ڈبلیو ایچ او کا انتباہ

ڈبلیو ایچ او کا انتباہ

  

عالمی ادارہ صحت(ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈہانوم نے کہا ہے کہ اگر بعض حکومتیں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے فیصلہ کن اقدام نہیں کرتیں تو صورتِ حال خراب سے خراب تر ہو جائے گی،ہم ان ممالک کے متاثرین میں خطرناک اضافہ دیکھ رہے ہیں،جہاں خطرے کو کم کرنے کے لئے ثابت شدہ اقدامات پر عمل درآمد نہیں ہو رہا،جنیوا میں ایک بریفنگ کے دوران ان کا کہنا تھا کہ مجھے کہنے دیں، بہت سارے ممالک غلط سمت میں جا رہے ہیں،وائرس عوام دشمنی میں ایک ہے،لیکن کئی حکومتوں اور لوگوں کے اقدامات سے اس کی عکاسی نہیں ہوتی، رہنماؤں کے ملے جُلے پیغامات وبائی مرض کو قابو میں کرنے کی کوششوں پر پانی پھیر ر ہے ہیں،اگر بنیادی باتوں پر عمل نہیں کیا گیا تو صرف خرابی کا راستہ ہی باقی بچتا ہے۔

اگرچہ ڈاکٹر ٹیڈروس نے کسی حکومت اور کسی رہنما کا نام تو نہیں لیا،لیکن خیال ہے کہ ان کا اشارہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بعض ایسے رہنماؤں کی طرف ہے، جو کورونا وائرس کے سلسلے میں اپنائی گئی پالیسی پر نکتہ چینی کی زد میں رہے ہیں،بہت سے عالمی رہنما تو ایسے ہیں جنہوں نے شروع شروع میں وائرس کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور اسے معمولی نزلے زکام کی طرح کا ایک وائرس خیال کیا اور یہ پیغام عام کیا کہ گھبرانا نہیں، اور کئی ممالک کی حکومتوں کے سربراہوں نے وائرس کو میڈیا کا پھیلایا ہوا شوشہ قرار دیا اور یہ تک کہہ گذرے کہ زمین پر تو کورونا کہیں نہیں ہے،البتہ میڈیا میں اس کے چرچے ہیں،لیکن اِن رہنماؤں کو جلد ہی اندازہ ہو گیا کہ اُن کے اندازے درست نہیں تھے اور نہ ہی کورونا کو کوئی معمولی وائرس سمجھ کر نظر انداز کیا جا سکتا ہے،ستم ظریفی یہ ہے کہ بہت سے وہ لوگ جو اس معاملے میں اپنے رہنماؤں کی ہاں میں ہاں ملا رہے تھے، نہ صرف براہِ راست اس کا شکار ہوئے،بلکہ بہت سے موت کے منہ میں بھی چلے گئے، تمام تر احتیاطوں کے باوجود طبی عملہ بھی متاثر ہوا۔اس کے بعد لوگوں نے اپنی رائے سے رجوع کرنا شروع کیا اور پھر وائرس کی ہلاکت خیزیاں اپنی آنکھوں سے دیکھیں،یورپ کے کئی ممالک میں تابوت کم پڑ گئے اور لوگ قبریں کھودتے کھودتے تھک گئے،لاکھوں متاثر ہوئے تو ہر مُلک میں ہزاروں اموات بھی ہوئیں۔اب بھی وہ مُلک اُنگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں جہاں وائرس پر پوری طرح قابو پایا گیا ہے، باقی دُنیا اگرچہ معمول کی جانب لوٹنے کی کوشش کر رہی ہے اور بند کاروبار بھی آہستہ آہستہ کھولے جا رہے ہیں،لیکن کورونا کے خطرات کم نہیں ہوئے،اسی لئے ڈاکٹر ٹیڈروس کو یہ انتباہ جاری کرنے کی ضرورت پیش آئی کہ خرابی کے راستے کی جانب نہ جائیں۔

ڈبلیو ایچ او کے سربراہ جب یہ کہتے ہیں کہ رہنماؤں کے ”ملے جُلے پیغامات“ مرض پر قابو پانے کی کوششوں پر پانی پھیر رہے ہیں تو غالباً اُن کا اشارہ ایسے بیانات کی طرف ہوتا ہے،جس سے ڈبلیو ایچ او کی کوششیں متاثر ہوتی ہیں اور ابہام پھیلتا ہے، امریکہ نے تو اس مشکل وقت میں عالمی ادارے کی امداد بند کر دی ہے اور الزام عائد کیا ہے کہ ڈبلیو ایچ او نے چین کا ساتھ دے کر غلط پالیسی اختیار کی،اِس سلسلے میں کئی بار وضاحتوں کے باوجود صدر ٹرمپ مطمئن نہیں ہوئے اور بالآخر اپنے اعلانات پر عمل کر گذرے،اب اُن کے مخالف صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے اعلان کیا ہے کہ وہ جیت کی صورت میں عالمی ادارے سے دوبارہ تعاون کریں گے اور امداد بحال کر دیں گے، اسی طرح ڈاکٹر ٹیڈروس ثابت شدہ اقدامات کا ذکر کر کے یہ بتانا چاہتے ہیں کہ جن ممالک کے رہنما اپنی سیاسی ضرورتوں کے تحت ڈبلیو ایچ او کی گائیڈ لائنز پر عمل نہیں کر رہے اور جن اقدامات کی وجہ سے وائرس کا پھیلاؤ رُکا، اُنہیں یا تو جاری نہیں رکھا جا رہا یا پھر ان پر نیم دِلانہ انداز میں عمل کیا جا رہا ہے،حالانکہ کسی ویکسین یا موثر دوا کی عدم موجودگی کے باعث یہ اقدامات ہی وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں مفید ثابت ہوئے ہیں،تاحال جن ادویات کا ٹرائل کیا گیا اور جن میں سے بعض کے بارے میں یہ رائے قائم کر لی گئی کہ وہ وائرس سے متاثرہ مریضوں کی صحت یابی میں موثر پائی گئی ہیں اب اُن کا استعمال بھی بند کر دیا گیا ہے، جو لائف سیونگ ادویات یا انجکشن مفید پائے گئے ہیں اُن کی سپلائی بھی معمول پر نہیں،جو ویکسین تیار کی جا رہی ہے اس کی تیاری کی کوششوں میں شریک عالمی شخصیت بل گیٹس کا کہنا ہے کہ اس ویکسین کو ترجیحاً ایسے علاقوں اور لوگوں تک پہنچنا چاہئے،جہاں اس کی زیادہ ضرورت ہے۔ یہ نہیں ہونا چاہئے کہ زیادہ بولی دینے والا یہ ویکسین لے اُڑے اور ضرورت مند منہ دیکھتے رہ جائیں۔ ان حالات میں ضرورت ہے کہ دُنیا کے رہنما کنفیوژن پھیلانے والے اعلانات اور پیغامات سے گریز کریں تاکہ لوگ عالمی ادارہئ صحت کی رائے پر یکسوئی کے ساتھ عمل کر سکیں، ویسے بھی کسی دوائی کے موثر نہ ہونے کے باعث احتیاطی تدابیر ہی آخری حل ہیں۔

کوروناوبا کی وجہ سے پیدا ہونے والے حالات نے دُنیا بھرکی معیشتوں کو ڈانواں ڈول کر دیا ہے،غربت و افلاس زدہ علاقے اور ممالک اس سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، جو مُلک قرض کے جال میں جکڑے ہوئے ہیں ان میں سے بعض کو سود کی ادائیگی میں ایک سال کے لئے ریلیف تو ملا ہے،لیکن اب جی سیون ممالک کے وزرائے خزانہ کے اجلاس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ قرض خواہ ممالک اپنے مقروض ممالک سے سود وصول نہ کریں یہ تجویز خود اُن ممالک کے وزرائے خزانہ کی طرف سے آئی ہے،جنہوں نے قرض دے رکھے ہیں اِس لئے رائے کو آسانی کے ساتھ نظر انداز نہیں کیا جا سکتا،کیونکہ امیر اور قرض خواہ ممالک کو یہ اندازہ تو ہے کہ ان حالات میں مقروض ممالک کے لئے ادائیگی کتنی مشکل ہے،لیکن اب تک کسی بھی مُلک نے کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا، اب جی سیون وزرائے خزانہ کی طرف سے باقاعدہ تجویز آئی ہے تو ممکن ہے اس جانب توجہ دی جائے۔ ایک اور حوصلہ افزا پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ دُنیا کے 80ہزار امیر ترین افراد نے ایک کھلے خط میں تجویز کیا ہے کہ اُن سمیت امیروں پر زیادہ ٹیکس لگائے جائیں۔ یہ خط اس لحاظ سے اہم ہے کہ زیادہ ٹیکس لگانے کا مطالبہ وہ امیر لوگ کر رہے ہیں، جو پہلے ہی بہت زیادہ ٹیکس دے رہے ہیں،لیکن غالباً وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے پاس اتنی دولت ہے کہ وہ مزید ٹیکس دے سکتے ہیں۔اگر دُنیا بھر کے امیر لوگ (بشمول پاکستان) اسی طرح کے جذبے کے ساتھ آگے آئیں تو وبا کے اثرات کم سے کم کئے جا سکتے ہیں،اس وقت پہلی ترجیح تو وبا کے اثرات کم کرنا ہے،جبکہ اگلا قدم لوگوں کو بھوک سے بچانا اور معیشتوں کو تباہی سے نکالنا ہے، جس کے لئے امیر ا ور با وسائل ممالک کو پیش قدمی کرنی چاہئے۔

مزید :

رائے -اداریہ -