تمام سسٹم خراب،پاکستان میں مکمل اسلامی انقلاب کی ضرورت، عاکف سعید

  تمام سسٹم خراب،پاکستان میں مکمل اسلامی انقلاب کی ضرورت، عاکف سعید

  

ملتان (سٹی رپورٹر)تنظیم اسلامی پاکستان کے سربراہ حافظ عاکف سعید نے کہاہے کہ یونیورسٹی کی سند کو قرآن بمع ترجمہ پڑھنے سے مشروط کرنے کے فیصلے پر عمل درآمد کیا جائے۔ پنجاب کی تمام چارٹرڈ یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز نے گورنر پنجاب کی صدارت میں فیصلہ کیا تھاکہ آئندہ کسی طالب علم کو یونیورسٹی کی سند اُس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک وہ قرآن کوخود ترجمہ کے ساتھ پڑھنے کی صلاحیت حاصل نہیں کر لیتا۔ اُنھوں نے کہاکہ یہ انتہائی قابل تحسین(بقیہ نمبر20صفحہ6پر)

فیصلہ تھا لیکن بعدازاں اِس پر عمل کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ اُنھوں نے کہا کہ یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ یہ کوئی اضافی کام ہوگا۔ درحقیقت یہ آئین کے آرٹیکل 31 کے تحت حکومت کی ذمہ داری ہے بلکہ اگر حکومت‘پاکستان کے مسلمانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی اسلام کے بنیادی اُصولوں اور اساسی تصورات کے مطابق اُستوار کرنے میں مدد نہیں کرتی تو یہ آرٹیکل 31 کی خلاف ورزی ہے اور یہ اُس وقت تک آسان نہیں ہو گا جب تک مسلمانانِ پاکستان اللہ کی کتاب کو کسی دوسرے کے ترجمہ کے بغیر خود پڑھنے اور سمجھنے کے قابل نہ ہو جائیں۔لاہور کے ایک پرائیوٹ سکول میں اُستاد کی طرف سے طالبات کو جنسی ہراسگی کے واقعہ پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ درحقیقت یہ اللہ اور اُس کے رسول کی تعلیمات سے دور ہونے کا منطقی نتیجہ ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اسلام سترو حجاب اورپردہ کے احکامات دیتا ہے اور مخلوط معاشرت کو معاشرے کے لیے زہر قاتل قرار دیتا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ہمارے تعلیمی ادارے درحقیقت تجارتی مراکز بن چکے ہیں جہاں اصلاح، تزکیہ اور اچھی تربیت کی بجائے صرف معاشی فوائد کو مد نظر رکھا جاتا ہے لہٰذا ایسے حادثات اور واقعات اِس کا لازمی نتیجہ ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے اور اصلاح کی کوئی جزوی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی بلکہ ایک مکمل اسلامی انقلاب کی ضرورت ہے۔

عاکف سعید

مزید :

ملتان صفحہ آخر -