مسئلہ کشمیر حل کرنے کیلئے قومی وحدت، ٹھوس پالیسی ضروری، لیاقت بلوچ

  مسئلہ کشمیر حل کرنے کیلئے قومی وحدت، ٹھوس پالیسی ضروری، لیاقت بلوچ

  

ملتان (پ ر)نائب امیر جماعت اسلامی اور ملی یکجہتی کونسل کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہاہے کہ 13 جولائی یوم شہدائے کشمیر کی وہ لازوال جدوجہد کا نقطہ آغاز ہے جسے ہندو برہمن ہر ظلم کر کے بھی زیر نہیں کر سکا۔ آزادی و حق خود ارادیت کشمیریوں کا بنیادی انسانی حق ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں پانچ اگست کے بعد سے بھارتی سرکارمسلسل غیر جمہوری، غیر انسانی، عالمی(بقیہ نمبر17صفحہ6پر)

قوانین و معاہدوں کے علی الرغم ہر ظلم و اقدام کر رہی ہے لیکن مصنوعی بنیادوں پر تنازع کشمیر ختم کر کے بھارت اپنی حدود چین تک لے جائے یہ چین کے لیے قابل برداشت نہیں۔ بھارت اپنے ظلم کے شکنجے میں پھنس رہاہے۔ ہندوستان کا زوال نوشتہ دیوار ہے۔ لیاقت بلوچ نے پیر ہارون گیلانی، سید ثاقب اکبر، علامہ عارف واحدی اور طاہر تنولی کے ساتھ مشاورت میں کہاکہ ملی یکجہتی کونسل کے سربراہی اجلاس کا فیصلے کے تحت قومی کشمیر ٹیلی کانفرنس منعقد کی جائے گی۔ قومی کشمیر پالیسی وقت کا تقاضا ہے۔ پاکستان جن دنوں دہشتگردی کی لپیٹ میں تھا تو حکومت، فوج تمام قربانیوں کے باوجود قابو پانے میں ناکام تھیں۔ جب پوری قومی قیادت متحد ہو گئی، قومی ایکشن پلان بن گیا تو دہشتگردی کی کمر ٹوٹی اور دشمن کو ناکام کردیا گیا۔ آج بھی پاکستان مسئلہ کشمیر، بھارتی جارحانہ رویہ، اقتصادی بحران اور وفاق و صوبوں میں تناؤ کے بحرانوں سے دوچار ہے۔ اس کا مقابلہ قومی وحدت، قومی پالیسی اور قومی ترجیحات کے ساتھ ممکن ہے۔ حکومتی نااہلی، کھلنڈرا پن اور لاابالی اقدامات عوام اور ریاست کے لیے اب ناقابل برداشت بنتے جارہے ہیں۔

لیاقت بلوچ

مزید :

ملتان صفحہ آخر -