قائم خان کرمانی، نابیناؤں کا ایدھی رخصت ہوا

قائم خان کرمانی، نابیناؤں کا ایدھی رخصت ہوا
قائم خان کرمانی، نابیناؤں کا ایدھی رخصت ہوا

  

ملتان میں سماجی شعبے کی ایک بڑی شخصیت کا انتقال ہوا،لیکن بڑے شہروں میں رہنے والوں کو اس کی خبر ہی نہیں ہوئی، حتیٰ کہ وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ عثمان بزدار بھی بے خبر رہے اور اُن کے میڈیا منیجروں نے اُن کی طرف سے تعزیتی بیان تک جاری کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ عبدالستار ایدھی تو وفات کے بعد اپنی آنکھیں عطیہ کر گئے تھے، مگر مَیں جس شخصیت کا ذکر کر رہا ہوں وہ خود پیدائشی نابینا تھے، تاہم انہوں نے اپنی بے مثال جدوجہد، کوشش اور خلاق ذہنیت سے نابیناؤں کو علم کے نور سے منور کرنے کی جو شمع جلائی اُس نے تاریک زندگیوں میں اُجالے بھر دیئے،جی ہاں مَیں بات کر رہا ہوں محمد قائم خان کرمانی کی، جن کا گزشتہ دِنوں انتقال ہو گیا، میری اُن سے شناسائی کا آغاز 1980ء کی دہائی میں ہوا۔ انہوں نے چوک کمہاراں والا پر جنوبی پنجاب کا پہلا بلائنڈ سنٹر قائم کیا تھا اور مَیں اُس کے بارے میں فیچر بنانے کے لئے اُس کے پاس گیا تھا۔ اُس زمانے میں وہ سنٹر بہت زیادہ سہولتوں سے آراستہ نہیں تھا تاہم محمد قائم خان کرمانی کے عزائم بتا رہے تھے کہ وہ اسے نابیناؤں کا ایک ایسا ادارہ بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے، جو بصارت سے محروم افراد کے لئے باعزت اور باوقار زندگی گزارنے کا وسیلہ ثابت ہو گا،آج جب محمد قائم خان کرمانی دُنیا سے رخصت ہوئے ہیں تو بلاشبہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اُن کا بنایا ہوا یہ ادارہ پورے مُلک میں نابیناؤں کا نجی شعبے میں سب سے بڑا ادارہ ہے۔

محمد قائم خان کرمانی کو نابیناؤں کا عبدالستار ایدھی کہا جاتا ہے،جس طرح عبدالستار ایدھی نے غریبوں، یتیموں اور بے سہارا افراد کے لئے ایدھی فاؤنڈیشن کو وقف کیا، اُسی طرح محمد قائم خان کرمانی نے ملتان بلائنڈ سنٹر جس کا بعد میں نام محمد بن قاسم بلائنڈ سنٹر رکھا گیا،بنا کر ایک بڑے کام کی ابتدا کی، ذرا آپ سوچیں کہ نصف صدی پہلے یہ سوچ اُن کے ذہن میں کیسے آئی کہ خود نابینا ہو کر اور وسائل کی کمی کے باوجود انہوں نے یہ ادارہ بنانے کا فیصلہ کیا،آج ملتان کا چوک کمہاراں والا اپنے نام سے پہچانا جاتاہے تاہم یہ حقیقت ہے کہ تین چار دہائیوں تک اُس کی پہچان بلائنڈ سنٹر بنا رہا۔ مجھے یاد ہے کہ محمد قائم خان کرمانی نے معاشرے میں اسی بات کا شعور اُجاگر کرنے کے لئے کہ نابینا بھی زندہ رہنے کا حق رکھتے ہیں،اُن میں قدرت نے اگر ایک کمی رکھی ہے تو دوسری بہت سی صلاحیتیں بھی انہیں ودیعت کی ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ ملتان میں اکثر نابینا سفید چھڑی پکڑ کر ٹولیوں میں بھیک مانگتے نظر آتے تھے، اس ادارے نے انہیں مفید شہری بنانے کے عملی اقدامات اٹھائے۔ ایک بار مَیں نے اسی دور میں قائم خان کرمانی سے یہ سوال پوچھا تھا کہ وہ اس ادارے کے خراجات کیسے پورے کریں گے، کیونکہ آپ نہ فیس لیتے ہیں اور نہ تین وقت کا کھانا دینے کا خرچ، اس پر وہ مسکرائے تھے اور انہوں نے کہ تھا اللہ بڑا کار ساز ہے، آپ دیکھیں گے جلد ہی نابینا ہنر مند بن کر نہ صرف اپنے لئے،بلکہ اس ادارے کے لئے بھی وسائل پیدا کرنے کا سبب بن جائیں گے، پھر مَیں نے آگے چل کر دیکھا کہ قائم خان کرمانی کا دعویٰ درست ثابت ہوا۔بلائنڈ سنٹر میں نابینا فرنیچر تیار کرنے لگے،کرسیاں بننے لگے، حتیٰ کہ لکھنے پڑھنے کا کام بھی کرنے لگے۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ڈیمانڈ زیادہ تھی اور مال کم تیار ہوتا تھا۔

محمد قائم خان کرمانی کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے معاشرے سے یہ تاثر حرف غلط کی طرح مٹا دیا کہ بصارت سے محروم افراد ایک بوجھ ہیں،انہوں نے جدید تعلیم کے دروازے بھی نابیناؤں پر کھولے،انہیں اپنی صلاحیتوں کے مطابق ہر شعبے میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کئے اور وہ ادارہ جو انہوں نے بے سرو سامانی کے عالم میں کھولا تھا،ایک تناور درخت بن کر ایسی چھاؤں کا باعث بن گیا،جو بے کسوں اور مجبوروں کو دھوپ سے بچاتی ہے۔ مخدوم جاوید ہاشمی جب محمد قائم خان کرمانی کی یاد میں تعزیتی ریفرنس سے خطاب کر رہے تھے تو اُن کی آنکھوں میں نمی تھی، انہوں نے کہا جب مَیں طالب علم تھا تو اسی بلائنڈ سنٹر میں آتا تھا اور مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوتی تھی کہ بصارت سے محروم نوجوان آگے بڑھنے کی لگن سے سرشار ہیں اور یہ ادارہ انہیں موقع فراہم کررہا ہے۔ جاوید ہاشمی نے کہا کہ جب وہ وزیر بنے تو ملتان کے پہلے دورے پر انہوں نے اس سنٹر کا دورہ کرنا بھی ضروری سمجھا اور محمد قائم خان کرمانی کو حکومتی سطح پر ہر قسم کے تعاون کا یقین دلایا۔

انہوں نے جو حکم کیا اُسے پورا کیا، تاہم وہ خود اتنے خوددار اور باوقار شحض تھے کہ سب کچھ اپنے عزم اور ارادے سے پورا کرنے پر یقین رکھتے تھے۔اُن پر لوگوں کا مکمل اعتقاد تھا۔شہر کے مخیر حضرت اور ادارے ہمیشہ اُن کی کال پر لبیک کہتے تھے اور جو کچھ بلائنڈ سنٹر کے لئے درکار ہوتا مہیا کرتے تھے۔ محمد قائم خان کرمانی ملتان کے سماجی چہرے کا ایک خوبصورت حوالہ تھے، اُن کی وفات سے صحیح معنوں میں ملتان ایک نفیس، ہمدرد اور عظیم شخصیت سے محروم ہو گیا ہے۔ مخدوم جاوید ہاشمی نے محمد قائم خان کرمانی کے بارے میں جو کچھ کہا، اُس کا حرف حرف سچ ہے، اُن کی زندگی اہل ِ ملتان کے لئے ایک کھلی کتاب ہے۔اُن کی وجہ سے جنوبی پنجاب کے ہزاروں نابینا افراد آج پڑھ لکھ کر یا ہنر سیکھ کے معاشرے میں باوقار خود کفیل زندگی گزار رہے ہیں۔

محمد قائم خان کرمانی علم و ادب کے اوصاف سے بھی متصف تھے، شہر کی اکثر تقریبات میں جب وہ شریک ہوتے تو اپنے خیالات اور خطاب سے اہل ِ محفل کو خاصے محظوظ کرتے۔ وہ ہمیشہ اپنی مثال دیتے کہ اگر وہ نابینا ہونے کی وجہ سے ہمت ہار دیتے تو نہ اپنا بوجھ اٹھا سکتے اور نہ دوسروں کے کام آ سکتے۔ اللہ تعالیٰ جب کسی کو آزمائش میں ڈالتا ہے تو اُس آزمائش سے نکلنے کا راستہ بھی رکھ دیتا ہے،اب یہ انسان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اُس راستے کو تلاش کرے۔ وہ ہمیشہ یہ کہا کرتے تھے کہ نابینا افراد ظاہر کی چکا چوند اور رنگینیوں کو نہیں دیکھ سکتے تاہم اُن کے اندر کی دُنیا پوری طرح روشن اور تابناک ہوتی ہے۔وہ کہتے تھے کہ نابینا افراد میں سوچنے، سمجھنے، یاد کرنے اور سیکھنے کی صلاحیت عام لوگوں سے زیادہ ہوتی ہے۔ وہ اپنی باتوں سے نابیناؤں کے لئے حوصلے اور زندہ رہنے کا جذبہ پیدا کرتے تھے، اب یہ ذمہ داری اُن کی بیٹی سعدیہ کرمانی پر ٓا پڑی ہے، کہ وہ محمد بن قاسم بلائنڈ سنٹر جیسے تاریخی اہمیت کے حامل ادارے کو اُسی طرح چلائیں جیسے اُن کے والد محمد قائم خان کرمانی نے چلایا۔ ملتان کے اہل ِ ثروت اس ادارے کی معاونت اُسی طرح جاری رکھیں،جیسے انہوں نے محمد قائم خان کرمانی کے دور میں جاری رکھی، وہ تاریک راہگزر پر چلنے والے افراد کے لئے روشنی کی جو شمع جلا گئے ہیں، اُس بجھنا نہیں چاہئے۔

مزید :

رائے -کالم -