مقبوضہ کشمیر میں ہندوئوں کی آباد کاری نو آباد یاتی عمل کی بدترین مثال: سردار مسعود خان

      مقبوضہ کشمیر میں ہندوئوں کی آباد کاری نو آباد یاتی عمل کی بدترین مثال: ...

  

لاہور (لیڈی رپورٹر) کشمیری نوجوان بھارت کے مظالم اور دنیا کی بے حسی کی وجہ سے شدید غصے کی کیفیت سے گزر رہے ہیں، اپنے حق کو پانے کیلئے وہ اور ہم ہر سرحد پار کرنے کو تیار ہیں،بھارتیہ جنتا پارٹی اور راشٹریہ سوایم سیوک سنگھ نے اپنی فسطائی اور نو آبادیاتی پالیسی کی آڑ میں قتل وغارت، قیدو بند اور تشدد و آبروریزی کا ایک بازار گرم کر رکھا ہے، شہدائے کشمیر کی یاد مناتے ہوئے ہم ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ ہم جموں وکشمیر کی آزادی کیلئے جدوجہد جاری رکھیں گے تاکہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنا حق خودارادیت حاصل کر سکیں، ہم بین الاقوامی برادری سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ وہ تحریک آزادی کشمیر کی بھرپور حمایت کرے۔ ان خیالات کا اظہار صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے ”یوم شہدائے کشمیر“ کے موقع پر نظریہئ پاکستان ٹرسٹ کے زیر اہتمام منعقدہ آن لائن دوروزہ ”شہدائے کشمیر کانفرنس“ کے دوسرے روز اختتامی سیشن کے دوران بطور مہمان خاص اپنے خطاب میں کیا۔سابق چیف جسٹس وفاقی شرعی عدالت جسٹس (ر) میاں محبوب احمد نے کہا کہ کشمیر کا آزاد ہونا اس خطہئ ارض کے دیر پا امن اور سلامتی کیلئے لازم و ملزوم ہے۔کشمیر یوں نے غیر مسلح اور نہتے ہوتے ہوئے بھی اپنے سے کئی گنا بڑی فوجی طاقت کے عزائم ڈنڈے اور پتھروں سے خاک میں ملا رکھے ہیں۔ کشمیر میں ہونے والے ظلم و ستم پر عالمی برادری کی خاموشی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ کشمیر کی آزادی کو دبایا نہیں جا سکتا وہ بہت جلد آزاد ہوں گے۔صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں قابض فوج اور حکمرانوں نے اس تاریخی دن کے حوالے سے تمام تقریبات کو منسوخ کر دیا، ہم اس فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔89برس قبل 1931ء میں جموں وکشمیر کے لوگ مہاراجہ کے ظلم کیخلاف اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ نئے ڈومیسائل قواعد کے تحت بھارت سے لاکر ہزاروں ہندو مقبوضہ کشمیر میں بسائے جا رہے ہیں تاکہ مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلا جائے۔ مسلمانوں سے ان کی نوکری اور روزگار چھین لیا جائے اور ان کی زمین پر ناجائز قبضہ کیا جا سکے۔یہ اکیسویں صدی میں نو آبادیاتی عمل کی بدترین مثال ہے۔وائس چیئرمین نظریہئ پاکستان ٹرسٹ میاں فاروق الطاف نے کہا کہ اس سال یوم شہدائے کشمیر اس حال میں منایا جا رہا ہے جب مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن کو 345 دن ہو چکے ہیں۔ مقبوضہ وادی کے عوام اس لاک ڈاؤن کے دوران کرب و اذیت میں زندگی بسر کر رہے ہیں‘ مگر ابھی تک دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔پاکستان کشمیری عوام کے حق خودارادیت کا سب سے بڑا حامی ہے اور ہر عالمی فورم پر اس کیلئے آواز بلند کر رہا ہے۔ممتاز صحافی ا وردانشور مجیب الرحمن شامی نے اپنے خطاب میں کہا کہ 13جولائی 1931ء کشمیریوں کی تحریک آزادی کا ایک اہم دن ہے اس دن 22کشمیری جوانوں نے اذان کی تکمیل کیلئے اپنی جان جاں ِ آفریں کے سپرد کردی۔ کشمیریوں کی تحریک آزادی آج بھی جاری و ساری ہے اور بھارتی ظلم وستم کا کوئی ہتھکنڈہ انہیں اپنی منزل سے نہیں روک سکتا ہے۔ عالمی برادری کشمیریوں کو ان کا بنیادی حق خودارادیت دلانے کیلئے بھارت پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ آزادانہ طور پر اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں۔ مولانا محمد شفیع جوش نے کہا کہ کشمیر کے مسلمانوں نے لازوال قربانیاں دیکر ثابت کیا کہ وہ اللہ، رسولؐ اور قرآن سے کتنی محبت کرتے ہیں۔ قرآن پاک کی حفاظت اور اذان کی تکمیل کی خاطر مسلمانوں نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔مرزا محمد صادق جرال نے کہاکشمیری آج بھی تحریک آزادی کو جاری رکھے ہوئے ہے۔بھارت مقبوضہ کشمیر میں مسلمان اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی سازش کر رہا ہے لیکن اس کی تمام سازشیں ناکام ہوں گی۔ مسلم کانفرنس آزادکشمیر کے رہنما غلام عباس میر نے کہا کہ مسلمان اور ہندو کبھی اکٹھے نہیں رہ سکتے کیونکہ دونوں ہر لحاظ سے الگ الگ قوم ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم نے کہا کہ 5اگست 2019ء کو بھارت نے اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کیلئے کشمیریوں پر شب خون مارا۔ لیکن کشمیریوں نے اپنے عزم و حوصلے اور جرأت وبہادری سے اسے ناکام بنا دیا۔تحریک آزادی کشمیر آج زوروں پر ہے۔شاہد رشید نے کہا کہ نظریہئ پاکستان ٹرسٹ کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کیلئے مسلسل کردار ادا کررہا ہے۔ نہتے اور بے گناہ کشمیریوں کی قربانیاں رنگ لائیں گی اور کشمیر بھارتی تسلط سے آزاد ہو گا۔ ”کشمیر بنے گا پاکستان“ کا نعرہ جلد عملی شکل اختیار کرے گا۔

سردار مسعود خان

مزید :

صفحہ آخر -