جسٹس فائز عیسیٰ کو دھمکیاں،مرکزی ملزم ساتھی سمیت گرفتار، جیل بھیج دیا

        جسٹس فائز عیسیٰ کو دھمکیاں،مرکزی ملزم ساتھی سمیت گرفتار، جیل بھیج دیا

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو دھمکیاں دینے کے خلاف ازخودنوٹس کیس میں ایف آئی اے نے سپریم کورٹ میں اپنی تازہ جمع کروائی گئی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ملزم افتخارالدین مرزا قبل ازیں قادیانی تھا، بعد ازاں اس نے شیعہ مسلک اپنایا۔ ملزم کے فون کا ریکارڈ حاصل کرنے پر پتا چلا کہ ملزم افتخارالدین مرزا کا سفری ریکارڈ غیر عمومی ہے،ملزم افتخارالدین مرزا ایران، عراق، شام، کویت اور سعودی عرب جا تارہا ہے۔ملزم ویڈیو بنا کر اسے سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرنے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کا تسلی بخش جواب نہ د ے سکا،ملزم افتخارالدین مرزا نے سوشل میڈیا پر 698 وڈیوز اپلوڈ کیں،تمام وڈیوز کی سکروٹنی کی جا رہی ہے،سکروٹنی اور تجزیے سے یہ دیکھا جائے گا مزید کس کس وڈیو میں قوانین کی خلاف ورزی کی گئی،جن موبائل فون کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر وڈیو اپلوڈ کی گئیں ان کا سی ڈی آر حاصل کر لیا ہے،سی ڈی آر کے تجزیے سے یہ بات عیاں ہوئی کہ ملزم نے ایران، سعودی عرب، ساؤتھ کوریا، ملائیشیا، چائنہ، زمبابوے اور انگلینڈ کالیں کیں،کال ریکارڈ سے مزید لنکس کی شناخت کے لیے تجزیہ کیا جا رہا ہے۔ڈپٹی کمشنر راولپنڈی سے اقرا ویلفیئر آرگنائزیشن کا مکمل ریکارڈ مانگا گیا ہے،اقرا ویلفیئر آرگنائزیشن نامی ٹرسٹ ملزم افتخارالدین مرزا چلا رہے ہیں۔افتخارالدین مرزا نے 1972 میں چناب نگر سے بی ایس سی کیا۔ملزم افتخار الدین نے قادیانیت ترک کر کے شیعہ مسلک اپنایا اور ایران سے مذہبی تعلیم حاصل کی۔افتخارالدین مرزا اس وقت پراپرٹی کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔اقرا ویلفیئر آرگنائزیشن ملک کے ساتھ بیرون ملک سے بھی فنڈز لے رہی ہے،ادارے میں یتیم بچوں کے لیے اقرا ہاسٹل قائم کیا گیا۔ملزم افتخارالدین مرزا کے ایران، آسٹریلیا، امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا میں طالب علموں، دوستوں اور رشتے داروں سے رابطے رہے۔ملزم کا سب سے بڑا بیٹا سعودی عرب میں جرمن کمپنی شلمبرجر میں کام کر رہا ہے۔افتخارالدین مرزا کی تمام وڈیوز سوشل میڈیا پر اکبر علی اپلوڈ کرتا تھا۔اکبر علی نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ انہیں افتخارالدین مرزا نے وڈیو ڈیلیٹ کرنے کا کہا تھا۔اکبر علی نے کہا وڈیو ایک یوٹیوب کے صارف کے کہنے پر ڈیلیٹ کی۔ایران کے جنرل سلیمانی کے قتل کی وڈیوز اپلوڈ کرنے پر یوٹیوب اور فیس بک نے ملزم کے اکاؤنٹس کو بلاک کیا۔ملزم افتخارالدین نے معرفت الٰہی اور دین شناس کے نام سے نئے فیسبک پیجز بنائے۔ افتخارالدین پیدائشی طور پر بلتستان سے تعلق رکھتا ہے۔ملزم افتخارالدین مرزا اور شریک ملزم اکبر علی کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا،ایف آئی اے نے معاملے کی تحقیقات کے لیے چار رکنی جے آئی ٹی تشکیل دے دی ہے۔

رپورٹ جمع

مزید :

صفحہ اول -