاب ہیں۔آج کے لوگ   بہت زیادہ باشعور اور سمجھدار ہیں   وہ جانتے ہیں کہ ان کے ساتھ کیا کیا وعدے کیے  گئے   اور ان پر کس طرح عمل درآمد کیا جارہا ہے۔لوگوں کا یہ خیال تھا کہ نوازشریف کی گرفتا ری سے ملک میں ایک کہرام مچ جائے گا عوام سڑکوں پر نکل کر سب کچھ بند کردیں گے   لیکن پاکستانی عوام نے ثابت کردیا کہ وہ اتنا شعور تو رکھتے ہیں کہ کس کے لیے سڑکوں پرنکلنا ہے اور کس کے لیے نہیں نکلنا ۔دوسری طرف پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف گزشتہ چند دنوں سے صرف اور صرف بڑھکیں مار رہے ہیں کہ ہمیں روکنے والے اور گرفتار کرنے والے یہ دیکھ لیں کہ انہوں نے جلد ہی ہمارے نیچے ہونا ہے اور وہ ان سب کو چھبیس جولائی کوگرفتار کروا دیں گے،ویسے تو الیکشن کمیشن کو چاہیے کہ وہ ان دھمکیوں کا   فوری طور پر نوٹس لے اور ان کے خلاف تادیبی کارروائی کا آغاز کرے۔کیونکہ یہ کسی بھی انتخابی قاعدے کے مطابق نہیں کہ ایک انتخابی امیدوار انتظامیہ اور پولیس   کو دھمکیاں دے اور انہیں کہے کہ وہ منتخب ہوکر انہیں گرفتا رکروا دے گا۔اب تو شاید ن لیگ کے ہاتھوں سے وقت نکل  چکا   ہے  مگر   شہباز شریف اب  بھی شاید عوام اور فیصلہ ساز حلقوں کو یہ باور کروانے کی کوشش میں ہیں کہ انہیں پنجاب کی ہی وزارت اعلیٰ    دے دی جائے  لیکن یہ بھی ممکن نظر نہیں آرہا ۔ ایک طویل عرصے  کے بعد  کوئی   جماعت پنجاب میں ن لیگ کو ٹف ٹائم دینے جارہی ہے ۔رہی پیپلز پارٹی تو  اس کے ہاتھ سے تو اب  سندھ بھی نکلتا دکھائی دے رہا ہے۔

 ۔۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ