وزیر اعظم نے احتیاط کی پھر اپیل کر دی

وزیر اعظم نے احتیاط کی پھر اپیل کر دی

  

ڈبلیو ایچ او کی تلقین،کرونا سے جلد چھٹکارا نہیں ملے گا،

اسلام آباد سے سہیل چودھری

دارالحکومت میں گرمی زوروں پر ہے تاہم کبھی کبھار بارش سے گرمی کا زور تو ٹوٹ جاتا ہے لیکن سیاسی درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرپرسن بلاول بھٹو زرداری فرنٹ فٹ پر کھیل رہے ہیں وہ حکومت کے خلاف زوردار بیان داغ رہے ہیں اور وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید اپنے مخصوص جذباتی انداز میں جواب دے رہے ہیں جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز اپوزیشن کو مدبرانہ انداز میں جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں ان کی شخصیت کا بھی یہی خاصہ ہے جبکہ حکومت کی جانب سے باقی رہی سہی کسر شہباز گل اپنے تابڑ توڑ بیانات سے پوری کر دیتے ہیں یہ امر قابل ذکر ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ حکومت اور اپوزیشن کے مابین سیاسی گولہ باری کا حصہ نہیں بن رہے بلکہ ان کی بھرپور توجہ سی پیک کے منصوبوں پر ہے۔ اپوزیشن رہنما شہباز شریف حکومت پر مثبت اور ٹھوس انداز میں تنقید کرتے ہیں۔ دارالحکومت تخت لاہور کے مستقبل کے حوالے سے بھی خوب بحث و تمحیص جاری ہے۔ وزیراعظم عمران بھی اپنی فیلڈنگ کا بغور جائزہ لے رہے ہیں اور ان کی طرف سے ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ اگر ان کی ٹیم نے کارکردگی نہ دکھائی تو وہ اس میں تبدیلیاں کریں گے۔وزیراعظم عمران خان اب چاہتے ہیں کہ موثر طرز حکمرانی کا مظاہرہ کیا جائے ان کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ چیف سیکرٹری پنجاب جواد رفیق ملک کی تعیناتی کے بعد ایسی چہ میگوئیاں سنائی دے رہی تھیں کہ پنجاب کی سیاسی قیادت ان سے بھی خوش نہیں لیکن وزیراعظم ہاؤس سے ایسے اشارے ملے ہیں کہ اب چیف سیکرٹری پنجاب جواد رفیق ملک کو تبدیل نہیں کیا جائے گا دارالحکومت میں حکومت کے مستقبل کے حوالے سے مختلف قیافے لگائے جا رہے ہیں۔ ایک طرف حکومت کے اہم اتحادی ناراض بیٹھے ہیں تو دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف کے بعض ارکان اسمبلی بھی اپنی ہی حکومت سے مطمئن نہیں ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن بھی غیر معمولی طور پر متحرک نظر آتے ہیں۔ اب دیکھنا ہے کہ وہ اپوزیشن کا حکومت کے خلاف کس حد تک کوئی مشترکہ لائحہ عمل بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ کورونا سے قبل بھی ملک کی معیشت کی ناؤ ڈگمگا رہی تھی لیکن کورونا کے بعد کی صورت حال مزید دگرگوں ہو گئی ہے۔ حکومت سمارٹ لاک ڈاؤن کی اپنی پالیسی پر نازاں ہے اس کا دعویٰ ہے کہ کورونا کی وبا میں واضح کمی واقع ہو رہی ہے لیکن اپوزیشن کا الزام ہے کہ حکومت کورونا کے مریضوں کے ٹیسٹ کم کر رہی ہے۔ اصل اعداد و شمار سرکاری اعداد و شمار سے مختلف ہیں تاہم سرکاری اعداد و شمار کو بھی مدنظر رکھا جائے تو کورونا کے مریضوں کی تعداد ڈھائی لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ ہر روز تقریبا 2ہزار نئے کیس آ رہے ہیں موذی مرض کی بنا پر مرنے والوں کی تعداد 5ہزار سے بڑھ چکی ہے جبکہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے ایک بیان میں اعتراف کیا کہ ہم نے عیدالفطرپر احتیاط کے تقاضوں کو بالائے طاق رکھ دیا جس کی بدولت اس وبا میں اضافہ ہوا اب عید الاضحیٰ آ رہی ہے جس کے لئے حکومت خصوصی ایس او پیز تیار کر رہی ہے لیکن اصل مسئلہ ان ایس او پیز پر عمل درآمد کا ہے حکومت نے اس حوالے سے تاحال موثر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ اب دیکھنا ہے کہ حکومت عید شاپنگ اور اس تہوار کو منانے کے حوالے سے کیا لائحہ عمل بناتی ہے اور اس پر کس حد تک عمل درآمد کروانے میں کامیاب ہو پاتی ہے جبکہ ڈبلیو ایچ او بار بار تنبیہ کر رہا ہے کہ یہ مرض دنیا سے جلد جانے والا نہیں ہے اور جو ممالک لاک ڈاؤن کھول رہے ہیں یا نرمی کر رہے ہیں وہ خطرات مول لے رہے ہیں دارالحکومت میں بعض اہم ترین سرکاری دفاتر میں بھی کورونا کے لئے مکمل حفاظتی تدابیر نہیں اپنائی جا رہی ہیں جس کی وجہ سے بعض محکموں کے اعلیٰ ترین افسران بھی کورونا کا شکار ہو رہے ہیں۔ دارالحکومت میں جی اور آئی سیکٹرز کے کاروباری مراکز میں کوئی خاص احتیاطی تدابیر دیکھنے میں نہیں آ رہی ہیں۔ مغرب کی اذان تک پارکس کھول دیئے گئے ہیں لیکن پارکس میں بھی اکثریتی لوگ بغیر ماسک کے گھوم رہے ہوتے ہیں اور انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ دوسری طرف مارکیٹ میں کورونا سے بچاؤ کے لئے ڈاکٹروں کے تجویز کردہ وٹامنز اچھی کوالٹی کے دستیاب نہیں اور ان کی جگہ ناقص کمپنیوں کی مصنوعات کی بھرمار ہے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے اس طرح بہت سے علاقوں میں غیر معیاری ماسک بھی فروخت ہو رہے ہیں۔ دارالحکومت میں یوم شہدائے کشمیر نہایت احترام اور بھرپور جذبے کے ساتھ منایا گیا۔ حکومت اور اپوزیشن رہنما اور عسکری قیادت کی جانب سے اس ضمن میں بیانات جاری ہوئے جبکہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے لے کر کنٹرول لائن پر اشتعال انگیزی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ تعلقات کار کی بہتری کے لئے افغانستان کو بھارت کے ساتھ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی اجازت دے دی ہے۔ تاہم اس سے بھارت کو بھی رعایت مل گئی ہے۔ افغانستان کے لئے خصوصی نمائندہ سفیر محمد صادق نے اس ضمن میں پہل کی اب دیکھنا ہے کہ بھارت اور افغانستان خیر سگالی کے اس جذبہ کا کیا جواب دیتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپوزیشن اور حکومت کا زوردار ٹاکرا جاری، شبلی فراز اور مراد سعید اپنے اپنے انداز سے حملہ آور

لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم کی ساری توجہ سی پیک منصوبوں کی تکمیل پر مرکوز،افٖٖغان ٹرانزٹ ٹریڈ کھول دی گئی

مزید :

ایڈیشن 1 -