سی پیک اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام سے متعلق خطرناک امریکی ارادوں کو سابق سفیر نے طشت ازبام کردیا

سی پیک اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام سے متعلق خطرناک امریکی ارادوں کو سابق ...
سی پیک اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام سے متعلق خطرناک امریکی ارادوں کو سابق سفیر نے طشت ازبام کردیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن)افغان امور کے ماہر رستم شاہ مہمند نے کہاہے کہ امریکہ افغانستان میں سے کسی صورت نکلنا نہیں چاہتا ، اس کا مقصد افغانستان میں بیٹھ کر سی پیک کو نا کام بنانا اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر نظر رکھنا ہے ۔

دنیا نیوز کے پروگرام ”لائیو ودھ معید پیرزادہ “ میں گفتگو کرتے ہوئےافغان امور کے ماہر رستم شاہ مہمند نے کہا ہے کہ افغانستان میں امریکہ کی جانب سے داعش کو اس لئے مضبو ط کیا جارہا ہے کہ طالبان کو کمزور کیا جائے ۔پاکستان میں دہشت گردی کی موجودہ لہر میں کالعد م بلوچ لبریشن فرنٹ کے ساتھ داعش کا عنصر نظر آرہا ہے جو بہت خطر ناک بات ہے ۔امریکہ کی ساری کوششیں صرف اسی مقصد کیلئے ہورہی ہیں کہ طالبان میں پھوٹ ڈالی جائے ۔ امریکہ افغانستان سے کسی طور پر بھی نکلنے کیلئے تیار نہیں ہے ۔ وہ خطے میں کسی صورت چینی بالادستی کیلئے تیار نہیں جبکہ سی پیک کو ناکام بنانااور پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر نظر رکھنا چاہتا ہے ۔سعودی عرب میں علماءکانفرنس کے انعقاد اور مشترکہ فتوے کے بعد سعودی عرب کے طالبان کے ساتھ تعلقات ختم ہو گئے ہیں اور سعودی عرب اب طالبان کے خلاف بولنے بھی لگا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کو امریکہ کی سٹیبلشمنٹ نے مجبور کردیا ہے کہ افغانستان سے نکلنا امریکہ کے مفاد میں نہیں ہے ۔

مزید : قومی