”جعلی پیر“ کے ہاتھوں چودہ سالہ لڑکے کی موت؟

”جعلی پیر“ کے ہاتھوں چودہ سالہ لڑکے کی موت؟

  

ہمارے ملک کے دور دراز علاقوں حتیٰ کہ اکثر شہروں میں بھی جعلی پیری، فقیری کا دھندا چلتا ہے اور ایک بڑی تعداد جن اور بھوت، پریت کے اثرات کو زائل کرنے یا بھگانے کے بہانے سادہ لوح عوام کو لوٹتی ہے۔مظفر گڑھ کے گاؤں محمود کوٹ میں ایک جعلی پیر کے ہاتھوں چودہ سالہ ساجد جان کی بازی ہار گیا۔متوفی کے والد مختار نے تھانہ میں مقدمہ درج کرایا ہے کہ وہ اپنے چودہ سالہ بیٹے ساجد کو علاج کے لئے مبینہ پیر عبدالغفار کے پاس لے کر گیا۔ اس ”جعلی“ پیر نے بچے پر جن کا سایہ کہہ کر اُسے دہکتے کوئلوں کے اوپر دھونی دی، اس سے بچے کا چہرہ جھلس گیا اور وہ اگلے روز وفات پاگیا، پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے،اس نوعیت کی جعل سازیوں کے کئی واقعات منظر پر آتے رہتے ہیں لیکن ”نقلی پیروں“، فقیروں کا دھندا بند نہیں ہوتا، سخت تر انتظامی اقدامات کے ساتھ ساتھ علمائے کرام اور مذہبی تنظیموں پر بھی لازم ہے کہ ان جعل سازوں کے خلاف حرکت میں آئیں،اسلام اور عوام کو ان کے چنگل سے نجات دلانے کے لیے موثر اقدامات تجویز کریں۔

مزید :

رائے -اداریہ -