جب رسول خدا ﷺ کے آزاد کردہ غلام کاجنگل میں ایک شیرسے ٹاکراہوگیا تو آپؓ نے کہا ” اے ابو حارث ،میں حضور نبی اکرم ﷺ کا غلام ہوں“ جواب میں شیر نے نبیﷺ کے غلام کے ساتھ کیا کام کیا ؟ جان کر رسول پاک ﷺ کا ہر غلام خوشی سے جھوم اٹھے گا

جب رسول خدا ﷺ کے آزاد کردہ غلام کاجنگل میں ایک شیرسے ٹاکراہوگیا تو آپؓ نے کہا ...
جب رسول خدا ﷺ کے آزاد کردہ غلام کاجنگل میں ایک شیرسے ٹاکراہوگیا تو آپؓ نے کہا ” اے ابو حارث ،میں حضور نبی اکرم ﷺ کا غلام ہوں“ جواب میں شیر نے نبیﷺ کے غلام کے ساتھ کیا کام کیا ؟ جان کر رسول پاک ﷺ کا ہر غلام خوشی سے جھوم اٹھے گا

  

حضورﷺ کے غلاموں کے غلاموں کو بھی اپنے آقاﷺ سے نسبت پر ناز ہوتا ہے اور دنیا کی کوئی شرپسند قوت ان کا بال بیکا نہیں کرسکتی ۔علامہ طاہر القادری نے اپنی کتاب” کشف الاسرار“ میں معجزات رسولﷺ بیان کرتے ہوئے ایک شیر کا واقعہ بھی بیان کیا ہے جس نے نبی پاکﷺ کے آزاد کردہ غلام کے منہ سے رسول اللہﷺ کا نام مبارک سن کر اپناسر خم کردیا اور اس غلام کی دوسرے درندوں سے حفاظت فرمائی تھی۔اس معجزہ کا ذکر امام حاکم ، طبرانی اور بخاری نے تاریخ کبیر میں روایت کیا ہے ۔جبکہ ابن راشد اور بیہقی نے بھی یہی واقعہ صحت کے ساتھ بیان کیا ہے ۔

حضرت سفینہؓ رسول خداﷺ کے آزاد کردہ غلام تھے،نسلاً رومی تھے۔ ۔وہ اس واقعہ کے راوی ہیں ،فرماتے ہیں ” میں سمندر میں ایک کشتی پر سوار ہو ا۔ یہ کشتی ٹوٹ گئی تو میں اس کے ایک تختے پرسوار ہوگیا۔ اس نے مجھے ایک ایسی جگہ پھینک دیاجو شیر کی کچھار تھی۔ وہی ہوا جس کا ڈر تھا کہ وہ (شیر) سامنے تھا۔ میں نے کہا” اے ابو الحارث (شیر کی کنیت) میں حضور نبی اکرم ﷺ کا غلام ہوں“ تو اس نے فوراً اپنا سرخم کر دیا اور اپنے کندھے سے مجھے اشارہ کیا اور وہ اس وقت تک مجھے اشارہ اور رہنمائی کرتا رہا جب تک کہ اس نے مجھے صحیح راہ پر نہ ڈال دیا۔ پھر جب اس نے مجھے صحیح راہ پر ڈال دیا تو وہ دھیمی آواز میں غرایا۔ سو میں سمجھ گیا کہ وہ مجھے الوداع کہہ رہا ہے۔“

دوسری حدیث میں یہ واقعہ یوں بیان ہوا ہے حضرت ابن منکدار ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سفینہ ؓ جو کہ حضور نبی اکرم ﷺ کے آزاد کردہ غلام تھے ایک دفعہ روم کے علاقہ میں لشکرِ اسلام سے بچھڑ گئے یا وہ ارضِ روم میں قید کر دیئے گئے۔ وہ وہاں سے بھاگے تاکہ لشکر سے مل سکیں کہ اچانک ایک شیر ان کے سامنے آگیا۔ انہوں نے اس سے کہا” اے ابو حارث ! میں حضور نبی اکرم ﷺ کا غلام ہوں اور میرا معاملہ اس طرح ہے کہ میں لشکر سے بچھڑ گیا ہوں “۔ یہ سننا تھا کہ شیر فوراً دُم ہلاتا ہوا ان کی طرف آیا اور ان کے پہلو میں کھڑا ہوگیا۔ جب بھی وہ (کسی درندے کی ) آواز سنتا تو وہ شیر فوراً حضرت سفینہؓکے آگے آجاتا (جب خطرہ ٹل جاتا تو ) پھر وہ واپس آجاتا اور ان کے پہلو میں چلنا شروع کر دیتا۔ وہ اسی طرح ان کے ساتھ چلتا رہا یہاں تک کہ وہ لشکر میں پہنچ گئے۔ اس کے بعد شیر واپس لوٹ آیا۔“

مزید : روشن کرنیں