عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔ قسط نمبر 22

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔ قسط نمبر 22
عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔ قسط نمبر 22

  

معاً اس کے ذہن میں ایک خیال آیا اور اگلے لمحے اس نے اپنے کمرے کے دروازے پر موجود خادم کی وساطت سے محل کے منتظم اعلیٰ کو بلوا بھیجا۔ اب وہ طاہر سے کوئی بات نہ کررہا تھا بلکہ پریشانی کے عالم میں کمرے کے فرش پر ٹہل رہاتھا ۔ کچھ ہی دیر بعد محل کا منتظم اعلیٰ اجازت لے کر کمرے میں داخل ہوا۔ اس کے چہرے پر کسی قدر تجسس کی رمق تھی۔ وہ اندر داخل ہوا اور مؤدب انداز میں ایک جانب کھڑا ہوگیا ۔ شہزادہ محمد نے منتظم اعلیٰ سے دریافت کیا۔

’’علی خان!........آج سے تین ہفتے قبل شاہی سراغ رساں قاسم بن ہشام ہم سے ملنے کے لیے محل میں حاضر ہوئے تھے۔ لیکن وہ ہم تک نہیں پہنچے۔ آپ اس سلسلے میں ہمیں کیا بتاسکتے ہیں؟‘‘

شہزادے کی بات سن کر علی خان کے چہرے پر خوف کے سائے نظر آنے لگے۔ اس نے کانپتی ہوئی آواز کے ساتھ جواب دیا۔ ’’شہزادہ حضور ! آج سے تین ہفتے قبل قاسم بن ہشام یہاں آئے تھے۔ لیکن آپ سے ملنے کی بجائے شہزادہ علاء الدین ........‘‘

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔ قسط نمبر 21پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

محل کا منتظم اعلیٰ کچھ بتاتے بتاتے رک گیا ۔ اس کے اندزِ گفتگو نے شہزادے کے ساتھ ساتھ طاہر کو بھی چونکا دیا۔ ضرور کوئی بات تھی جسے بتاتے ہوئے علی خان ڈر رہا تھا ۔ اچانک شہزادہ محمد گرجا:۔

’’علی خان ! رک کیوں گئے؟ ہمیں بتاؤ کہ قاسم بن ہشام ، بھائی جان سے ملنے کے بعد کہاں گئے؟ ڈرومت۔ تمہیں جو کچھ معلوم ہے سچ سچ بتادو۔‘‘

ا ب طاہر کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ خداجانے علی خان کیا بتانے والاتھا ۔ شہزادہ محمد اور طاہر کی نگاہیں علی خان کے چہرے پر گڑی ہوئی تھیں۔ اچانک علی خان نے انکشاف کیا کہ شہزادہ علاؤالدین نے قاسم بن ہشام کو ادرنہ میں نقص امن پیدا ہوجانے کے ڈر سے سلطانِ معظم کی آمد تک شاہی زندان میں نظر بند کر رکھا ہے۔ شہزادہ محمد کے لیے یہ خبر غیر متوقع تھی۔ اسے یہ تو معلوم تھا کہ اس کا بڑا بھائی ولی عہد سلطنت ہے اور سلطان کی عدم موجودگی میں احکام جاری کرسکتا ہے۔ لیکن اسے یہ توقع نہ تھی کہ اس کا بڑا بھائی قاسم بن ہشام جیسے کھرے اور مخلص مردِ مجاہد کو نظر بند کردے گا۔اسے کچھ سمجھ نہ آرہی تھی کہ کیا کرے۔ ظاہر ہے شہزادہ علاؤالدین، شہزادہ محمد سے بڑا بھی تھا اور بااختیار بھی۔

طاہر بن ہشام کی حالت بھی غیر تھی۔ اسے تو سرے سے کچھ معلوم ہی نہ تھا کہ شہزادہ علاؤالدین نے کون سے نقص امن کا خطرہ ظاہر کیا ۔ طاہر اور شہزادہ محمد ایک ہی انداز میں سوچ رہے تھے کہ قصرِ سلطانی کی منتظم اعلیٰ علٰی خان نے انہیں چونکا دیا۔

’’شہزادہ حضور! دراصل شاہی سراغ رساں قاسم بن ہشام نے خطیب مغرب ابوجعفر کو اچانک گرفتار کر لیا تھا اور یہ شک ظاہر کیا تھا کہ یہ شخص ادرنہ میں قیصر کے جاسوسوں کا سرغنہ ہے..........اور آپ تو جانتے ہیں کہ شہزادہ علاؤالدین ، خطیب مغرب ابوجعفر کی بہت زیادہ عزت کرتے ہیں۔ شہزادہ علاؤالدین کا خیال تھا کہ قاسم بن ہشام نے ایک معزز شخص کو گرفتار کرکے ادرنہ میں نقصِ امن کا خطرہ پیدا کردیا ہے.........یہی وجہ ہے کہ انہوں نے قاسم بن ہشام کو نظر بند کردیا۔‘‘

اب شہزادے نے اطمینان کی سانس لی۔ کیونکہ اسے واقعہ کی حقیقت معلوم ہوچکی تھی۔ اس نے اسی وقت اپنے بڑے بھائی کو ملنے کا فیصلہ کیا اور علی خان کو جانے کی اجازت دے دی۔ اب وہ شہزادہ علاؤالدین کے پاس جانا چاہتا تھا ۔ اس نے طاہر بن ہشام کو مہمان خانے میں انتظار کرنے کے لیے بٹھادیا اور خود شہزادہ علاؤالدین کے کمرہء خاص کی جانب بڑھ گیا ۔

شہزادہ علاؤالدین کے لیے محمد کی بات بچگانہ تھی ۔ اس نے شہزادہ محمد کی بات سن کر کہا۔’’ سلطانِ معظم کی واپسی سے پہلے میں اس نالائق سراغ رساں کو نہیں چھوڑ سکتا ۔ اگر خدانخواستہ سلطان کی عدم موجودگی میں ادرنہ کے اندر بغاوت اٹھ کھڑی ہوئی تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟‘‘

لیکن شہزادہ محمد اس بات سے مطمئن نہ ہوا۔ اس نے احتجاج سے بھرپور لہجے میں کہا۔ ’’برادرذی وقار !........آپ یہ کیوں نہیں سوچتے کہ اس نوجوان کو خود سلطانِ معظم نے ادرنہ میں ہونے والی سازش کا سراغ لگانے کے لیے شاہی سراغ رساں مقرر فرمایا ہے۔اب اگر آپ کی وجہ سے اس کا کام تعطل کا شکار ہو گیا تو اس کی ذمہ داری کس پر ہوگی؟‘‘

شہزادہ محمد کی بات شہزادہ علاؤالدین پر ذرا بھر بھی اثر انداز نہ ہوئی۔ بلکہ اس نے پہلے سے بھی زیادہ سخت لہجے میں کہا۔

’’محمد ! تم ابھی بچے ہو۔ تمہیں کیا معلوم یہ شخص قاسم بن ہشام حقیقت میں کون ہے۔ ہمیں خطیب مغرب ابوجعفر نے بتایا ہے کہ یہ شخص گذشتہ تہوار میں اچانک نمودار ہوا اور آن کی آن میں سلطانِ معظم نے خود اس شخص کو اپنے ہمراہ چلنے کا حکم دیا تھا تو اس نے بہانے بازی سے کام لے کر یہیں دارالسلطنت میں رہنے اور کسی ان دیکھی سازش کا قلع قمع کرنے کی بات کردی۔ اس پر سادہ لوح سلطانِ معظم نے اس مشتبہ شخص کی بات مان لی اور اسے اپنے ہمراہ میدانِ جنگ میں لے جانے کی بجائے یہیں ادرنہ میں چھوڑ دیا..........تم جانتے ہو کہ ابوجعفر ہماری سلطنت کے پرانے وفادار ہیں۔ یہی بات قاسم بن ہشام کو کھٹکی اور اس نے ہمارے وفادار ابوجعفر کو گرفتار کرلیا۔ ہمیں جونہی بہرام خان نے اس گرفتاری کی اطلاع دی ہم نے ابوجعفر کو رہا کرنے اور قاسم کو گرفتار کرنے کا حکم دے دیا...........تم مطمئن رہو۔ ہم نے جو کچھ بھی کیا ہے سلطنت کے لیے کیا ہے۔ چند ہی دنوں میں سلطانِ معظم کی واپسی ہونے والی ہے۔ سلطانِ معظم کے آتے ہی ہم تمام حقیقت حال ان کے سامنے بیان کردیں گے ۔‘‘

شہزادہ محمد نے اندازہ لگا لیا تھا کہ ابوجعفر اس کے بھائی کو پوری طرح اپنے شیشے میں اتار چکا ہے۔ اس نے سوچا کہ شہزادہ علاؤالدین اس کی کوئی بات نہ مانے گااور قاسم کو سلطان کی آمد سے پہلے کبھی رہا نہ کرے گا۔ یہی سوچ کر وہ خاموش رہا اور اپنے بھائی سے اجازت لے کر چلا آیا۔ اب اس کے ذہن نے کچھ اور سوچ لیا تھا ۔ وہ تیز تیز قدموں سے چلتا ہوا مہمان خانے کی جانب آیا اور آتے ہی قاسم کے بھائی طاہر کو اپنے نئے منصوبے سے آگاہ کیا ۔ اس نے طاہر سے کہا:۔

’’شہزادہ علاؤالدین کو ابوجعفر اپنے شیشے میں اتار چکا ہے۔ لہٰذا ان سے کوئی توقع نہیں کہ وہ آپ کے بھائی اور ہمارے دوست قاسم بن ہشام کو سلطان کی آمد سے قبل رہا کر دیں۔ لیکن ہمیں اندیشہ ہے کہ قاسم بن ہشام کی نظربندی کے دوران سلطنت کے غدار اپنا کام کرجائیں گے.........آپ ایک تکلیف کیجیے! اپنے لیے بھی ، سلطنت کے لیے بھی اور ہمارے لیے بھی۔‘‘

شہزادہ محمد اتنا کہہ کر خاموش ہوگیا تو طاہر نے کہا۔’’آپ جو کچھ فرمانا چاہتے ہیں بے فکر ہوکر فرما دیجیے! میں آپ کے ہر مشورے کو بسروچشم قبول کروں گا۔‘‘

طاہر کی بات سے شہزادہ محمد خوش ہوا اور دوبارہ کہنے لگا’’آپ یوں کیجیے کہ کل صبح ہی ہمارا خط لے کر انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ اشیائے کوچک کی جانب چل دیجیے اور خود سلطانِ معظم کو ساری صورتحال سے مطلع کیجیے۔ مجھے یقین ہے کہ سلطان معظم شہزادہ علاؤ الدین کی جانب فی الفور کوئی سخت پیغاروانہ فرمائیں گے۔‘‘

طاہر نے فوراً حامی بھرلی اور پر جوش لہجے میں کہا:۔

’’ آپ کا مکتوب کس وقت مجھے ملے گا؟‘‘

آپ ابھی جاکر سفر کی تیاری کیجیے ۔ کل علی الصبح روانہ ہونے سے پہلے آپ کے پاس ہمارا خط پہنچ جائیگا۔‘‘

شہزادہ محمد اور طاہر کے درمیان کچھ دیر باقی معاملات کی تفصیل طے ہوتی رہیں۔ اور پھر طاہر اجازت لے کر قصرِ سلطانی سے نکل آیا۔ اب اس کی کیفیت عجیب تھی۔ وہ کسی حد تک مطمئن بھی تھا ۔ کیونکہ اسے معلوم ہوچکاتھا کہ اس کا بھائی کہاں ہے؟ اور کس حال میں ہے؟ وہ تیز تیز قدموں سے ملاقاتیوں کے ا صطبل کی جانب آگیاور اپنا گھوڑ اکھول کر اپنے گھر کی جانب چل دیا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اس کے بچے کتنے خوش ہوں گے جب انہیں معلوم ہوگا کہ ان کا پیارا چچا خیر خیریت سے صحیح سلامت قصرِ سلطانی میں موجودہے۔ وہ اگلے روز کے سفر کے متعلق سوچتا ہوا جونہیں اپنے مکان کے درواذے پر پہنچا تو یہ دیکھ کر اس کے ماتھے پر بل پڑ گئے کہ مکان کے درواذے سے باہر ایک چھوٹی بگھی کھڑی تھی۔ ایسے لگتا تھا جیسے کوئی مہمان خاتون اندر موجود ہو۔ طاہر سوچنے لگاکہ ایسی مہمان کو ن ہوسکتی ہے؟ کیونکہ وہ جانتا تھا کہ ادرنہ میں اس کے ملنے والوں کی تعداد بہت کم ہے۔ خصوصاًاس کے گھریلو تعلقات تو کسی ایسے شخص کے ساتھ نہیں جن کی خواتین بگھیوں میں سفر کرتی ہیں۔ یہ ضرور طبقہء امراء کی کوئی خاتون ہو سکتی ہے۔ بہرحال اسی قسم کی باتیں سوچتا ہوا طاہر بن ہشام اپنے گھر میں داخل ہوا ۔ اس کے بچے صحن میں کھیل رہے تھے۔وہ بھاگتے ہوئے طاہر کے پاس آئے اور اپنے باپ سے کہنے لگے۔

’’ابو ! گھر میں ایک عورت آئی ہے...........وہ چچا قاسم کے بارے میں پوچھتی ہے۔ امی اور دادی اس کے ساتھ باتیں کر رہی ہیں۔‘‘

طاہر کے ماتھے کی شکنیں مزید گہری ہوگئیں۔ یہ کون ہوسکتی ہے؟ اس کا تجسس بہت بڑھ گیا ۔ گویا جو خاتون ملنے آئی تھی وہ قاسم کو جانتی تھی۔ یہ بھی حیرت کی بات تھی ۔ قاسم تو ابھی چند ہی مہینے قبل ادرنہ میں وارد ہواتھا ۔ اتنی جلدی ایک خاتون کے ساتھ اس کے مراسم کیسے بن گئے ؟ اسی خیال میں گم وہ مکان کے دوسرے کمرے میں داخل ہو ا۔ دونوں بچے اس کے دائیں بائیں تھے اور مسلسل بول رہے تھے۔ طاہر نے انکی باتو ں کو نظر انداز کرتے ہوئے ان سے کہا۔

’’جاؤ بیٹا اپنی امی کو یہاں بلا لاؤ..........شاباش!‘‘

دونوں بچے فوراً بھاگ کھڑے ہوئے چند لمحے بعد طاہر کی بیوی کمرے میں داخل ہوئی ۔ وہ مسکرارہی تھی۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھ کر طاہر کی حیرت پہلے سے دوچند ہوگئی۔ اس نے چھوٹتے ہیں پوچھا:۔

’’کیا بات ہے ، کون خاتون مہمان آئی ہے؟ اور قاسم کے بارے میں کیا پوچھتی ہے؟‘‘

طاہر کی بیوی سکینہ کے چہرے ے پر شرات آمیز مسکراہٹ مزید گہری ہوئی۔

’’ آپ بس اب قاسم کو ڈھنڈ لائیے۔ اللہ نے ہمیں چاند سی دلہن عنایت کردی ہے۔‘‘

طاہر مسکرانے کی بجائے اور زیادہ سنجیدہ ہوگیا اور کہنے لگا۔’’سکینہ ہوش سے کام لو۔ یہ تم کیا کہہ رہی ہو؟ ایک اجنبی لڑکی سے پہلی ملاقات میں اس قدر بے تکلفی اچھی نہیں ۔ تم پہلے یہ بتاؤں کہ یہ ہے کون؟‘‘

اب سکینہ بھی سنجیدہ ہوگئی۔ اسے اپنے شوہر کا مزاج بدلا ہوا نظر آیا اور وہ مدھم سے لہجے میں کہنے لگی۔ ’’یہ مارسی ہے..........وہی لڑکی ہے جس نے تہوار کے مقابلہ میں قاسم کی جان بچائی تھی۔ یہ لڑکی قاسم کے بارے میں اتنا کچھ جانتی ہے کہ اتنا آپ اور ہم بھی نہیں جانتے ۔ میں عورت ہوں اور محبت کے معاملے میں میری نظر کبھی دھوکہ نیں کھا سکتی۔ میں نے اس کی آنکھوں میں قاسم کے لیے محبت کا سمندر موجزن دیکھاہے۔ یہ پچھلے چند دن سے قاسم کی جدائی میں حد سے زیادہ پریشان رہنے کے بعد آج مجبور ہوکر یہاں چلی آئی۔ ورنہ وہ پہلے یہاں آنے سے شرماتی رہی۔‘‘

سکینہ کی بات جہاں طاہر کو اچھی لگی وہاں وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ اس لڑکی کا نام مارسی مسلمانوں جیسا نہیں........تو کیا قاسم نے کسی عیسائی لڑکی کے ساتھ محبت کا پودا پروان چڑھایاہے؟ وہ یہ بھی سوچ رہا تھا کہ ہوسکتا ہے یہ لڑکی ابوجعفر کی جاسوسہ ہو اور قاسم کے بارے میں اس کے بھائی کا آئندہ لائحہء عمل جاننے کے لیے یہاں آٹپکی ہو۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : کتابیں /سلطان محمد فاتح