اپوزیشن کا 5ہزار ارب قرض ہم نے واپس کیا، کے الیکٹرک پر انکوائری کرائی جائے: وفاقی وزراء

  اپوزیشن کا 5ہزار ارب قرض ہم نے واپس کیا، کے الیکٹرک پر انکوائری کرائی جائے: ...

  

اسلام آباد(آن لائن)حکومت نے کے الیکٹرک معاملے پر اپوزیشن کو غیر جانبدارانہ انکوائری کی دعوت دیدی،مفتاع اسماعیل،زبیر اور شاہدخاقان عباسی پرمشتمل کمیٹی بنادی جائے جو تعین کرے کہ اداروں میں بہتری آ رہی ہے۔ وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے کہاکہ بلاول بھٹو کو جواب فوری ملے گا کیونکہ ہمارا طرہ امتیاز ہے کہ قرض فوری چکاتے ہیں،عمرایوب نے کہا کہ معائدے پیپلز پارٹی کے ہیں وہ نبھانے ہم کو پڑ رہے ہیں اور تنقید بھی پیپلز پارٹی ہی کرتی ہے،مراد سعید نے کہاکہ اپوزیشن کا پانچ ہزار ارب روپے قرضہ موجودہ حکومت نے واپس کیا، سوال وہ کریں جس کا جواز ہو۔ منگل کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیر فیصل واوڈانے چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن کے ماہرین معاشیات موجود ہیں،کے الیکٹرک پر انکوائری کرائی جائے دودھ کا دودھ پانی کا پانی الگ ہو جائے گا،پوری قوم جانتی ہے کہ کے الیکٹرک کا ایشو چل رہا ہے۔یہاں بلاول کی پریس کانفرنس پر کل چیئرمین نے جواب دے دیا تھا۔ہماری عادت ہے کہ قرض سود سمیت واپس کیا جائے۔کے الیکٹر ک میں امین راجپوت کو ایم ڈی انہوں نے ہی لگایا تھااور ابراج کے مالک کوعمران خان کا دوست کہا گیایہ الگ بات ہے کہ دوست ہمارے ہوں اور نوازشات آپکی ہیں۔ کے الیکٹرک سے بینک گارنٹیز نہیں لی گئی۔پیپلز پارٹی کے دور میں کے الیکٹرک کو نوازا گیا۔شاہد خاقان، مفتاح اسماعیل اور زبیر عمر اکانومی کے بہتر ماہر ہیں۔ہماری ٹیم ان کے ساتھ بیٹھ جاتی ہے۔پتہ چل جائے گا کہ تحریک انصاف نے ملک کو بہتری کی طرف لے کر گئی یا یہ ان لوگوں نے ملک کو تباہی میں دھکیلا۔اس موقع پر نوید قمر نے کہا کہ ابراج کے مالک نے خود کہا کہ میں پی ٹی آئی کی الیکشن 2013 اور 18 مہم میں رہا،یہ معاملہ کمیٹی میں بھیجا جائے اور وہاں پر اسکا فیصلہ ہونا چاہیے، چاہیں تو ہماری ٹیم ان کے ساتھ بیٹھ سکتی ہے۔نوید قمر نے کہاکہ جو بات کر رہا ہوں یہ تصدیق شدہ ہے،اگر مہنگا ایندھن ہو گا تو بجلی مہنگی ہو گی گیس اور فرنس آئل کی قیمت میں فرق ہے۔سبسڈی کراچی کے صارفین کے لیے ہے کے الیکٹرک والے نہ ہمارے دوست ہیں اور نہ ہی ہم ان کی کارکردگی سے خوش ہیں۔مسلم لیگ کے رہنما رکن اسمبلی خرم دستگیر خان نے کہا کہ میں آئینہ ساتھ لیکر آیا ہوں ن لیگ نے جب حکومت چھوڑی 24 ہزار 212 ارب قرضہ تھا،اب وفاقی حکومت کا قرضہ 34 ہزار 489 ارب قرضہ ہو چکا ہے صرف وفاق 10 ہزار 277 ارب کے قرضے لے چکی ہے یہ نالائقی نااہلی اور مافیا نوازی کا کونسا کالا کنوا ہے جس میں یہ دس ہزار ارب گیا۔آپ نے 15 ہزار ارب سے زائد قرضہ لیا تھا،اس حکومت نے اوسطہ ہر روز 15 ارب روپے یومیہ قرضہ لیا،ہم نے قرضہ لیا تو ضرب عضب لڑی، رد الفساد لڑی12 ہزار میگاواٹ بجلی ہم نے دی، کچھی کنال مکمل کیا لواری ٹنل مکمل کیا۔ وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے بجلی کے معاہدے کیے ہم پر الزام لگانا پیپلزپارٹی کی عادت بن گئی ہے۔نوید قمر نے نقطہ اعتراض پر کہا کہ جب کابینہ اجلاس ہونا تھا تو پھر قومی اسمبلی کا اجلا س تاخیر سے بلا لیتے ہم ایک گھنٹہ سے انتظار کر رہے ہیں،چار بجے کا اجلاس پانچ بجے شروع ہوا ہے۔دوسری جانب کئی صفحات پر مشتمل ایجنڈا بھی دیدیا گیا یہ کیسے مکمل ہوگا۔رکن اسمبلی خواجہ آصف نے کہا کہ کشمیریت پاکستانیت سے پہلے کی شناخت ہے،اس دن کو ٹرانزٹ ٹریڈ کھولنا کشمیریوں کو رنج پہنچانے کی بات ہے،ہم کن شرائط پر انڈیا سے ٹریڈ کھول رہے ہیں اس ٹرانزٹ ٹریڈ کے کھولنے کی تفصیل ایوان میں بیان کی جائے،جو ہندوستان اسوقت مسلمانوں کیساتھ کر رہا ہے کشمیر میں دس لاکھ فوجی ہیں،ایسے ماحول میں اس چیز کی کیا ضرورت تھی،اگر کوئی ایسی تجویز تھی تو تھوڑا آگے کرتے اور ایوان کو آگاہ کیا جاتا،اس دن کا چناؤ کیوں کیا گیا۔گزشتہ روز شہداء کشمیر کے روز ہم نے بھارت کے ساتھ افغاں ٹرانزٹ کھول دی۔ عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ ریلوے کے وزیر نے 90 سے زائدحادثے کروا دیئے،وزیر خوراک نے آٹا غائب کروا دیا،معیشت والے وزیر نے معیشت کا دھواں نکال دیا،دنیا میں پیٹرول خوار ہورہا ہے پاکستان میں لوگ پیٹرول کیلئے خوار ہو رہے ہیں کراچی میں بجلی کی صورتحال خراب ہے۔وزیر ہوابازی نے پی آئی اے بند کر ادی،معیشت والے وزیر صحت نے ادویات مہنگی کرا دی،وزیرخارجہ بتائیں کشمیر کہاں گیا۔دریں اثناء وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے قومی اسمبلی میں کہا کہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں قرآن پاک کی تلاوت کے بعد حدیث پڑھنے کے لیے قواعد میں ترمیم آج ہی پاس کردی جائے،اس ایوان کی اکثریت کی رائے ہے کہ اسے آج قواعد و ضوابط میں شامل کردیا جائے،بعدازاں قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط میں ترمیم کردی گئی۔علاہ ازیں رکن قومی اسمبلی جیمز اقبال نے مفت اور لازمی تعلیم سے متعلق ترمیمی بل پیش کر دیا۔بل کے مسودہ میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی سکول کوٹے پر عمل نہیں کر رہا۔ بلامعاوضہ اور لازمی تعلیم کا حق بل دو ہزار بارہ میں ترمیم کا بل ایوان میں پیش کیا۔حکومت کی جانب سے مخالفت نہ کرنے پر بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا۔

وفاقی وزراء

مزید :

صفحہ آخر -