اغواء کرنیوالے گروہ سے 6لڑکیاں بازیاب ، 2عدالت پیش ، 1کا تعلق لاہور سے ہے: رپورٹ

اغواء کرنیوالے گروہ سے 6لڑکیاں بازیاب ، 2عدالت پیش ، 1کا تعلق لاہور سے ہے: ...
اغواء کرنیوالے گروہ سے 6لڑکیاں بازیاب ، 2عدالت پیش ، 1کا تعلق لاہور سے ہے: رپورٹ

  

کراچی (ویب ڈیسک) جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں گلستان جو ہر پولیس نے مبینہ بین الصوبائی اغوا کار گروہ کے 2کارندوں نعمت اللہ اور اکرم کو عدالت میں پیش کر دیا ، باز یاب کرائی گئی  13سالہ بتول عمری اور 6سال قبل لاہور سے اغوا کی گئی شازیہ کو بھی عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے مغویہ بتول کا بیان قلمبند کرنے کے لیے کل طلب کر لیا۔

روزنامہ ایکسپریس کے مطابق پولیس نے عدالت کو بتایا کہ فروری میں اغوا کی گئی بتول کی بازیابی کے لیے خفیہ اطلاع پر گلستان جوہر پولیس نے سچل تھانے کی حدود میں واقع صائمہ عرف مونا آنٹی کے گھر پر چھاپہ مار کر مغویہ بتول عمری کو برآمد کیا تھا، اس موقع پر صائمہ عرف مونا آنٹی کے گھر سے پاکستان کے مختلف شروں سے اغواء کر کے لائی جانے والی دیگر 6لڑکیوں کو بھی پولیس نے اپنی تحویل میں لیا تھا۔ مختلف شہروں سے اغواء کر کے لائی جانیوالی ان لڑکیوں میں عائشہ ، سمیرا ، شازیہ کرن ، ستار اور نورین شامل ہیں، ان کے اہل خانہ کی تلاش جاری ہے۔

شازیہ نے عدالت کو بتایا کہ 10سال قبل اس کے چچا چچی نے اسے ایک خاتون کو فروخت کر دیا تھا جس نے آگے مونا آنٹی کو فروخت کیا جہاں وہ گزشتہ 6سال سے ا سیرہ رہی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ اسے غلط کام پر بھی مجبور کیا جاتا تھا۔ اب اسے اپنے والدین کے بارے میں کچھ معلوم نہیں جبکہ نانانانی جڑانوالا میں رہتے تھے۔ 13سال بتول نے بتایا کہ مونا اس کی پڑوسن تھی اور اکثر اپنے ساتھ بازار لے جاتی تھی۔ 2فروری کو بھی ساتھ لے کر گئی اور دھوکے سے ٹھٹھہ پہنچا دیا۔ چند روز بعد کراچی لا کر ایک مکان سے دوسرے مکان میں رکھا جاتا اور غلط کام کرنے پر مجبور کرتے ، انکار پر تشدد کیا جاتا  اور لڑکیوں سے بھی یہی سلوک کیا جاتا ۔ بتول کے والدین کا کہنا ہے کہ مونا ان کی کرایے دار تھی اور انہیں محسوس ہی نہ ہوا کہ یہ اتنا گھناؤنا کام کرتی ہے۔

مزید : علاقائی /سندھ /کراچی /جرم و انصاف /پنجاب /لاہور