”میں نے رینجرز سے کہا نوازشریف کا دل کی دوائیوں کا یہ بیگ بھی ساتھ لے جائیے تو آگے سے انہوں نے ۔۔۔“ نوازشریف کو گرفتار کرتے ہوئے ان کے ڈاکٹر کو کیا جواب دیا گیا ،؟ جان کر ہر پاکستانی حیران پریشان رہ جائے گا

”میں نے رینجرز سے کہا نوازشریف کا دل کی دوائیوں کا یہ بیگ بھی ساتھ لے جائیے ...
”میں نے رینجرز سے کہا نوازشریف کا دل کی دوائیوں کا یہ بیگ بھی ساتھ لے جائیے تو آگے سے انہوں نے ۔۔۔“ نوازشریف کو گرفتار کرتے ہوئے ان کے ڈاکٹر کو کیا جواب دیا گیا ،؟ جان کر ہر پاکستانی حیران پریشان رہ جائے گا

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )سابق وزیراعظم نوازشریف اور مریم نواز نے جمعہ کے روز لاہور آ کر نیب کو گرفتاری پیش کر دی جس کے بعد انہیں لاہور ایئرپورٹ سے ہی سیدھا اسلام آباد اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا اور کسی سے ملاقات کرنے بھی اجازت نہیں دی گئی تاہم سفر کے دوران صحافی عرفان صدیقی بھی نوازشریف کے ساتھ ہی رہے ، اس تمام واقعے کا آنکھوں دیکھا حال انہو ں اپنے کالم میں بیان کیاہے جو کہ لندن سے ابو ظہبی اور پھر ابو ظہبی سے لاہور تک کے سفر میٰں پیش آئے انہوں نے یہ بھی بیان کیا کہ نوازشریف کو راولپنڈی اپنی دواؤں کا بیگ بھی ساتھ نہ لے جانے دیا گیا ۔

تفصیلات کے مطابق عرفان صدیقی نے اپنے کالم میں لکھاہے کہ جس وقت اتحاد ایئر ویز کا طیارہ لاہور ایئر پورٹ پر لینڈ کر گیا تو میں کھڑکی سے پردہ ہٹاکر دیکھا تو باہر خواتین اہلکاروں سمیت اے ایس ایف اور رینجرز کے اہلکاروں کی بھاری تعداد قطار بنائے کھڑی تھی ۔نوازشریف کی گرفتار ی کیلئے جب اہلکار طیارے میں داخل ہوئے تو ن لیگی کارکنان اور اہلکاروں کے درمیان بحث بھی ہو ئی تاہم جب معاملہ تلخی کی جانب بڑھنے لگا تو نوازشریف اپنی نشست سے اٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے اپنے ذاتی خدمت گار عابداللہ سے کہا میرے ساتھ رہنا، پھر وہ اپنے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان سے کہنے لگے کہ”دواوں والا بیگ ساتھ ہی رکھنا“ ان کے ساتھ درجنوں با وردی اہلکار اور بیس سے زائد مسلم لیگی کارکن بھی اس انبوہ کا حصہ بن گئے۔ساڑھے آٹھ بجے طیارے نے لینڈنگ کی تھی، اب ساڑھے دس بجے رہے تھے اور ہم سیڑھیاں نہیں اتر پا رہے تھے۔ مجرم اور مجرمہ کا چارٹرڈ طیارہ رن وے پہ روانہ ہوا تو سیڑھیوں کے ناکے ٹوٹے، نیچے صحافیوں کا ایک انبوہ تھا اور ان کے تبصرے۔ میری نظر عابداللہ پر پڑی میں نے پوچھا تم گئے نہیں۔ وہ بولا ”سر میاں صاحب کے کہنے پر مجھے طیارے تک لے گئے لیکن پھر دھکا دے کر پیچھے دھکیل دیا۔ اتنی دیر میں سہما ہوا ڈاکٹر عدنان میرے قریب آیا اس کی آنکھیں جھلک رہی تھیں۔ دواوں کا بیگ اس کے ہاتھ میں تھا۔ بولا ”سر میاںصاحب کہتے رہے، میں چیختا رہا لیکن انہیں یہ بیگ ساتھ نہ لے جانے دیا گیا۔ اب پتہ نہیں کیا ہوگا وہ دل کے مریض ہیں پتہ نہیں کس وقت کس دوا کی ضرورت پڑ جائے۔

مزید : قومی /سیاست