کورونا،مزید 16افراد جاں بحق، 622نئے کیسز، سمارٹ لاک ڈاؤن میں 30جولائی تک توسیع، صوبائی حکومتیں، ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کرائیں: اسد عمر

    کورونا،مزید 16افراد جاں بحق، 622نئے کیسز، سمارٹ لاک ڈاؤن میں 30جولائی تک ...

  

لاہور، اسلام آباد، مظفر آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)ملک میں کورونا سے مزید 16 افراد جاں بحق ہوگئے جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 5320 ہوگئی اور نئے کیسز سامنے آنے سے کْل کیسز 253604 تک جاپہنچے ہیں۔اب تک پنجاب میں 2026، سندھ میں 1826 اور خیبر پختونخوا میں 1106 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جب کہ اسلام آباد میں 155، بلوچستان میں 126، آزاد کشمیر میں 45 اور گلگت بلتستان میں 36 افراد کا انتقال ہوا ہے۔ملک بھر سے منگل کے روز کورونا کے مزید 622 کیسز اور 16 ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں جن میں پنجاب سے 449 کیسز 13 ہلاکتیں، اسلام آباد 94 کیسز 2 ہلاکتیں، گلگت 23 کیسز اور آزاد کشمیر سے 56 کیسز اور ایک ہلاکت سامنے آئی۔پنجاب سے کورونا کے 449 کیسز اور 13 ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں جن کی تصدیق پی ڈی ایم اے کی جانب سے کی گئی ہے۔صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق پنجاب میں کورونا کے مریضوں کی کْل تعداد 87492 اور ہلاکتیں 2026 ہوچکی ہیں۔پی ڈی ایم اے کے مطابق پنجاب میں اب تک کورونا کے 63977 مریض صحتیاب بھی ہوچکے ہیں۔وفاقی دارالحکومت سیکورونا کے مزید 94 کیسز اور 2 ہلاکتیں سامنے آئی ہیں جو سرکاری پورٹل پر رپورٹ کی گئی ہے۔گلگت بلتستان سے کورونا کے مزید 23 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد وہاں اب تک مریضوں کی تعداد 1694 ہوگئی ہے جب کہ وہاں اموات کی تعداد 36 ہے۔گلگت میں کورونا سے صحتیاب ہونے والوں کی تعداد 1370 ہے۔آزاد کشمیر سے کورونا کے مزید 36 نئے کیسز اور ایک مریض کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ا?زاد کشمیر میں اب تک مجموعی طور پر 1655 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے جب کہ وہاں اموات کی تعداد 45 ہوگئی ہے

کورونا ہلاکتیں

لاہور، اسلام آبادر(مانیٹرنگ ڈیسک، این این آئی) پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں عائد کیے جانے والے لاک ڈاؤن میں مزید 15روز کی توسیع کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔وزارتِ داخلہ پنجاب کی جانب سے لاک ڈاؤن میں توسیع کا نوٹی فکیشن جاری کیا گیا جس میں بتایا گیا ہے کہ صوبے بھر میں نافذ ہونے والے لاک ڈاؤن میں پندرہ روز کی توسیع کردی گئی ہے،نوٹیفکیشن کا اطلاق فی الفور ہو گا جو کہ 30جولائی تک نافذ العمل رہے گا۔نوٹیفکیشن کے مطابق تعلیمی ادارے،شادی ہال،ریسٹورنٹ، پارک اورسینما ہال بدستور بند رہیں گے، سماجی و مذہبی اجتماعات، کھیلوں کے لئے جمع ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق کاروباری مقامات صبح 9 سے شام 7 بجے تک، پیرتاجمعہ کھلے رہیں گے جبکہ ہفتہ اتوار سخت لاک ڈاؤن ہوگا، میڈیکل اسٹور، پنکچر شاپ، آٹا چکی تندور،زرعی ورکشاپس 24 گھنٹے کھلی رکھنے کی اجازت ہو گی۔اس سے قبل 30 جون کو پنجاب حکومت نے لاک ڈان میں 15 روز کی توسیع کرتے ہوئے 15 جولائی تک کے لیے لاک ڈان نافذ کیا تھا۔دریں اثنا نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے صوبائی حکومتوں اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایات دی ہیں کہ کورونا وائرس کے عدم پھیلاؤ کے لیے حفاظتی تدابیر اور معیاری طریقہ کار (ایس او پیز) پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر کی زیر صدارت نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر میں اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ فورم کے مشاہدے میں آیا ہے کہ مویشی منڈیوں کے حوالے سے وزارت صحت کی ایس او پیز پر مکمل عمل درآمد نہیں ہو رہا، اگر حفاظتی تدابیر کو نظر انداز کیا گیا تو مستقبل میں یہ کورونا وائرس کے سنگین پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے۔فورم نے ہدایت دی کہ صوبائی حکومتیں ایس او پیز پر عمل درآمد یقینی بنائیں اور موثر حکمت عملی واضح کریں تاکہ وبا کے پھیلاؤکو روکا جاسکے۔وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈیئر ریٹائرڈ اعجاز شاہ نے شہروں سے باہر مویشی منڈیاں لگانے اور محرم الحرام کے دوران حفاظتی تدابیر سے متعلق فورم کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس کے عدم پھیلاؤکے لیے عیدالاضحی اور محرم الحرام کے حوالے سے پلان مرتب کر لیا گیا ہے۔اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے وفاقی دارالحکومت میں ماڈل مویشی منڈی کے قیام کے حوالے سے فورم کو بریفنگ دی گئی۔انتظامیہ نے مویشی منڈی کا این سی او سی کی ہدایات کے تحت لے آؤٹ پلان پیش کیا۔فورم کو ملک بھر کے ہسپتالوں میں کورونا وائرس سے متعلق طبی آلات فراہمی کے متعلق بھی آگاہ کیا گیا۔اجلاس میں وزیر داخلہ اعجاز احمد شاہ، وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری، نیشنل کوآرڈینیٹر لیفٹیننٹ جنرل حمود الزمان، قومی ادارہ صحت کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر میجر جنرل عامر اکرام، وزیر اعظم کے فوکل پرسن برائے انسداد کووڈ 19 ڈاکٹر فیصل سلطان، ڈاکٹر اسد حفیظ، سیکریٹری صحت سمیت دیگر حکام شریک تھے۔

لاک ڈاؤن

مزید :

صفحہ اول -