غیر ملکی طلبہ پر پابندی، 17امریکی ریاستوں، تعلیمی اداروں کا عدالت سے رجوع

  غیر ملکی طلبہ پر پابندی، 17امریکی ریاستوں، تعلیمی اداروں کا عدالت سے رجوع

  

واشنگٹن(اظہر زمان، بیورو چیف) ٹرمپ انتظامیہ نے غیر ملکی طلباء کے ویزے منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا تھا جو لاک ڈاؤن کے باعث آئن کلاسیں لیتے ہیں۔ امریکہ کی سترہ ریاستوں اور ڈی سی کی حکومتوں نے اس فیصلے ک خلاف عدالتوں سے رجوع کر لیا ہے۔قبل ازیں عالمی شہرت کے حامل دو تعلیمی اداروں ہارورڈ یونیورسٹی اور میساچیوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی)نے بھی مقدمے دائر کر دئے تھے اور ملک بھر کی دو سو سے زائد یونیورسٹیوں نے اظہار یکجہتی کے لئے ان تعلیمی اداروں کے حق میں بیانات بھی عدالت میں جمع کرا دیئے تھے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ایک حکم جاری کیا تھا کہ ہائی سکول یا یونیورسٹیوں میں موسم خزاں میں جو غیر ملکی طلباء باقاعدہ داخلہ لینے کی بجائے آن لائن کلاسیں لیں گے ان کا ویزہ منسوخ کر دیا جائے گا۔ کرونا وائرس کے باعث تعلیمی ادارے ابھی ریگولر کلاسیں شروع نہیں کرنا چاہتے لیکن ٹرمپ انتظامیہ کا موقف ہے کہ چونکہ اب حالات بہتر ہو رہے ہیں اس لئے ان سکولوں کا بچوں اور یونیورسٹیوں کو موسم خزاں میں باقاعدہ کھل جانا چاہئے۔ امریکہ کی سترہ ریاستوں اور واشنگٹن ڈی سی کی حکومتوں نے ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلے کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کی ہے کہ تعلیمی اداروں کو کھولنے میں ابھی احتیاط کی ضرورت ہے اور اگر وہ باقاعدہ کھلنے سے قبل آن لائن کلاسوں میں امریکہ میں موجود غیر ملکی طلباء کو داخل کرتے ہیں تو ان کا طریقہ درست ہے۔ ان غیر ملکی طلباء کے ویزے منسوخ کر کے انہیں واپس بھیجنے سے طلباء اور تعلیمی اداروں دونوں کا نقصان ہو گا۔ اگر وباء کے دوران ان طلباء کو اپنے ملکوں میں واپس جانا پڑا تو ان کی وہاں تعلیم حاصل کرنے کی اہلیت متاثر ہوئی۔ ریاست میسا چیوسٹس کی اٹارنی جنرل موراہیلی نے مقدمہ دائر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ کا فیصلہ تعلیمی اداروں کے طے کردہ ضوابط کے خلاف ہے تعلیمی ادارے یا تو وباء کے دور میں خطرہ مول کر طلباء کو باقاعدہ داخل کریں یا ان غیر ملکی طلباء کو واپس دیں یہ طریقہ مناسب نہیں ہے۔

عدالت رجوع

مزید :

صفحہ اول -