ڈیری سیکٹرکا قومی آمدن میں 11فیصد ہے

ڈیری سیکٹرکا قومی آمدن میں 11فیصد ہے

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)پاکستان ڈیری ایسوسی ایشن نے وفاقی بجٹ2020-21میں ڈیری سیکٹر کی ترقی و فروغ کیلئے اقدامات نہ کرنے پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ کیلئے ڈیری سیکٹر کی جانب سے ارسال کی گئی تین سفارشات کو نظر انداز کرنے سے حکومتی آمدنی میں کمی اور لاکھوں خاندان کے بیروزگار ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان ڈیری ایسوسی ایشن کے چیئرمین اور ڈیری لینڈ پرائیویٹ لمیٹڈ کے سی ای او ڈاکٹر شہزاد امین کا کہنا ہے کہ ڈیری سیکٹر ملک کی مجموعمی قومی آمدن میں 11فیصد کا شراکت دار ہے،یہ سیکٹر ملک میں 6کروڑ سے زائد افراد کو روزگار کی فراہمی کا باعث بن سکتا ہے،تاہم اس سیکٹر کو نظر انداز کرنے کے باعث یہ زبوں حالی کا شکار ہے،ملک میں ایک کروڑ سے زائد خاندان ملک پراسیسنگ کمپنیوں کے ساتھ منسلک ہیں،پاکستان میں اس وقت دودھ کی سالانہ پیداوار 60ارب لٹر ہے جسے دودھ دینے والے مویشیوں سے زیادہ دودھ کے حصول کے جدید طریقے اپنا کر دوگنا کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈیری سیکٹر کی جانب سے وفاقی بجٹ میں اس سیکٹر کی ترقی و فروغ کیلئے حکومت کو تین سفارشات ارسال کی گئی تھیں جنہیں یکسر نظر انداز کردیا گیا،اگر حکومت نے اس سیکٹر کی بقاء کیلئے فوری اقدامات نہ کئے تو خدشہ ہے کہ یہ سیکٹر مکمل طور پر تباہ ہوجائیگا جس کے نتیجے میں نہ صرف لاکھوں خاندانوں کا روزگار ختم ہوجائیگا بلکہ حکومت کو اس سیکٹر سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی بند ہوجائیگی۔

مزید :

صفحہ آخر -