گندگی پھیلانے والوں کیخلاف کارروائی، سینیٹ کمیٹی نے تحفظ ماحولیات ترمیمی بل منظور کر لیا

  گندگی پھیلانے والوں کیخلاف کارروائی، سینیٹ کمیٹی نے تحفظ ماحولیات ترمیمی ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی نے ماحولیاتی تحفظ (ترمیمی) بل 2020 کی منظوری دے دی۔ڈائریکٹر جنرل ای پی اے نے اجلاس کو بتایا کہ ای پی اے کو گندگی کی نگرانی کا اختیار نہیں ہے اور نہ ہی مذکورہ ترمیم پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کیلئے وسائل موجود ہیں۔ منگل کو کمیٹی کاسینیٹر ستارہ ایازکی زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں سینیٹرز مشاہد حسین سید، فیصل جاوید خان، محمد اکرم، پرویز رشید، ثنا جمالی، کیشو بائی، وزیر موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل کے علاوہ وزارت اور ماحولیاتی تحفظ اتھارٹی کے حکام نے شرکت کی اجلاس میں سینیٹر فیصل جاوید خان کے ذریعے پیش کردہ ماحولیاتی تحفظ (ترمیمی) بل، 2020 کی تفصیلی بحث کے بعد منظوری دی۔ سینیٹر فیصل جاوید نے کہا ہے کہ کوڑا کرکٹ،غیر نامیاتی فضلہ آبی حیات حیوانات کی زندگیوں کیلئے خطرہ ہے۔کمیٹی میں مسودہ قانون سینیٹر فیصل جاوید کی جانب سے پیش کیا گیا، سینٹر فیصل جاوید نے کہا ہے کہ کوڑا کرکٹ پھیلانے کا کلچر افسوسناک،قابل مذمت ہے، جگہ جگہ کوڑے،تعفن کے ڈھیر شہروں کا حسن خراب کررہے ہیں۔ غیرنامیاتی فضلہ آبی گزرگاہوں،ذخیرہ ہائے آب کی آلودگی کی وجہ ہے، کوڑا کرکٹ،غیر نامیاتی فضلہ آبی حیات حیوانات کی زندگیوں کیلئے بھی خطرہ ہے۔انھوں نے کہا کہ مسودہ قانون کو متفقہ طور پر منظور کرنے پر کمیٹی کا شکرگزارہوں، امید ہے صوبائی سطح پر بھی اس طرز کی قانون سازی کی جائے گی۔سینٹر فیصل جاوید کا کہنا تھا کہ کلین اینڈ گرین پاکستان عمران خان کا ویژن ہے، ہم ملکر اپنے ملک اور ماحول کو صاف بنائیں گے، اسلام آباد کو رول ماڈل کے طور پر پیش کریں گے۔اجلاس کو ڈائریکٹر جنرل ای پی اے نے بتایا تھا کہ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کے لئے قانون سازی کی بہت زیادہ ضرورت ہے لیکن اسلام آباد کی صفائی میونسپل کارپوریشن کے دائرہ اختیار میں آتی ہے اور سی ڈی اے اور ایم سی آئی کے پاس پہلے سے ہی انسانی وسائل موجود ہے تاکہ شہر کی صفائی کو یقینی بنایا جاسکے لیکن وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ احتیاطی تدابیر اور گندگی پھیلانے پر جرمانے ضروری ہیں ایم سی آئی سے پوچھا جانا چاہئے کہ انہوں نے جرمانے کیوں نہیں عائدکیے۔انہوں نے کہا کہ ای پی اے کو گندگی کی نگرانی کا اختیار نہیں ہے اور نہ ہی مذکورہ ترمیم پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لئے وسائل ہیں۔کمیٹی ممبران کا موقف تھا کہ دارالحکومت کے ماحول کو بہتر بنانے کے لئے یہ ترمیم ایک اچھی شروعات ہے اور اس پر عمل کیا جانا چاہئے۔ کمیٹی نے اتھارٹی کو یقین دلایا کہ سی ڈی اے اور ایم سی آئی سمیت تمام متعلقہ محکموں کو کال کرکے اس کے بعد کے اجلاسوں میں تمام خامیاں، صلاحیت اور وسائل سے متعلق امور کے ساتھ ساتھ اوورلیپنگ دائرہ اختیار کے معاملات اٹھائے جائیں گے اور اس پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

تحفظ ماحولیات

مزید :

صفحہ اول -