فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر476

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر476
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر476

  

رنگیلا کو دیکھ لیجئے۔ ایک بار کامیڈی کرداروں میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد وہ سب سے مقبول مزاحیہ اداکار بن گئے تھے۔ منور ظریف اور بعد میں ننھا کے ساتھ ان کی جوڑی بہت کامیاب رہی تھی۔ رنگیلا ہمہ صفت موصوف انسان ہیں جو تعلیم سے محرومی کے باوجود بے پناہ صلاحیتوں کے مالک ہیں۔ ان صلاحیتوں کا مظاہرہ انہوں نے فلم ساز اور ہدایت کار کی حیثیت سے بھی کیا۔ یہاں تک کہ انہوں نے گلوکاری بھی کی اور ان کے گائے ہوئے گیتوں نے بہت شہرت حاصل کی۔ ایک نغمہ بے حد مقبول ہوا تھا اور آج بھی سب کو یاد ہے۔

گا میرے منوا گاتا جارے

جانا ہے ہم کا دور

رنگیلا پر بھی عروج کے بعد زوال کا دور آیا مگر انہوں نے ہمت نہ ہاری اور مزاحیہ کرداروں میں بھی کام کرتے رہے۔ حالانکہ ایک وقت ایسا بھی تھا جب انہوں نے ہیرو کی حیثیت سے کئی کامیاب فلموں میں کام کیا تھا اور اس وقت کی کئی ہروئنیں ان کے ساتھ کام کر چکی تھیں۔

رنگیلا نے اپنی فلم ’’خوبصورت شیطان ‘‘ کا آغاز کیا جس کے ہدایت کار ‘ فلم ساز ‘ موسیقار اور نغمہ نگار بھی وہ خود ہی تھے۔ اس فلم میں انہوں نے اداکاری بھی کی تھی۔ اس فلم میں انہوں نے اپنے بیٹے سلمان کو بھی ایک نمایاں کردار سونپا تھا مگر بدقسمتی سے یہ فلم بری طرح فلاپ ہوگئی۔ رنگیلا کے لیے تو یہ کوئی نئی بات نہ تھی مگر سلمان کے لیے یہ بہت بڑا دھچکا تھا۔ اس کے بعد کسی اور فلم ساز اور ہدایت کارنے انہوں اپنی فلم میں کاسٹ کرنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر475پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

غالب کمال ایک اور بڑے ہیرو ’ فلم ساز اور ہدایت کار کمال کے بیٹے ہیں ۔ صورت شکل بھی اچھی ہے اور کسی حد پر تھے اور فلم سازی و ہدایت کاری کبھی کر رہے تھے اس وقت غالب بہت چھوٹے تھے۔ انہیں ہدایت کار ظہور حسین گیلانی نے فلم ’’مہندے ‘‘ میں موقع دیا تھا مگر یہ فلم ناکام ہوگئی ۔ ایک اور فلم ’’چوروں کے چور‘‘ میں بھی انہوں نے کام کیا مگر قسمت نے یاوری نہ کی۔

اس طرح غالب کمال فلمی دنیا سے ’’ غائب کمال ‘‘ ہوگئے ۔ اس کے بعد انہوں نے چند ٹی وی ڈراموں میں کام کیا اور کمپیئرنگ بھی کی۔ ان کا انداز مزاحیہ ہے۔ شخصیت بھی پر اثر ہے لیکن فلموں کے بعد ٹی وی میں بھی وہ کامیابی حاصل نہ کرسکے۔ وہ اب بھی کبھی کبھی کسی ٹی وی ڈرامے میں نظر آتے ہیں مگر وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی۔ یعنی وہ اپنے نامور باپ کے پاسنگ بھی نہیں ہیں۔

ایک مثال جو قدرے بہتر ہے ارباز خان کی ہے۔ ارباز خان اداکار آصف خان کے صاحب زادے ہیں۔ آصف خان نے یوں تو اردو پنجابی فلموں میں بھی اداکاری کی ہے لیکن دراصل وہ پشتو فلموں کے سپر اسٹار ہیں ان کے بیٹے ارباز خان نے اپنی ادکاری کا آغاز اردو فلموں سے کیا۔ قابلِ ذکر فلموں میں سیدنور کی فلم ’’دوپٹہ جل رہا ہے ‘‘ شامل ہے۔ اس فلم میں ان پر فلمایا ہوا ایک نغمہ بھی بہت مقبول ہوا تھا مگر اس کے باوجود ارباز خان صفِ اوّل کے ہیرو نہ بن سکے ۔ اب بھی وہ فلموں میں اکاری کرتے ہیں لیکن ممتاز نہیں ہوسکے پھر بھی وہ دوسرے فنکاروں کے بیٹوں کے مقابلے میں کامیاب کہے جا سکتے ہیں۔

منور ظریف کو پنجابی اور اردو فلموں میں شہنشاہِ ظرافت نے کا لقب دیا گیا تھا۔ اپنی بے پناہ صلاحیتوں کی وجہ سے انہوں نے بہت شہریت حاصل کی تھی۔ وہ ایک نامور اور مزاحیہ اداکار ظریف کے چھوٹے بھائی تھے مگر مقبولیت اور شہرت کے جیسے معاملے میں ظریف سے بھی آگے نکل گئے تھے حالانکہ ظریف جیسے ذہین اور باصلاحیت مزاحیہ ادکار پاکستان میں بہت کم سامنے آئے ہیں۔ وہ اردو اور پنجابی دونوں فلموں میں یکساں مہارت سے اداکاری کرتے تھے۔ منور ظریف ان ہی کے چھوٹے بھائی تھے جس نے ثابت کر دیا تھا کہ بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ۔

بہرحال ، منور ظریف نے طویل عرصے تک فلمی دنیا میں راج کیا اور پھر جوانی میں ہی انتقال کر گئے۔ ان کے بیٹے فیصل ظریف کے نام سے فلموں میں جلوہ گر ہوئے الطاف حسین جیسے کامیاب و ہدایت کارنے انہیں فلم ’’پتر منور ظریف دا ‘‘ میں پیش کیا تھا مگر یہ تعارف بھی انہیں کامیابی نہ دلا سکا۔ انہوں نے ایک اور فلم ’’پتر جیرے بلیڈ دا ‘‘ میں بھی اداکاری کی تھی۔

’’جیرا بلیڈ‘‘ منور ظریف کی کامیاب ترین فلموں میں سے ایک تھی مگر اس بار بھی وہ کامیاب نہ ہوسکے۔ ان کی تیسری اور آخری فلم ’’کھوٹے سکے‘‘ تھی جو کہ اپنے نام کے مطابق ہی کھوٹا سکہ ثابت ہوئی۔ ان مسلسل ناکامیوں نے فیصل ظریف اور فلم سازوں کو مایوس کر دیا اور وہ فلمی دنیا سے لاپتا ہوگئے۔

نواز خان پشتو فلموں کی اداکارہ نگینہ خانم کے صاحب زادے ہیں۔ انہیں ہدایت کار جلال خٹک نے فلم ’’اور چوڑیاں ٹوٹ گئیں ‘‘ میں پہلی مرتبہ اداکاری کا موقع دیا تھا۔ جیسا کہ نام ہی سے ظاہر ہے کہ یہ ایک معاشرتی اور موضوعاتی فلم تھی۔ یہ ہر لحاظ سے ایک اچھی فلم تھی سوائے اس کے کہ فلم سے وابستہ لوگوں کی قسمت اچھی نہیں تھی۔ یہ فلم سخت ناکامی سے دوچار ہوئی۔ جن لوگوں نے اس فلم کو دیکھا انہوں نے اسے پسند کیامگر عام فلم بینوں تک اس کی رسائی نہ ہوسکی۔ اس کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ اس اردو فلم کے ہدایت کار اور فن کار وغیرہ سبھی نئے اور غیر معروف تھے ۔ اگر اس کی مناسب پبلسٹی کی جاتی تو یہ بہت کامیابی حاصل کر سکتی تھی مگر وسائل کی کمی مانع رہی۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ نواز خان کو اس کے بعد ادکاری کا موقع نہیں ملا۔ انہوں نے کئی فلموں میں اداکاری کی جن میں ’’جینے دو ‘‘ جنگل کوئن ‘ دنیا دیکھے گی ‘ دیکھا جائے گا ‘ نوبے بی نو ‘ دشمن زندہ رہا شامل ہیں مگر کوئی ایک فلم بھی کامیاب نہ ہوسکی۔ اس کے بعد فلمی صنعت کا پیمانہ صبر لبریز ہوگیا اور نواز خان فلموں میں نظر نہ آئے۔

اقبال کاشمیری ایک کامیاب اور خوش قسمت ہدایت کار سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے سپرہیٹ پنجاب فلمیں بھی بنائی ہیں اور بے حد کامیاب اور اردو فلموں کے ہدایت کار ہونے کا اعزاز بھی انہیں حاصل ہے۔ جو ڈر گیا وہ مر گیا اس کی واضح مثال ہے۔ پنجابی فلموں میں انہوں نے بہت سی سپرہٹ فلمیں بنائی ہیں۔ ایک وقت تھا جب ان کا نام فلم کی کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا تھا۔ سلطان راہی کوممتاز کردار سونپ کر اسٹار بنانے کاسہرا بھی ان ہی کے سر ہے۔ سلطان راہی اس وجہ سے تمام عمران کا بے حد احترام اور لحاظ کرتے رہے۔

اقبال کاشمیری جواداکار ساز کہلاتے ہیں خود اپنے بیٹے کو اسٹار نہ بنا سکے۔ ان کے بیٹے فیصل نے بچپن ہی میں اداکاری کا آغاز کر دیا تھا۔ ہماری بطور فلم ساز پہلی فلم ’’کنیز ‘‘ میں بھی انہوں نے ایک اہم کردار ادا کیا تھا۔

اقبال کاشمیری نیا نہیں سوچ سمجھ کر اپنی فلم ’’ممی ‘‘ میں مرکزی کردار کے لیے منتخب کیا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ یہ فیصل کا بہترین ذریعہ تعارف ہوگا۔ اس فلم میں ان کے بالمقابل ریما جیسی ہیروئن تھیں۔ ’’جو ڈر گیا وہ مر گیا ‘‘ کے بعد عتیقہ اور ڈھو بھی اس فلم میں ایک اہم کردار میں پیش کی گئی تھیں ‘ مگر تقدیر کے آگے کس کا بس چلا ہے۔ ’’ممی ‘‘ کو اقبال کاشمیری ایک شاہکار بنانا چاہتے تھے مگر یہ بے حد ناکام اور بکار فلم ثابت ہوئی ۔ جب اتنے نامور ہدایت کارہی اپنے بیٹے کو کامیاب نہ کراسکے تو پھر دوسرے ہدایت کار کیوں کر ہمت کرتے ؟ اس طرح فیصل اقبال ایک ہی فلم میں کام کرنے کے بعد لاپتا ہوگئے۔

پاکستانی فنکارہ نشو اپنے زمانے کے معروف ہیروئن تھیں۔ انہوں نے نغمہ نگار تسلیم فاضلی سے بھی شادی کی تھی مگر یہ ان کی پہلی شادی نہ تھی۔ تسلیم فاضلی شادی کے چند سال بعد ہی اچانک ہارٹ فیل کی وجہ سے انتقال کر گئے۔ اس وقت وہ جوان العمر ہی تھے ۔ نشو نے چند سال قبل اپنے شوہر کی بیٹی کو صاحبہ کے نام سے فلمی دنیا میں متعارف کروایا۔ صاحبہ نے بہت جلد ایک اداکارہ اور قاصہ کی حیثیت سے شہرت حاصل کرلی۔ ایک زمانے میں وہ اداکار جان ریمبو (افضل) کے ساتھ اکثر فلموں میں کام کیا کرتی تھیں ۔ اسی دوران میں باہمی دلچسپی اور پھر محبت نے جنم لیا۔ نشو اس شادی کے حق میں نہ تھیں مگر بیٹی کی ضد کے آگے ہار مان لی اور صاحبہ کی ریمبو کے ساتھ شادی ہوگئی۔ اب یہ دونوں ایک خوبصورت بچی کے والدین ہیں۔ صاحبہ نے شادی کے بعد ادکاری ترک کر دی اور گھر داری سنبھال لی۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ