حکومتی ہدایات کے باوجود، مویشی منڈیاں قائم

حکومتی ہدایات کے باوجود، مویشی منڈیاں قائم

  

ایس او پیز نظر انداز، شہر میں جانور موجود

سیاسی سرگرمیاں ٹھنڈی،

لاہور سے چودھری خادم حسین

حکومت کا موقف ہے کہ سمارٹ لاک ڈاؤن کی وجہ سے مثبت نتائج مل رہے ہیں اور کورونا متاثرین کی تعداد میں کمی ہو رہی ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ لاہور میں کیسز کم ہو گئے ہیں اس کے ساتھ ہی وزیراعظم اور صوبائی حکومت نے بھی عوام سے اپیل کی کہ وہ عیدالضحیٰ سادگی سے منائیں اور شعبہ صحت کی طرف سے بتائے گئے حفاظتی اقدامات پر سختی سے عمل کریں، حکومتی اطلاع سے اطمینان ضرور ہونا چاہیے لیکن یہاں مسلسل تشویش پائی جاتی ہے کہ شہری حفاظتی تدابیر پر کماحقہء عمل نہیں کرتے اگرچہ ماسک والوں کی تعداد بڑھی ہے لیکن بازاروں اور مارکیٹوں میں سماجی فاصلے کا بالکل خیال نہیں کیا جاتا جو از بس لازم ہے۔

یہ مہینہ عیدالضحیٰ کی آمد کا ہے اور یہ عید قربانی سے متصور ہے، اس لئے حکومت نے اس سلسلے میں جو ایس او پیز جاری کئے ہیں۔ ان میں خصوصی طور پر مویشی منڈیوں کا ذکر کیا گیا اور ہر ضلع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ مویشی منڈیاں شہری حدود سے کم از کم تین کلو میٹر باہر لگائی جائیں۔ مویشی بیچنے اور خریدنے والے ماسک، گلوز اور سینی ٹائزر کا استعمال کریں، بوڑھے اور بچے ان منڈیوں میں نہ جائیں اور سماجی فاصلے کا لحاظ رکھا جائے۔ شہروں کے اندر جانور فروخت کرنے اور ذبح کرنے پر پابندی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ منڈیوں کا سلسلہ عید سے پندرہ روز قبل شروع کیا جائے۔ یہ انتظامات بہتر نظر آتے ہیں، اگر ان پر عمل ہو، تاہم ابھی تک ان حفاظتی اقدامات کو نظر انداز کیا گیا، مویشی منڈیاں بھی وقت سے پہلے آباد ہوئیں اور شہروں میں جانور بھی موجود ہیں، بیوپاری حسب سابق بکرے، چھترے اور گائے لئے پھر رہے ہیں، حتیٰ کہ مغل پورہ کے پار بیوپاری لاہور کینال میں بکروں کو نہلاتے بھی پائے گئے، بلدیہ کے تہ بازاری عملے نے ایک دو جگہ سے جانور قبضہ میں بھی لئے ہیں، تاہم عمل درآمد میں کوتاہی پائی جاتی ہے، اس کا اندازہ شاہ پور کانجراں کی مویشی منڈی سے لگایا جا سکتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ تمام سرکاری عملے کو چوکس کیا جائے اور مویشیوں کے داخلے کو روکا جائے اور مویشی منڈیوں میں سی او پیز پر عمل کو یقینی بنایا جائے۔ سب سے بڑا مسئلہ ذبیحہ کا ہوگا، سرکاری ہدائت تو یہ ہے کہ ذبیحہ گھروں اور محلوں میں نہیں ہوگا، رفاعی انجمنوں، تنظیموں اور دینی اداروں کے صحنوں میں کیا جائے گا، اس سلسلے میں قربانی دینے والے ابھی سے قصابوں سے وقت طے کر رہے ہیں اور ذبیحہ گلی، محلوں اور پارکوں ہی میں ہونے کے خدشات ہیں، ابھی وقت ہے کہ مناسب اور پورے انتظامات کر لئے جائیں۔

عید قربان ہی کے حوالے سے یہاں سیاسی سرگرمیاں ٹھنڈی ہیں، حتیٰ کہ پیپلزپارٹی کے بلاول بھٹو زرداری کی تجویز کردہ کل جماعتی کانفرنس کی کوئی حتمی تاریخ اور مقام بھی طے نہیں پا سکا، جس کی بنیادی وجہ مسلم لیگ (ن) کے مرکزی صدر محمد شہباز شریف ہیں کہ وہ قومی اسمبلی میں بڑی جماعت کے باعث قائد حزب اختلاف بھی ہیں۔ بلاول بھٹو نے رابطوں میں یہی تجویز کیا کہ مسلم لیگ (ن) بھی آمادہ ہے، اس لئے تاریخ کا تعین محمد شہباز شریف کریں گے۔ بلاول بھٹو اور شہباز شریف کے درمیان لاہور میں رابطہ ہوا کہ بلاول نے یہاں قریباً ایک ہفتہ قیام کیا تھا، فون پر بات ہوئی،کل جماعتی کانفرنس کے انعقاد پر بھی اتفاق پایا گیا لیکن تاریخ طے نہ ہوئی کہ محمد شہبازشریف کورونا کے باعث خود کو قرنطینہ کئے ہوئے ہیں، اگرچہ ان کا ٹیسٹ اب منفی آ گیا، تاہم اپنے بقول وہ ڈاکٹروں کی ہدائت پر آرام کر رہے ہیں، یوں محسوس ہوتا ہے کہ شہبازشریف کو باوجوہ ایسی کانفرنس میں دلچسپی نہیں کہ وہ نیب کی طرف سے گرفتاری کے خدشہ کے پیش نظر بھی طبی وجوہ پر ہی ضمانت میں توسیع لے رہے ہیں۔ نیب کی طرف سے بھی ہر پیشی پر ضمانت کی مخالفت کی جاتی ہے۔ اس لئے شہبازشریف کی شرکت مشکوک ہے۔ اس لئے کل جماعتی کانفرنس بھی عیدالاضحیٰ سے پہلے ممکن نہیں ہوگی۔ اگرچہ مولانا فضل الرحمن اور بلاول جلد چاہتے ہیں، اب بھی عید کے بعد کی تاریخ پر اتفاق ہوا تو شہباز شریف خود شریک نہ ہوں گے۔ ان کی جگہ شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال ہی شرکت کریں گے۔

لاہور میں مجموعی طور پر سیاسی سرگرمیاں ماند ہیں، تاہم جماعت اسلامی نے جہاں حکومت کی کمزوریوں اور کوتاہیوں کو اجاگر کرنے کی مہم شروع کر رکھی ہے، وہاں ساتھ ہی بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں بھی کی جا رہی ہیں، اس سلسلے میں ضلعی امیر اجلاس منعقد کرکے ابھی سے حلقہ وار امیدواروں کا چناؤ شروع کر چکے ہیں۔ لاہور کے امیر ذکر اللہ مجاہد کافی سرگرم ہیں اور اب تک متعدد حلقوں کے امیدوار نامزد کر چکے اور اکثر کو کام شروع کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ جماعت اب انتخابات میں اکیلے اور خود اپنے پروگرام پر حصہ لینے کا ارادہ کئے ہوئے ہے، مرکزی امیر بھی اس حوالے سے ملک بھر کے دورے جاری رکھے ہوئے ہیں اور سماجی بہود کے کام بھی ہو رہے ہیں، حتیٰ کہ مستحق افراد کے لئے راشن کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ یہ خدمت کسی بڑی تشہیر کے بغیر کی جاتی ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -