خیبر پختونخوا ، مشیر اطلاعات کی برطرفی

خیبر پختونخوا ، مشیر اطلاعات کی برطرفی

  

ماہ رواں کی یکم اور آٹھ تاریخ کو شائع ہونے والی ڈائریوں میں دو پیش گوئیاں کی گئی تھیں، جو دونوں درست ثابت ہوئیں، خیبرپختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقاتِ عامہ اجمل وزیر کو ان کے منصب سے ہٹا دیا گیا اور یہ قلم دان کامران خان بنگش کے حوالے کیا گیا ہے جبکہ افغانستان کے حوالے سے یہ تحریر کیا گیا تھا کہ اگر دوحہ مذاکرات کے نتیجے میں طے ہونے والے معاہدے کے تحت طالبان قیدی رہا نہ کئے گئے تو افغانستان میں امن و امان کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ جن دونوں مذکورہ امور پر رائے زنی کی گئی تھی، وہی نتائج برآمد ہوئے، افغانستان میں حالات دن بدن خراب ہوتے جا رہے ہیں اور رواں ہفتے کے دوران ہی امن تباہ کرنے کے کئی واقعات رونما ہو چکے ہیں۔

افغانستان کے مشرقی صوبے میں سڑک کے کنارے نصب بم پھٹنے سے گاڑی میں سوار خواتین اور بچوں سمیت چھ شہری جاں بحق ہوگئے، ضلع جاگاتو میں گاڑی مسافروں کو لے کر منزل کی طرف جارہی تھی کہ روڈ پر نصب بم سے ٹکرا گئی اور دھماکے میں آٹھ شہری زخمی بھی ہوگئے، تاحال کسی تنظیم یا گروہ نے فوری طور پر حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، دو تین روز قبل اسی صوبے میں طالبان کے ایک حملے میں سڑک کے کنارے نصب بم کے ذریعے ضلع ڈیاک میں پولیس سربراہ اور ان کے دو محافظوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ہم نے ان سطور میں یہ بھی تحریر کیا تھا کہ دوحہ مذاکرات پر اس کی اصل روح کے مطابق عملدرآمد نہیں ہو رہا اور شائد اسی وجہ سے دارالحکومت کابل سمیت افغانستان کے مختلف علاقوں میں امن دشمن کارروائیاں سر اٹھا رہی ہیں، آئے روز کوئی نہ کوئی واقعہ پیش آ جاتا ہے جس میں کئی انسانی جانیں بھی ضائع ہو رہی ہیں۔ اس قسم کی کارروائیاں مسلسل ہو رہی ہیں لیکن شاید افغان حکومت معاملات کا سنجیدگی اور باریک بینی سے جائزہ لینے سے قاصر ہے۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو پاکستان ہمیشہ سے افغانستان میں امن کے قیام کا خواہاں ہے، حال ہی میں ہماری حکومت نے گڈوِل جیسچر کے طور پر ایک اہم فیصلہ کیا ہے پاک افغان بارڈر پردوطرفہ ٹریفک بحالی کے بعد افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی بحالی کیلئے واہگہ بارڈر آج سے کھولا جا رہا ہے، افغانستان حکومت کی خصوصی درخواست پر پاکستان نے 15 جولائی 2020 سے واہگہ بارڈر کراسنگ کھولنے کا فیصلہ کیا تاہم کورونا سے متعلق تمام احتیاطی تدابیر پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔ اس اقدام سے پاکستان نے پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدہ کے تحت اپنا وعدہ پورا کردیا ہے، اب گیند افغان حکومت کی کورٹ میں ہے کہ وہ دوحہ معاہدہ کی شقوں پر عمل کر کے کابل میں حالات معمول پر لائیں۔ یہ اطلاع بھی ہے کہ پاکستانی حکومت کی کوششوں سے افغانستان میں پھنسے 843 پاکستانی طور خم سرحد کے راستے پاکستان پہنچ گئے،طبی معائنے کے بعد تمام پاکستانی مسافروں کواپنے گھروں کو جانے کی اجازت دے دی گئی۔ ہمارا یہ موقف بھی درست قرار پایا کہ افغانستان میں ہونے والی امن دشمن کارروائیوں کا رد عمل پاکستان بالخصوص کے پی کے میں بھی دکھائی دیتا ہے، جس کی تازہ ترین مثال دو روز قبل شمالی وزیرستان میں ہونے والی ہماری فورسز کی کارروائی ہے جنہیں اطلاع ملی تھی کہ بعض دہشت گرد اس سرحدی علاقے کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔ انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن کے دوران چاردہشت گرد ہلا ک جبکہ سیکورٹی فورسز کے چار اہلکار جام شہادت نوش کر گئے۔ ضلع میرانشاہ بویا سے 8کلومیٹر جنوب مغرب میں وژدھاسر میں سیکورٹی فورسزنے دہشت گردوں کیخلاف آپریشن کیا۔سیکورٹی فورسز نے جونہی علاقے کا محاصرہ کیادہشت گروں نے فائرنگ شروع کردی۔ فائرنگ کے تبادلے کے دوران فورسز نے تمام دہشتگروں کا صفایا کردیا جبکہ سیکورٹی فورسز کے چار جوان سپاہی محمد اسماعیل خان،سپاہی محمد شہباز یاسین،سپاہی راجہ وحید احمد اور سپاہی محمد رضوان خان جام شہادت نوش کر گئے۔

جہاں تک مشیر اطلاعات اجمل وزیر کی برطرفی کا تعلق ہے تو اس حوالے سے متنازعہ بیانات اور معاملات سامنے آ رہے ہیں، یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ان کے خلاف جس الزام کے تحت کارروائی کی گئی اس کے مدعی ثاقب بٹ نے ان الزامات کو سرے سے ہی بے بنیاد قرار دے دیا ہے اور موقف اختیار کیا ہے کہ میں نے اس قسم کی کوئی بات نہیں کی لیکن دوسری جانب اجمل وزیر کی مبینہ آڈیو ٹیپ سے متعلق اشتہار کے معاملے پر محکمہ اطلاعات نے رپورٹ وزیراعلیٰ محمود خان کو بھیج دی، جنہوں نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے اس کی مزید تحقیقات کے لئے سینئر ارکان اسمبلی پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کر دی ہے جو تمام پہلوؤں کا جائزہ لے گی، اس حوالے سے پاکستان مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا کے صدر انجینئر امیرمقام نے کہا کہ اجمل وزیربیچارے کوقربانی کابکرابنادیا،محض ایک آڈیوکلپ پراجمل وزیرکوگھربھیج دیا، جن پرتلاشی لینے کے بعدآٹا اورچینی سکینڈل ثابت ہوااورجن کی کرتوتوں کی وجہ سے نہ سرکاری خزانے کونقصان بلکہ کروڑوں غریبوں کوفاقے جھیلنے پڑے انہیں کب گھرکاراستہ دکھائیں گے۔انہوں نے کہاکہ عمران نیازی کی پارٹی میں بڑے سکینڈل ملزمان کیلئے الگ جبکہ معمولی سکینڈل والوں کیلئے الگ قوائد ہیں حکومت نے آٹا،گندم، چینی اورملم سکینڈل کے ملزمان کیخلاف کب کاروائی کریں گے؟ حکومت نے دوائیوں میں کمیشن لینے والوں کیخلاف کیا ایکشن لیا؟حکومت نے پٹرولیم مصنوعات میں اربوں روہے کمیشن بنانے والوں کیخلاف کیاایکشن لیا،بی آر ٹی اور مالم جبہ میں کرپشن کے واضح ثبوتوں کے باوجودبدعنوان عناصرکیخلاف کوئی کاروائی نہیں کی گئی،تحریک انصاف چوروں اور کمیشن مافیا کا کیمپ ہے اور وزیراعظم انکو تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف صرف پگڑیاں اچھال رہی ہے۔ نئے مشیر اطلاعات کامران بنگش کا کہنا ہے کہ آڈیو لیک ہونے پر وزیراعلیٰ نے بروقت اور واضح نوٹس لیا ہے شفافیت کو برقرار رکھنے کے لئے اجمل وزیر کو عہدے سے ہٹایا گیا جبکہ مبینہ آڈیو کا فرانزک تجزیہ بھی کرایا جائے گا،اگر اجمل وزیر بے گناہ ثابت ہوئے تو دوبارہ ٹیم کا حصہ ہونگے۔ خفیہ اطلاع یہ بھی ملی ہے کہ ایک دو مزید صوبائی وزیر بھی کرپشن الزامات کے تحت فارغ ہونے والے ہیں گزشتہ ہفتے کی ڈائری میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے اس موقف کو بھی موضوع بحث بنایا گیا تھا کہ نیب بلین ٹری اور پشاور میٹرو سروس (بی آر ٹی) جیسے منصوبوں کی تحقیقات بھی کرے اس حوالے سے تا حال کوئی پیش رفت تو نہیں ہوئی تاہم یہ بات ضرور سامنے آئی ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے گڑھی چندن پشاور میں بلین ٹری سونامی پروگرام کے لاکھوں درختوں کو آگ لگانے کی انکوائری سرد خانے کی نذر ہوگئی ہے، جنگل کو آگ لگانے کے الزام میں گرفتار دو افراد ضمانت پر رہا ہوچکے ہیں تاہم حکومتی تحقیقاتی کمیٹی تاحال انکوائری میں مصروف ہے، یہ اطلاع بھی ہے کہ کے پی کے اسمبلی کے اپوزیشن ارکان نے اس حوالے سے اعلیٰ سطحی کمیٹی کے قیام اور مخلصانہ انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -