گندم ذخیرہ کرنے والوں کیخلاف کریک ڈاؤن کا حکم، وفاقی کابینہ نے صوبائی فنانس کمیشن کی تشکیل پنشن فنڈ کی منظوری دیدی، کے الیکٹرک بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کا معاملہ موخر

        گندم ذخیرہ کرنے والوں کیخلاف کریک ڈاؤن کا حکم، وفاقی کابینہ نے صوبائی ...

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں ) حکومت نے گندم کی ذخیرہ اندوزی میں ملوث عناصر کے خلاف ملک بھر میں کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے۔یہ فیصلہ وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت ملک بھر میں عوام الناس کو گندم اور آٹا کی مناسب قیمت پر فراہمی کو یقینی بنانے اور قیمتوں پر قابو رکھنے کے حوالے سے اجلاس کے دوران کیا گیا۔اجلاس میں وفاقی وزراء حماد اظہر، سید فخر امام، مشیران ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، عبدالرزاق داؤد، معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل و دیگر سینئر افسران شریک۔وزیراعظم عمران خان کی مداخلت سے صوبہ پنجاب میں گندم کا ممکنہ بحران ٹل گیا ہے۔ انہوں نے سختی سے حکام کو ہدایت کی ہے کہ گندم درآمد کریں یا ذخیرہ مارکیٹ میں لائیں، عوام کو تکلیف نہیں ہونی چاہیے اجلاس میں گندم کی مناسب قیمت پر فراہمی کو یقینی بنانے کے اقدامات کا جائزہ اور قیمتوں پر قابو رکھنے کے حوالے سے اقدامات پر غور جبکہ چینی کی مناسب نرخوں پر دستیابی کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔چیف سیکرٹری پنجاب نے صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ صوبہ پنجاب کے تمام شہروں میں بیس کلو آٹے کا تھیلا 860 روپے پر فراہم اور اٹھارہ ہزار ٹن گندم روزانہ کی بنیاد پر ریلیز کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ خیبر پختونخواہ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے بیس فیصد آٹا بھجوایا جا رہا ہے۔ انہوں نے صوبے میں چینی کی دستیابی اور قیمتوں کے بارے میں بھی تفصیلی بریفنگ دی۔ اس کے علاوہ چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا نے بھی گندم کی سمگلنگ کی روک تھام کے حوالے سے اجلاس کو آگاہ کیا۔وزیراعظم عمران خان نے سختی سے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں گندم کی ذخیرہ اندوزی میں ملوث افراد کے خلاف فوری کریک ڈاؤن کیا کرتے ہوئے سمگلنگ کی روک تھام کو بھی مکمل طور پر یقینی بنایا جائے۔انہوں نے ہدایات دیں کہ ملک بھر میں گندم اور آٹے کی وافر دستیابی کو یقینی بناتے ہوئے قیمتوں کو یکساں سطح پر لانے کے لئے بین الصوبائی کورارڈینیشن کو مزید بہتر کیا جائے۔اجلاس کے دوران وزیراعظم نے چیف سیکرٹری سندھ کو ہدایت کی کہ مستقبل میں گندم اور آٹے کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے مصوبہ بندی کو جلد از جلد حتمی شکل دیں۔ملاوٹ کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی جاری رکھتے ہوئے اس ضمن میں کسی قسم کی رعایت نہ برتی جائے۔عمران خان نے سندھ حکومت کو ہر صورت پیشگی انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کسی ایک صوبے کی انتظامی نااہلی کا خمیازہ پورا ملک نہیں بھگت سکتا۔ سندھ حکومت گندم کا ذخیرہ بروقت مارکیٹ میں لائے۔اجلاس میں تجویز دی گئی کہ سندھ اکتوبر تک گندم کا ذخیرہ مارکیٹ میں لائے گا جس پر وزیراعظم نے اسے رد کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ملک بھر میں گندم بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی بروقت مداخلت سے پنجاب میں ممکنہ بحران ٹل گیا ہے۔ وزیراعظم نے واضح اور دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ پہلے بھی سندھ حکومت کے غلط فیصلے کا خمیازہ عوام بھگت چکے ہیں۔ وفاقی حکومت گندم درآمد کرے یا ذخیرہ مارکیٹ میں لائے، عوام کو تکلیف نہیں ہونی چاہیے۔

وزیر اعظم

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر،آن لائن)وفاقی کا بینہ نے نیشنل فنانس کمیشن کی طرز پر صوبائی فنانس کمیشن تشکیل دینے کی منظوری دیدی جبکہ کے الیکٹر ک کی بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کا معاملہ موخر کر دیا،ملک بھر میں ہوٹلز اور شادی ہالز کھولنے کا معاملہ وفاقی وزیر اسد عمر کے سپرد کر دیا جبکہ ڈی جی ایکریڈیشن کونسل اور ڈی جی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الیکٹرانکس کی تعیناتی کی بھی منظوری دیدی۔منگل کے روز وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں متعدد وزراء نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی،اجلاس میں 5 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا جبکہ اجلاس میں ملک کی مجموعی سیاسی ومعاشی صورت حال سمیت کورونا وباء کیخلاف اقدامات کا جائزہ لیا گیا جبکہ کے الیکٹرک اورعزیر بلوچ سے متعلق جے آئی ٹی کے امور پر بھی زیر بحث آئے۔ وفاقی کابینہ نے کے الیکٹرک کی بجلی کی قیمت میں اضافے کے سواتمام ایجنڈے کی منظوری دید ی ہے۔اجلاس میں کے الیکٹرک کی بجلی کی قیمت میں اضافہ کی سمری موخر کر دی ہے ،اجلاس میں کابینہ کے فیصلوں پر عملدرآمد،کورونا وائرس کی مجموعی صورتحال، ملکی سیاسی، معاشی اور پارلیمانی امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ،وفاقی کابینہ کو مویشی منڈیوں اور احتیاطی تدابیر سے متعلق بھی آگاہ کیا گیا جبکہ اجلاس میں سمارٹ لاک ڈاؤن کی حکمت عملی نتائج پر بھی مشاورت کی گئی،وزیر اعظم اور کابینہ ارکان نے کورونا کیسز میں کمی پر اطمینان کا اظہار کیا، کابینہ نے کے الیکٹرک کی جانب سے بجلی قیمتوں میں اضافہ کے فیصلے کی توثیق نہیں کی ،گیس کی قیمتوں میں 73 ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈالنے کا معاملہ موخر کر دیا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے ہوٹلوں اور مارکیز کھولنے کا معاملہ بھی اٹھایا اور کہا کہ تمام کاروبار کھل چکے ہیں لیکن انہیں ابھی تک نہیں کھولا گیا جس پر وزیر اعظم نے معاملہ مشاورت کیلئے این سی او سی کو بھجوا دیا اور وفاقی وزیر اسد عمر کو ہدایت کی کہ ہوٹل اور مارکیٹس کھولنے کے معاملے کو سنجیدگی سے دیکھیں اور جلد از جلد اس سے آگاہ کریں۔وفاقی وزیر علی زیدی نے عزیر بلوچ اور جے آئی ٹی رپورٹ پر وفاقی کابینہ کو تفصیلی بریفنگ دی جبکہ معاملات کو سپریم کورٹ لے جانے سے متعلق بھی کابینہ کو اعتماد میں لیا۔وزیر اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کورونا ختم نہیں ہوا، ابھی مزید احتیاط برتنا ہوگی، عیدالاضحیٰ پر شہری احتیاط کریں،گھروں تک محدود رینا زیادہ مناسب ہوگا، وزیراعظم نے مویشی منڈیوں میں ہر صورت ایس او پیز پر عملدرآمد کی ہدایت دیدی۔وفاقی کابینہ نے ڈی جی ایکریڈیشن کونسل اور ڈی جی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الیکٹرانکس کی تعیناتی کی بھی منظوری دیدی۔اجلاس کے بعد صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے این ایف سی ایوارڈ کی طرح صوبائی فنانس کمیشن تشکیل دینے کی منظوری دیدی ہے،کابینہ نے سرکاری ملازمین کو پنشن کی ادائیگیوں میں مشکلات ختم کرنے کیلئے پنشن فند قائم کرنے کی بھی منظوری دیدی ہے،بیرون ممالک میں قید پاکستانیوں کی رہائی کیلئے انہیں مکمل قانونی معاونت فراہم کرنے اور ان ممالک سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پاکستانیوں کو رہا کرنے کیلئے تمام سفارت خانوں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ کابینہ اجلاس کے دوران ایک اہم فیصلہ کیا گیا ہے اور وہ این ایف سی ایوارڈ کے متبادل کے طور پر صوبائی فنانس کمیشن کی تشکیل ہے انہوں نے کہاکہ صوبائی فنانس کمیشن کی تشکیل سے صوبوں کے تمام اضلاع کو ان کی پسماندگی اور ضروریات کے مطابق فنڈز دئیے جا سکے گے اور کسی ایک ضلع کو زیادہ فنڈز ملنے کے حوالے سے شکایات کا خاتمہ ہوسکے گا انہوں نے کہاکہ اب چاروں صوبے اپنا فنانس کمیشن بنائیں گے جو اپنے اپنے صوبوں کے تمام اضلاع کو فنڈز فراہمی کے حوالے سے سفارشات پیش کریں گی انہوں نے کہاکہ کابینہ کو بتایا گیا کہ انتخابی اصلاحات کے حوالے سے قائم کی جانے والی کمیٹی پر کام مکمل کر دیا گیا ہے اور اسے اگلے اجلاس میں پیش کردیا جائے انتخابی اصلاحات کمیٹی کا مقصد انتخابی عمل کو شفاف اور قابل اعتماد اور غیر جانبداز بنانے کے ساتھ ساتھ انتخابات سے قبل،انتخابات کے دوران اور انتخابات کے بعدسامنے آنے والے مسائل سمیت بیرون ملک پاکستانیوں کو انتخابی عمل میں شریک کرنے کیلئے سفارشات پیش کرنا ہے انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم نے ہدایت کی ہے کہ اس کمیٹی کو جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ انتخابات میں ہونے والی دھاندلیوں کا خاتمہ کیا جاسکے خصوصاً سینیٹ الیکشن کے دوران دو صوبوں میں ووٹوں کی خرید وفروخت کا سدبات کیا جا سکے انہوں نے بتایاکہ کہ وزیر اعظم نے ملک کے مختلف سرکاری محکموں کے سربراہوں کی تعیناتی کی راہ میں حائل رکاؤٹوں کو بھی دور کرنے کیلئے کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی تاکہ ملک اور بیرون ملک مقیم اعلیٰ تعلیم یافتہ اور تجربہ کار پاکستانیوں کو تعیناتی کی راہ میں حائل رکاؤٹوں کو ختم کیا جا سکے انہوں نے بتایاکہ اجلاس میں صحت کے شعبے کو مذید بہتر بنانے کیلئے نجی شعبے کو بھی شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور ملک بھر میں سرکاری زمینوں پر ہسپتالوں کی تعمیر میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کو فروغ دیا جائے گاانہوں نے بتایا کہ کابینہ اجلاس کو وفاقی دارلحکومت میں 10ماڈل پولیس سٹیشنز کے قیام سے متعلق بھی اگاہ کیا گیا ہے اور یہ منصوبہ بھی جلد مکمل کر لیا جائے گااجلاس میں سرکاری اداروں سے ریٹائرمنٹ لینے والے افراد کو پنشنز کی ادائیگیوں میں تاخیر پر فیصلہ کیا گیا کہ پنشن فنڈ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس حوالے سے رپورٹ اگلے 15دنوں میں کابینہ کے سامنے پیش کی جائے گی اسی طرح حج فنڈ کے قیام کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے اور اس حوالے سے قانونی سقم کو دور کیا جائے گا انہوں نے بتایاکہ اجلا س کے دوران مختلف وزارتوں کی جانب سے عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر پیش رفت سے متعلق بتایا گیا کہ مجموعی طور پر 79منصوبوں کی نشاندھی کی گئی تھی جن میں 42منصوبوں پر عمل درآمد کیا جا چکا ہے جبکہ 37منصوبوں پر کام جاری ہے اجلاس کے دوران شمالی علاقہ جات میں جنگلات کی بے دریغ کٹائی کو روکنے کیلئے علاقہ مکینوں کو شمسی چولہے فراہم کرنے کے حوالے سے بتایا گیا کہ اگلے دو ماہ میں منصوبے پر کام شروع کردیا جائے گا کابینہ کے بیرون ممالک میں پاکستانی سفارت خانوں کو ان ممالک کی جیلوں میں قید پاکستانیوں کی رہائی کیلئے انہیں مکمل قانونی معاونت فراہم کرنے اور ان کی رہائی کیلئے متعلقہ حکومتوں سے بات چیت کرنے کی بھی ہدایت کی اجلاس کو بتایا گیا کہ اس وقت مختلف وزارتوں کے زیر انتظام اداروں میں سی ای اوز،منیجنگ ڈائریکٹرز اور دیگر سربراہوں کی ایک سو کے قریب اسامیاں خالی ہیں جن میں 31اسامیوں پر تعیناتیوں کیلئے اشتہارات دئیے جا چکے ہیں جس پر وزیر اعظم نے تمام خالی اسامیوں کو جلد از جلد پر کرنے کی ہدایت کی وفاقی وزیر نے بتایا کہ کابینہ نے ای سی سی اجلاس کے دوران گیس اور کے الیکٹرک کی بجلی کے نرخوں میں اضافے سے متعلق سفارشات کو اگلے اجلاس تک موخر کر دیا ہے انہوں نے بتایاکہ کابینہ کے عرفان احمد ربانی کو ڈائریکٹر جنرل نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الیکٹرونیکس اور عصمت گل خٹک کو ڈائریکٹر جنرل نیشنل ایکریڈیٹیشن کونسل تعینات کرنے کی بھی منظوری دیدی ہے ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے بتایاکہ ریڈیو پاکستان سمیت کسی بھی ادارے میں کرپشن یا کسی قسم کی بے ضابطگی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور کرپشن کرنے والے افسران اور ملازمین کو نشان عبرت بنایا جائے گا انہوں نے کہاکہ اپوزیشن کے پاس اس وقت کوئی ایجنڈہ نہیں ہے وہ محض اپنی کرپشن کو چھپانے کیلئے ملک میں بے یقینی پھیلانے کی کوششیں کر رہے ہیں تاہم وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکیں گے

وفاقی کابینہ

مزید :

صفحہ اول -