پنجاب ہائی وے ایم اینڈ آرڈیپارٹمنٹ میں 18ارب کے گھپلے، تحقیقات شروع

پنجاب ہائی وے ایم اینڈ آرڈیپارٹمنٹ میں 18ارب کے گھپلے، تحقیقات شروع

  

لاہور(ارشد محمود گھمن)چیف انجینئر پنجاب ہائی وے ایم اینڈ آرڈیپارٹمنٹ میں 18ارب روپے کی ہونے والی بے ضابطگیوں پر وزیراعلیٰ پنجاب سردارعثمان بزدارنے چیف منسٹر انسپکشن ٹیم کو انکوائری کے احکامات جاری کردیئے،جن افسروں کے خلاف انکوائری کا حکم دیا گیاہے ان میں 2چیف انجینئر ز،5ایس ایزاور20ایگزیکٹو انجینئرز شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق موجودہ چیف انجینئر ندیم الدین اور سابق چیف انجینئر محمد اقبال اعوان نے مبینہ طورپردوران تعیناتی من پسند افسروں کو فنڈز فراہم کرکے 20فیصد کمیشن جو35کروڑ سے زائد بنتی ہے وصول کی۔حکومت پنجاب نے محکمہ مواصلات تعمیرات پنجاب کے ڈیپارٹمنٹ چیف انجینئر پنجاب ہائی وے ایم اینڈ آر کو صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب بھر کے ریجن گوجرانوالہ،راولپنڈی،ملتان وغیرہ کے لئے 2019-20ء میں تقریباً18ارب روپے کے فنڈز جاری کئے،جس میں سابق چیف انجینئر محمداقبال اعوان اور موجود چیف انجینئرندیم الدین کی ناک تلے ایس ایز لاہورخاورزمان،ایس ای گوجرنوالہ ممتاز احمد کلاسرا،ایس ای روالپنڈی شوکت محمود،ایس ای ملتان رانا سلیم افضل اور ایس ای راؤ خورشید اسلم مکینیکل ہائی وے لاہور اور ایگزیکٹو انجینئرزساجد نصار،طاہر اکرم راؤ، کاشف اکرم، محمد شہباز،غلام رسول، امجد خان، مہر عظمت،سید منظور حیدر بخاری،فرید انور،غلام نبی،فدا حسین، نوراقبال اور اصغر علی وغیرہ نے کنٹریکٹرزکے ساتھ مبینہ ملی بھگت کرکے سٹرکوں کی مینٹیننس کی مد میں بوگس ادائیگیوں کے ذریعے قومی خزانہ کے اربوں روپے خورد برد کرلئے۔ یادرہے کہ مذکورہ افسروں پر مبینہ طور پر سیالکوٹ وزیرآباد روڈ، گوجرانوالہ سیالکوٹ روڈ،قصور روڈ،راولپنڈی روڈ اور ملتان ہائی وے روڈ پر کاغذی کارروائی کرتے ہوئے پیچ ورک کے نام پر بھی کروڑوں روپے خورد برد کرنے کا الزام ہے۔اس پر وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے شکایات پر نوٹس لیتے ہوئے چیف منسٹر انسپکشن ٹیم کو فوری طور پر اس معاملے کی انکوائری کرنے اور قومی خزانہ کو بھاری نقصان پہنچانے میں ملوث افسروں کا محاسبہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔اس حوالے سے سابق چیف انجینئر محمداقبال اعوان اور موجودہ چیف انجینئر ندیم الدین سے رابطہ کیا گیا تو انہوں مذکورہ انکوائری کی تصدیق کردی تاہم موقف دینے سے انکار کردیا۔

گھپلے

مزید :

صفحہ آخر -