قومی زبان تحریک نے یکساں نصاب کی آڑ میں انگلش میڈیم کی تجویز مسترد کر دی

قومی زبان تحریک نے یکساں نصاب کی آڑ میں انگلش میڈیم کی تجویز مسترد کر دی

  

لاہور (پ۔ر)۱۶/ جولائی کو مرکزی وزیرِ تعلیم کی صدارت میں ہونے والے ایک نام نہاد خانہ ساز پالیسی ساز اجلاس کے دوران توثیق کے لیے یہ تجویز پیش کی جا رہی ہے کہ ملک بھر میں یکساں نصابِ تعلیم کے نفاذ کی غرض سے اسلامیات کے مضمون کے سوا ذریعہ تعلیم انگریزی ہو گا۔ اسلامی مدارس کو نصابی لحاظ سے قومی دھارے میں لانے کے بد نیتی پر مبنی نعرے کے تحت یہ گھناؤنا کھیل کھیلنے کی سازش کی جارہی ہے۔ پاکستان قومی زبان تحریک کے بانی اور مرکزی صدر ڈاکٹر محمد شریف نظامی نے اس پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے بیان جاری کیا ہے کہ یہ تجویز نہ صرف سپریم کورٹ کے ۸/ ستمبر ۲۰۱۵ء کے فیصلے کی توہین ہے بلکہ آئین پاکستان کی شق ۲۵۱/ کی بھی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ایک اور فیصلے کے تحت، آئین کی کسی بھی شق کی خلاف ورزی، شق ۶/ (ملک سے غداری)کے مترادف ہو گی۔ انصاف کی علم بردار حکومت ہوش کے ناخن لے اور ملک بھر میں آئین پاکستان کی شق ۲۵۱/ کے تحت ہر سطح پر اردو ذریعہ تعلیم نافذ کرے۔

انھوں نے آخر میں متذکرہ تجویز کی مذمت کی اور اس کوشش کو یکسر مسترد کرنے کا اعلان کیا۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -