دنیا میں سائنسی انقلاب برپاکرنے والا وہ ہاتھ جس کے دماغ کی لکیر نے ڈاکٹروں کو حیران وپریشان کرکے رکھ دیا تھا،ایسی علامت جس انسان کے ہاتھ میں بھی ہوگی ،جان لیجئے کہ وہ بھی کوئی بڑا کام کرسکتا ہے

دنیا میں سائنسی انقلاب برپاکرنے والا وہ ہاتھ جس کے دماغ کی لکیر نے ڈاکٹروں کو ...
دنیا میں سائنسی انقلاب برپاکرنے والا وہ ہاتھ جس کے دماغ کی لکیر نے ڈاکٹروں کو حیران وپریشان کرکے رکھ دیا تھا،ایسی علامت جس انسان کے ہاتھ میں بھی ہوگی ،جان لیجئے کہ وہ بھی کوئی بڑا کام کرسکتا ہے

  

لاہور(نظام الدولہ )دست شناسی میں دماغ کی لکیر کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہوتی ہے ۔یہ بے عیب ہو یا اس سے اضافی لکیریں پھوٹ رہی ہوں تو ان کی مدد سے کسی بھی انسان کی ذہانت اور اسکے تخلیقی و تحقیقی معیارات و رجحانات کو مانپا جاسکتا ہے ۔دنیا بھر میں دست شناسی کے میدان میں دماغی لکیر پر تحقیقات ہورہی ہیں اور جدید پامسٹری کی مدد سے بعد ازاں انسانی دماغی کا طبی طور پر بھی جائزہ لیا جارہا ہے کہ کیا واقعی دماغی لکیر پر بننے والے نشانات و لکیروں کا انسانی دماغ پر کوئی اثر و تعلق بھی ہوتا ہے ۔

دنیا کے مشہور سائنس دان آئن سٹائن کے دماغ پر ہونے والی تحقیق کے بعد ان کے ہاتھوں کی لکیروں کا موازنہ کیا گیا تو دنیا چونک کررہ گئی کہ آئن سٹائن کے دماغ پر جو ترشول نما لکیر موجود تھی ،وہ ان کی غیرمعمولی ذہانت کی علامت تھی ۔یہ لکیر دل کے آخر میں ہوتو بے حد محبت اور دماغ کے آخری میں ہوتو بے پناہ ذہانت کا منبع ہوتی ہے۔ البرٹ آئن سٹائن بیسویں صدی کے عظیم سائنسدان تھے جنہوں نے کائنات کے سربستہ رازوں سے پردہ اٹھایا اور توانائی اور مادے کے تعلق کی گتھیاں سلجھادیں ۔

جدید طبیعاتی سائنس کی بنیاد آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت پر قائم ہے ۔انکی وفات پر ڈاکٹر ہاروے نے انکا پوسٹ مارٹم کیا اور ان کا دماغ نکال کر انکے بیٹے کی اجازت سے اس پر تحقیق کی اور اس غرض کے لئے انہوں نے آئن سٹائن کے دماغ کودوسوچوالیس ٹکڑوں میں تقسیم کرلیا تھا ۔ڈاکٹر ہاروے کی تحقیقات کے مطابق آئن سٹائن کے دماغ کے وہ حصے جن کا تعلق بول چال اور زبان سے ہوتا ہے، نسبتاً چھوٹے تھے ، جب کہ ریاضی اور سوچ بچار سے متعلق حصے ایک نارمل دماغ کی نسبت15 فی صد بڑے تھے۔ اس کے علاوہ نیوران، یعنی تمام دماغی امور انجام دینے والے خلیوں کے گرد مخصوص حفاظتی تہہ گلیال بھی عام افراد کی نسبت بڑی تھی۔اس سے ثابت ہوا کہ ان کے دماغ میں نیوران کی کار کردگی نمایاں طور پر بہتر تھی اور اسی وجہ سے ان کی سوچ ایک عام آدمی سے مختلف تھی۔ماہرین کا کہناہے کہ آئن سٹا ئن کے دماغ کا ایک اور نمایاں پہلو یہ ہے کہ اگرچہ ان کا انتقال 76 سال کی عمر میں ہواتھا مگردماغ کی ساخت دیکھ کرایسا لگتا ہے جیسے وہ کسی نوجوان شخص کا دماغ ہو۔

  دست شناسی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آئن سٹائن کے دائیں ہاتھ میں دماغی لکیر کے آخر میں ترشول تھی جس کا مطلب تھا کہ وہ ذہانت، تخلیق ، فطرت کے خفیہ معاملات تک عام انسانوں کی نسبت زیادہ بہتر قوت سے پہنچ جاتے تھے ۔ ایسے شخص کو کوڈ بریکر بھی کہاجاتا ہے جو قدرت کی چھپی ہوئی خفیہ معلومات اور راز جو عام ذہن سے پوشیدہ ہوں لیکن ایسا شخص ان تک آسانی سے پہنچ سکتا ہے۔آئن سٹائن کے بائیں ہاتھ میں بھی دماغی لکیر دوہری ہے اور اسکا ایک حصہ قمر اور دوسرا سیدھا چلا جاتا ہے۔یہ انکی بچپن سے اعلا ذہنی صلاحیتوں اور دوسروں کو چونکا دینے والی حرکتوں کو ظاہر کرتی ہے۔ آئین سٹائن کے دماغ پر تحقیق کے بعد اس نطریہ کو تقویت ملی ہے کہ ہاتھوں میں وہی کچھ ہوتا ہے جو انسان کے دماغ اور دل میں ہوتا ہے ۔کسی بھی انسان کے اندر تک پہنچنے کے لئے اسکے ہاتھوں کے طلسمی آئینہ کا سہارا لیا جاسکتا ہے ۔

مزید : لائف سٹائل /مخفی علوم