پالیسیاں نہ بدلیں تو ملک بہت پیچھے رہ جائے گا، جسٹس وجیہ

پالیسیاں نہ بدلیں تو ملک بہت پیچھے رہ جائے گا، جسٹس وجیہ

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر) عام لوگ اتحاد کے چیئرمین جسٹس (ر) وجیہ الدین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر ہم نے اپنی پالیسیاں نہ بدلیں تو ملک بہت پیچھے رہ جائے گا۔ اب جبکہ امریکہ افغانستان سے فارغ ہوکر جانے کی تیاری کر رہا ہے تو اس خطے میں نت نئے تعمیری و ترقیاتی عوامل پر پیشرفت ہو رہی ہیں۔ ایک طرف تو ہمارے بلوچ بھائی اپنی ناسمجھی کا شکار ہیں۔ خود کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں اور ملک کو بھی۔ دوسری طرف شمالی اور جنوبی وزیرستان میں پشتونوں کے بھی ایک گروپ کا یہی حال ہے۔ نتیجتاً وسط ایشیا ہو یا جنوبی ایشیا، اس میں جو معاشی تبدیلیاں آرہی ہیں پاکستان کو ان کے ثمرات سے محروم کرنے کی یہ بہت بڑی سازش ہے۔ حال ہی میں چین اور ایران کے درمیان ایک سمجھوتا ہوا ہے جس کے تحت چین ایران میں 25 برس کے دوران 400 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سال 1.6 بلین ڈالر چین ایران میں لگائے گا۔ اور اخراجات کمیونیکیشن، روڈ اور بندرگاہوں کی تیاری پر ہوں گے۔ یوں چین کو وہ لنک جو بلوچستان کے ذریعے سے بحیرہ عرب میں مل رہا ہے وہی لنک ایران کے ذریعے ملے گا۔ مزید یہ کہ یورپین منڈیوں میں بھی چین کی پہنچ بڑھ جائے گی۔ جہاں تک کہ پاکستان کا معاملہ ہے تو سی پیک ہمارے اپنے مسئلوں کی وجہ سے غیر فعال ہوچکا ہے۔ خود امریکہ نے بھی وسط ایشیا ہو یا جنوبی ایشیا کو ملانے کیلئے ایک C5+1 کا پروگرام بنایا ہے۔ جس میں 5 وسط ایشیائی ممالک ہیں اور ایک امریکہ خود ہے۔ امریکہ وہاں سے بھارت کی طرف ایک لنک نکالنا چاہتا ہے اور گیس کی پائپ لائن افغانستان اور پاکستان سے گزار کر بھارت بھیجنا چاہتا ہے۔ اب ہمارے یہاں کے حالات سے ایسا لگتا ہے کہ دو متوازی streams چلیں گے۔ ایک تو چین سے لے کر ایران اور مشرق وسطیٰ تک جائے گا اور دوسرا 5 وسط ایشیائی ممالک اور امریکہ کا منصوبہ پاکستان کے کچھ حصے سے گزرتا ہوا بھارت تک جائے گا۔

مزید :

صفحہ آخر -