لاہور ہائیکورٹ، سابق فوجیوں کی محکمہ پولیس میں مستقل کرنے کی درخواستیں مسترد

لاہور ہائیکورٹ، سابق فوجیوں کی محکمہ پولیس میں مستقل کرنے کی درخواستیں مسترد

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے سابق فوجیوں کو پولیس میں مستقل نہ کرنے کے خلاف دائرتمام درخواستیں مسترد کردی ہیں،سرکاری وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سابق فوجی سپاہی مستقل کرنے کی سرکاری پالیسی کے زمرے میں نہیں آتے،سابق فوجیوں نے پولیس میں مستقل نہ کرنے کے خلاف ہائیکورٹ سے رجوع کررکھا تھا۔مسٹرجسٹس شمس محمود مرزا نے محمد اشرف سمیت دیگر ریٹائرڈ فوجیوں کو بطور کانسٹیبل مستقل کرنے کی درخواستوں پر سماعت کی، سرکاری وکیل نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سابق فوجیوں کو قانون کے مطابق ملازمت سے برطرف کیا گیا،ریٹائرڈ فوجیوں کو مستقل کرنے کے حوالے سے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی جس نے اس معاملے کا جائزہ لیااوردرخواست گزاروں کوشنوائی کاموقع بھی دیا،سابق فوجی اشرف سمیت دیگر نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ محکمہ پولیس نے سابق فوجیوں کو بطور سپاہی کی بھرتی کے لئے اشتہار دیامیرٹ پر محکمہ پولیس میں بطور سپاہی بھرتی کیا گیا،ہم دس سال سے محکمہ پولیس میں کنٹریکٹ پر فرائض انجام دے رہے ہیں، دیگر محکموں کے کنٹریکٹ ملازمین کو ملازمتوں پر مستقل کردیا گیا ہے، درخواست گزاروں کا مزید کہنا تھا کہ محکمہ پولیس درخواست گزاروں کو دس سال گزرنے کے باوجود مستقل نہیں کررہا، درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ عدالت آئی جی پنجاب کو سابق فوجیوں کو ملازمت پر مستقل کرنے کا حکم دے، عدالت نے فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد تمام درخواستیں مسترد کردی۔

درخواستیں مسترد

مزید :

صفحہ آخر -