جنوبی پنجاب کے عوام سے مذاق بند کریں؟

جنوبی پنجاب کے عوام سے مذاق بند کریں؟
جنوبی پنجاب کے عوام سے مذاق بند کریں؟

  

آج کل صوبہ جنوبی پنجاب کے حوالے سے تواتر کے ساتھ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر خبریں آرہی ہیں۔ جنوبی پنجاب کے لوگوں کا مطالبہ ہے کہ اسے الگ صوبائی حیثیت دی جائے۔ جنوبی پنجاب تین ڈویژن بہاول پور، ملتان اور ڈیرہ غازی خان پر مشتمل ہے اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ ماضی میں جنوبی پنجاب خصوصاً بہاول پور کی حق تلفی ہوتی رہی ہے اور وہاں جو ترقیاتی کام ہونے چاہئیں تھے وہ نہیں ہوئے جس کے باعث وہاں کے لوگوں میں ایک احساس محرومی پایا جاتا ہے جس کا ازالہ ہونا چاہیے۔ ماضی میں اس حوالے سے پنجاب اسمبلی میں ایک قرارداد بھی منظور کی گئی تھی کہ جنوبی پنجاب کو الگ صوبائی حیثیت دی جائے مگر وہ صرف قرارداد ہی رہی اسے عملی جامہ نہ پہنایا جا سکا جو کوئی قابل ستائش امر نہیں ہے۔ ایک اسمبلی ایک قرار داد اور وہ بھی اکثریت کے ساتھ منظور کرے اور پھر اسے درخور اعتناء نہ سمجھاجائے تو پھر اس اسمبلی کی حیثیت کو کیا کہا جائے اور ویسے بھی ہماری اسمبلیوں میں ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنا، ذاتیات پرغیر پارلیمانی الفاظ کا استعمال کرنا ایک کلچر بن چکا ہے جو مہذب قوموں کا وطیرہ نہیں۔

جہاں تک تعمیری کاموں کی بات ہے تو اس پر حکومت اور اپوزیشن ایک پیج پر ہیں نہ تو حکومت اورنہ ہی اپوزیشن کی طرف سے کوئی ایسی جامع تجویز یا منصوبہ جو ملکی و قومی ترقی سے وابستہ ہو سامنے آیا ہے جہاں تک اپوزیشن کا تعلق ہے تو اسے ہم بری الذمہ سمجھتے ہیں کہ وہ اس حوالے سے کچھ نہ کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ جہاں تک حکومت کا تعلق ہے اسے جملہ وسائل دستیاب ہیں اور یہ حکومت ہی کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اس سلسلے میں اقدامات کرے مگر ادھر سے ابھی تک عوامی بھلائی کی کوئی پیش رفت نظر نہیں آئی۔ پی ٹی آئی کی حکومت کو برسر اقتدار ٓائے ہوئے دو سال ہوگئے ہیں مگر ہوا کچھ بھی نہیں۔ جہاں تک پنجاب حکومت کا تعلق ہے تو پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے حاکم اعلیٰ کو وزیر اعظم عمران خان کی پشت پناہی بھی حاصل ہے۔ ان کی طرف سے عوامی فلاح و بہبود کی کوئی ایسی عملی کار گزاری د یکھنے میں نہیں آئی یہ کوئی قابل ستائش امر نہیں۔ جہاں تک جنوبی پنجاب کے معاملات کا تعلق ہے تو عثمان بزدارکی حکمت عملی سمجھ سے بالا تر ہے کہ اس حوالے سے انہوں نے جنوبی پنجاب کی صرف اشک شوئی کے سواکچھ نہیں کیا۔ ایک بار انہوں نے پنجاب بھر کے محکموں کے سیکرٹری صاحبان کا ایک اجلاس بہاول پور بلایا اوراس پر خطیر رقم بھی خرچ ہوئی مگر پھر وہی ڈھاک کے تین پات والی بات ہی رہی۔ جنوبی پنجاب کے عوام کا دیرینہ مطالبہ ہے کہ ان کا الگ صوبہ بنایا جائے اس حوالے سے حکومتی سطح پر مرکزسے لے کر پنجاب تک بڑ ے بڑے بیانات دئیے گئے جومحض بیانات ہی تھے اور کچھ نہیں اور ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ کوئی عملی کارگزاری بھی دکھائیں۔

بیانات تو پی ٹی آئی کی محلہ کمیٹی کا عہدیدار بھی دیتا ہے تو آپ میں اور اس میں فرق تو ہونا چاہیے۔ ادھر جب جنوبی پنجاب کی صوبائی حیثیت کی بات ہوتی ہے تو ملتان کے لوگ کہتے ہیں مذکورہ صوبہ کا دارلحکومت ملتان میں ہونا چاہیے جبکہ بہاول پور کے لوگوں کا مطالبہ ہے کہ اس صوبہ کا ہیڈ کوارٹر بہاول پور میں ہونا چاہیے اور اپنے اس مطالبے کی دلیل میں وہ ٹھوس شواہد بھی پیش کرتے ہیں پہلی بات تو یہ کہ ملتان قیام پاکستان کے وقت کوئی صوبہ نہیں تھا مگر اس وقت بہاول پور ایک خود مختار ریاست تھی جس کی بنیاد 1748ء میں نواب بہاول خان اول نے رکھی اور 14اکتوبر 1955ء تک اس کی یہ حیثیت بحال رہی۔ ریاست کا اپنا وزیر اعظم تھا، اپنی اسمبلی تھی، اپنی فوج تھی، ایک روپے تک اس کی اپنی کرنسی تھی، اپنا ہائی کورٹ تھا اور سر عبدالقادر (مدیر مخزن) شیخ فیض محمد (سابق سپیکر متحدہ پنجاب اسمبلی) اورجسٹس اکبرمختلف ادوار میں اس کے چیف جسٹس رہے۔ یہاں یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ جسٹس اکبر وہی ہیں جنہوں نے سب سے پہلے 1935ء میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا تھا اورجب سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دورمیں 1974ء میں آئینی ترمیم کے باعث قومی اسمبلی میں اکثریت نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا تو اس سلسلے میں بہاول پور ہائی کورٹ کے فیصلے کا کلیدی کردار تھا۔

بہاول پور اس وقت سے لے کر اب تک قادیانیوں کی ریشہ دوانیوں اورسازشوں کا شکار ہے۔ ریاست بہاول پور مشرق سے مغرب تک 480کلو میٹر طویل اور 175 کلومیٹر چوڑی اور سطح سمندر سے اس کی بلندی 150میٹر ہے اوراس کی سرحد 480کلو میٹر تک بھارت کی سرحد تک پھیلی ہوئی ہے۔ جب ون یونٹ قائم ہوا تو بہاول پور کی ریاستی حیثیت ختم کرکے اسے ایک ڈویژن کا درجہ دیا گیا اوراس حوالے سے حکومت پاکستان اوراس وقت کے نواب بہاول پورسر صادق محمد خان عباسی کے درمیان یہ طے پایا کہ جب کبھی بھی ون یونٹ توڑا گیا تو بہاول پور کو صوبائی درجہ دیا جائے گا۔مگر ون یونٹ توڑتے وقت اس کو صرف نظرکردیا گیا اورمجموعی طورپر 45588کلومیٹر محیط اور دنیا کے 120ممالک سے بڑی اس ریاست کو ڈویژن کا درجہ دیا گیا جو صریحاً نا انصافی ہے۔ اگلے روز عثمان بزدار حکومت نے بجٹ پاس کیا اسمبلی میں تو پاس ہوگیا مگر اسمبلی کے باہر عوام میں بری طرح فیل ہوگیا۔ اس بجٹ میں جنوبی پنجاب کے لئے اربوں روپے کی خطیر رقم رکھی گئی اورعملاً یہ ہوا کہ مہنگائی میں اضافہ، بے روزگاری میں اضافہ اور جنوبی پنجاب کے لئے جورقم رکھی گئی بجائے اس کے کہ اس رقم کے حوالے سے کوئی ترقیاتی کام کئے جاتے، الٹا بہاول پور میں قائم ہونے والے چلڈرن کمپلیکس،سول ہسپتال بہاول پورمیں او پی ڈی بلاک کی تعمیر اور بہاول پور وکٹوریہ ہسپتال میں آرتھو پیڈک وارڈ کی تعمیر کے منصوبے ختم کر دئیے گئے جبکہ ملک میں پہلے ہی ہسپتالوں کی شدید کمی ہے۔یہ ہے حکومت پنجاب کا وہ بجٹ جو اعدادو شمار کی گتھیوں اورگورکھ دھندوں کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔

جسے آپ ساری عمر سلجھاتے رہے نتیجہ صفر ہی ہوگا۔ یہاں اس امرکا اظہار بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ حکومت پنجاب کے ایک فیصلے کے مطابق جنوبی پنجاب کے لئے ایک ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور ایک ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس کی تقرری بھی کی گئی ہے۔ ا یڈیشنل چیف سیکرٹری کا دفتر بہاول پوراو رایڈیشنل آئی جی پولیس کا آفس ملتان میں ہوگا۔ یہاں مجھے ایک لطیفہ یاد آرہا ہے کہ بھارتی پارلیمنٹ میں ایک بل پیش ہوا جو میڈیکل کالج کے قیام سے متعلق تھا۔ ہندو ممبران پارلیمنٹ نے شدت سے اس کالج کے قیام کے لئے دہلی کو منتخب کیا اور بضد تھے کہ یہ کالج ہرحالت میں دہلی میں ہی قائم ہوگا جبکہ سکھ ممبران نے آواز بلند کی کہ کالج امرتسر میں قائم ہونا چاہیے۔ بڑی بحث و تمحیص کے بعد طے پایا کہ کالج دہلی میں قائم ہوگا۔پارلیمنٹ کے اگلے اجلاس میں ایک اور بل پیش ہوا جو مذکورہ کالج کے ہاسٹل کے قیام سے متعلق تھا پھر زور شور سے ہندو اورسکھ ممبران میں شدید بحث شروع ہوگئی۔ آخر غصہ سے آگ بگولہ سکھ ممبران کھڑے ہوگئے اور کہا کہ اگر کالج ہندو ممبران کے ایما پر دہلی میں قائم ہوگا تو اب ہم جان کی بازی لگا دیں گے کہ اگر کالج دہلی میں ہوگا تو اس کا ہاسٹل ہر حالت میں امرتسر میں قائم ہوگا۔

یہی حال ہمارا ہے کہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری بہاولپوراور ایڈیشنل آئی جی پولیس ملتان بیٹھا کریں گے۔ہمارے وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہر نئی حکمت عملی ایک لطیفے پرمنتج ہوتی ہے۔ عثمان بزدار صاحب خدارا ……اب تو آپ کو دو سال ہوگئے ہیں کبھی تو کوئی ڈھنگ کی حکمت عملی بھی اپنالیں اور لطیفوں کو جنم دینا بند کر دیں۔

مزید :

رائے -کالم -