”امی ہوش میں آئیں تو انہیں یہ مت بتانا کہ ہم جیل میں ہیں بلکہ کہنا کہ ۔۔۔“ مریم نواز نے حسین نواز کو ایسی تلقین کر دی کہ سن کر آپ کی آنکھوں میں بھی آنسو آجائیں گے

”امی ہوش میں آئیں تو انہیں یہ مت بتانا کہ ہم جیل میں ہیں بلکہ کہنا کہ ۔۔۔“ ...
”امی ہوش میں آئیں تو انہیں یہ مت بتانا کہ ہم جیل میں ہیں بلکہ کہنا کہ ۔۔۔“ مریم نواز نے حسین نواز کو ایسی تلقین کر دی کہ سن کر آپ کی آنکھوں میں بھی آنسو آجائیں گے

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )سینئر صحافی و کالم نگار عرفان صدیقی بھی نوازشریف کے ساتھ جہاز میں لاہور آئے اور انہوں نے اس حوالے سے احوال بیان کرتے ہوئے اپنے کالم میں لکھا کہ مریم نواز نے ٹیلیفون پر حسین سے والدہ کی طبیعت کے بارے میں دریافت کیا اور انہیں تلقین کی وہ امی کو اس بارے میں مت بتائیں کہ ہم دونوں جیل میں بلکہ صرف اتنا بتائیں کہ وہ جلد آجائیں گے۔

سینئر صحافی و کالم نگار عرفان صدیقی نے اپنے کالم میں نوازشریف کے لاہور تک کے سفر کی مکمل تفصیلات بیان کی ہیں اور ا س دوران پاکستانی میڈیا پر چلنے والی مختلف افواہوں پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ یہ خبر سوشل میڈیا یا شاید کچھ پاکستانی چینلز کی زینت بنی کہ میاں صاحب اس وقت ابوظہبی کے حکمران شیخ خلیفہ بن زید النیہان کے محل میں ہیں اور خصوصی نوعیت کے کچھ مذاکرات ہورہے ہیں جس میں بعض پاکستانی حکام بھی شریک ہیں۔ پھر خبر آئی کہ فلائٹ ایک منصوبے کے تحت تاخیر کا شکار ہورہی ہے اور ہمیں اس وقت پرواز کی اجازت ملے گی جب پاکستان سے اوکے کا سگنل ملے گا اور اندازہ ہے کہ ہماری پرواز صبح دو یا تین بجے لاہور پہنچے گی۔ یہ افواہیں، مستند خبروں کا سا بھیس بنائے کبھی میرے، کبھی مریم اور کبھی رمیزہ کے فون پر آرہی تھیںلیکن میاں صاحب ان افواہوں سے بے نیاز لندن اپنے بچوں سے بات کررہے تھے۔ انہوں نے حسن سے کہا کہ ”تم اور حسین مل کر اپنی والدہ کی نگہداشت کا ٹائم ٹیبل سیٹ کرلو۔ وہاں ہر وقت کوئی نہ کوئی موجود رہے اور جو وظیفہ ہم لوگ گھر میں پڑھتے تھے، اسے جاری رکھنا، میں اس وظیفے کے بڑے اچھے اثرات دیکھ رہا ہوں“۔ پھر انہوں نے اپنے نواسے جنید اور پوتے حمزہ سے بات کی، انہیں تلقین کی کہ گھر کے باہر گالی گلوچ اور بدتمیزی کرنے والے لوگوں سے مت الجھو۔

اسی دوران مریم نواز نے حسین سے امی کا پوچھااور پھر کہا اللہ کرے وہ جلد ہوش میں آجائیں لیکن حسین بھائی انہیں بالکل نہ بتانا کہ میں اور ابو جیل میں ہیں، باقی سب کو بھی سمجھا دوم انہیں بالکل پتہ نہ چلے، کہنا کہ بس جلد آنے والے ہیں۔

مزید : قومی