قائد اعظم سولر پارک سے دو ارب چوالیس کروڑ روپے کی آمدنی ہوئی

قائد اعظم سولر پارک سے دو ارب چوالیس کروڑ روپے کی آمدنی ہوئی

  

ملتا ن سے شوکت اشفاق

عوام کے ووٹوں سے منتخب جمہوری حکومت کو عوامی فلاح وبہبود اور خوشحالی کیلئے کام کرنے میں زیادہ دلچسپی ہونی چاہیے کیونکہ ان کو ووٹ ایسے خوش کن وعدوں پر مبنی منشور یا پھر ایسی تقاریر کے زور پر حاصل ہوتے ہیں مگر یہاں المیہ مختلف ہے کہ ذاتیات اور الزام تراشی ہی منشور بن جاتا ہے تعلیم،صحت تو درکنار مہنگائی کے اسباب کو قابو پانے کیلئے بھی ایک اور سیاست برپا کردی جاتی ہے، مخصوص طبقہ کو ہی عام آدمی سمجھ کر نوازشات کی بارش کردی جاتی ہے اور عوام کو خوش کرنے کیلئے وزراء بیان داغتے ہیں کہ سب اچھا ہے اور بیان کرتے ہیں کہ اپوزیشن کی بے خوف کرپشن اور نااہلی سامنے لانا اولین ترجیح ہے، یعنی تحریک انصاف کی حکومت میں عوامی فلاح ترجیحات شامل نہیں اور محض اپوزیشن کی بیخ کنی ان کی ترجیحات میں شامل ہے اب بھلا ان سے کوئی پوچھے کہ ایک ایسی اپوزیشن جو واقعی اپوزیشن نہیں ہے اور ہومیو پیتھک سے بھی کم درجے کی ہے وہ انہیں کیا نقصان دے رہی ہے بلکہ دیکھا جائے تو شاید تاریخ کی کمزور ترین ہے جو حکومت کی متعدد نااہلیوں پر صرف بیان بازی سے پریشر رکھنے تک محدود ہے جو عوامی قوت کا دعویٰ ہونے کے باوجود ابھی تک متحد نہیں ہوسکی ان کی تو اصل میں بیخ کنی ہوچکی ہے اور کیا یہ وہ وقت نہیں ہے کہ اب ایسے بیانات سے اجتناب کرکے کوئی مثبت کام کرلیا جائے کیونکہ ان کے تمام دعوؤں کی نفی ہوچکی ہے خیر سے کسی کرپٹ سے نہ تو اربوں روپے وصول کئے جاسکے ہیں اور نہ ہی انہیں پابند سلاسل رکھاجاسکا ہے اب جیلوں میں صرف وہ طبقہ ہے جو ضمانت لینا چاہتا ہے اور نہ کوئی ان کی ضمانت دینا چاہتا ہے حالانکہ انہیں یہ سب معلوم ہے لیکن سمجھنا نہیں چاہتے کہ آگاہی بھی ایک عذاب ہے ویسے ایک عذاب تو انہوں نے مہنگائی کی صورت میں نازل کررکھا ہے لیکن اس کے بارے میں بینک دولت پاکستان کے درآمد ی گورنر کا کہنا ہے کہ شرح سود اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ میں کمی سے مہنگائی پر قابو پانے میں مدد ملی ہے کرونا کی وجہ سے قرضوں کی ادائیگی میں مؤخر ہونا دوسری وجہ ہے جس سے زرمبادلہ کے ذخائر میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے البتہ مہنگائی میں اضافے کی وجہ سپلائی میں رکاوٹیں تھیں جو بتدریج کم ہورہی ہیں جن سے مشکلات پر قابو پانے میں مدد ملے گی، ڈاکٹر رضا باقر نے یہ خوشخبری سنائی ہے کہ سٹیٹ بینک کے اقدامات اور متعدد سکیموں کے اجراء سے بے روزگاری پر قابو پانے میں مددملے گی،معاشی سرگرمیاں بڑھیں گی اور قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں آسانی ہوگی۔گورنر بینک دولت پاکستان کی یہ باتیں اس وقت درست ثابت ہوں گی جب یہ تمام حقیقت کا روپ دھار لیں گی۔ ادھر صوبائی وزیر توانائی ڈاکٹر اختر ملک نے اس سال قائداعظم سولر پارک سے2ارب چوالیس کروڑ روپے منافع کمانے کی خوشخبری سنائی ہے غالباً یہ وہی سولر پلانٹ ہے جس کیس کی نیب انکوائری کرتا رہا ہے اور اس پر بھی سابقہ دور حکومت اور موجودہ اپوزیشن کو ترجیحاگالیاں پڑرہی ہیں تاہم وزیر موصوف نے انتظامی امور کے فیصلوں کو میرٹ پرکرنے کو اس کی وجہ قرار دیا ہے اگر یہی بات ہے تو پھر انہیں باقی معاملات میں بھی ایسے ہی میرٹ پر فیصلے کرکے منافع کی شرح کو بہتری کی طرف لانا چاہیے مگر دوسری طرف سابق وزیر مذہبی امور سید حامد سعید کاظمی نے انکشاف کیا ہے کہ حکومت کے پاؤں تلے سے زمین کھسکتی نظر آرہی ہے کیونکہ ان کے پاؤں زمین پر شروع ہی سے ٹک نہیں رہے ہیں رہی سہی کسر عالمی وباء نے پوری کردی اور اب حالت یہ ہے کہ مہنگائی غربت اور امن وامان کی مخدوش صورتحال سے پہلے غریب اور متوسط طبقے کی آہیں اور چیخیں نکل رہی تھیں لیکن اب تو صاحب حیثیت کے نالے بھی بلند ہونے لگے ہیں جو سیاسی اور معاشی عدم استحکام کی نشانی ہے اور حکومت کیلئے وارننگ ہے۔ ادھر فورٹ منرو(ڈیرہ غازیخان کے قریب صحت افزاء مقام ہے) میں وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل وزیر کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ دراصل حکومت کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے بظاہر سرکاری دورے پر وہاں جانے والی وزیر کے ساتھ مقامی لوگوں نے جو کچھ کیا ہے وہ کسی بھی طور پر قابل ستائش نہیں ہے البتہ اگر سیاسی اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ ردعمل ہے کیونکہ اس قسم کی زور آزمائی اور بے عزت کرنے والی سیاست کی بنیاد انہوں نے خود رکھی ہے،روایتی میڈیا سے سوشل میڈیا اور ذاتیات پر حملوں کی روایت کے بھی امین ہیں۔ گو کہ سیاسی اور انتخابی مخالفت کی بناپر اس اقدام کا تمام تر الزام لغاری سرداروں کے سر تھوپا جارہا ہے مگرمعروضی حالات میں دیکھنا چاہیے کہ تحریک انصاف اگر چاہتی ہے کہ اس کے وزیروں کے ساتھ آئندہ ایسے حالات پیش نہ آئیں تو انہیں ”مولاجٹ“ کی زبان ترک کرنی ہوگی کیونکہ اکثر اوقات کچھ وزیروں اور مشیروں کو معلوم ہی نہیں ہوتا اور ان کے نام سے ایسے بیانات منسوب ہو کر شائع اور نشر ہوجاتے ہیں جو یقینا سیا سی نالائقی کا باعث بنتے ہیں اسے روکنا ہوگا اور وزیر مملکت کو فورٹ منرو میں کئے گئے وعدوں کو پورا کرنا ہوگا کیونکہ یہ قبائلی ہیں انہیں مراعات کی زیادہ ضرورت ہے۔ گزشتہ دنوں سابق رکن قومی اسمبلی ملک لیاقت علی ڈوگر طویل علالت کے باعث خالق حقیقی سے جاملے وہ سابق مئیر ملتان اور تحریک انصاف کے قومی اسمبلی میں چیف واہپ ملک عامر ڈوگر،ملک عدنان ڈوگر اور ملک غفار ڈوگر کے چچا تھے انہی دنوں میں ابن قاسم بلائنڈ سنٹر کے بانی سربراہ قائم خان کرمانی طویل علالت کے باعث انتقال کرگئے،انہوں نے تمام عمر نابینا افراد کی فلاح وبہبود کیلئے وقف رکھی اور سفید چھڑی کو بصیرت کے ساتھ عزت دلوانے میں اہم کردار ادا کیا آج ان کے ہزاروں شاگر دہنر مند سکھی زندگی گزار ہے ہیں اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کررہے ہیں،ان کی وفات سے فلاحی کاموں میں ایک بڑا خلاآیا ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -