بی اے،بی ایس سی سکینڈل،انکوائری کمیٹی کی رپورٹ میں قانونی دراڑیں

بی اے،بی ایس سی سکینڈل،انکوائری کمیٹی کی رپورٹ میں قانونی دراڑیں

  

ملتان(سٹاف رپورٹر) بہاالدین زکریا یونیورسٹی کے بی اے بی ایس سی سکینڈل کی انکوائری کمیٹی کی رپورٹ میں قانونی سقم،ثبوت نہ ہونے کے انکشافات سامنے آئے ہیں ، عدالت عالیہ نے پیڈا ایکٹ کے کمیٹی کے نوٹیفکیشن کے خلاف حکم امتناعی جاری کردیا، انکوائری کمیٹی کی رپورٹ پر سوالیہ نشان لگ گیا،تفصیل کے مطابق زکریا یونیورسٹی کے کنٹرولر آفس(بقیہ نمبر21صفحہ6پر)

کے بی اے‘ بی ایس سی سکینڈل میں نیا موڑ سامنے آیا ہے، پیڈاایکٹ کے تحت ہونے والے انکوائری میں قانونی تقاضے پورے نہ کرنے اور شہادتیں ضائع کرنے اور ملوث افراد کو ثبوت نہ دکھانے کے انکشافات ہوئے ہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ انکوائری رپورٹ میں ملوث افراد کے خلاف الزام مکمل ثابت ہونے کا لکھا گیا مگر کوئی بھی ثبوت رپورٹ کے ساتھ موجود نہیں تھا جس کی نشاندہی ایک ممبر سینڈیکیٹ نے بھی کی، جس کا جواب نہ دیا گیا اور وائس چانسلرکے سخت نوٹس لینے پرمعاملہ کو عجلت میں سمیٹا گیا‘شوکاز نوٹس جاری کرنے کی منظوری دے دی گئی، ابتدائی انکوائری کی طرح یہ انکوائری ر پورٹ بھی ایک شخص کے بیان کے گرد بنائی گئی مگریہ کردار اپنے ابتدائی بیان سے منحرف ہوگیا اور عدالت کو بتایا کہ بے پنا دباؤ کے تحت ان سے یہ بیان لیاگیا تھا، اسی طرح اس کیس سے جڑے دیگر افراد کو بھی انکوائری کمیٹی میں کسی بھی قسم کا کوئی سوال نہیں کیا گیا اور نہ ان کو ثبوت دکھائے گئے جو پیڈاایکٹ کے تحت لازم ہیں کہ ملزم کو ثبوت دکھائے جائیں گے۔مارچ میں مکمل ہونے والی انکوائری رپورٹ کو تین ماہ کی تاخیر سے جمع کرایا گیا‘ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کیس میں ڈپٹی رجسٹرار اللہ دتہ کو ذاتی عناد کا نشانہ بنایا گیا‘ سکریسی برانچ سے مارکنگ د و ماہ کی تاخیر سے کرائی گئی جس کی وجہ سے کمپیوٹر سیل اور ٹیبولیشن برانچ کو بہت کم وقت دیا گیا اور اسسٹنٹ کنٹرولر پر دباؤ ڈالاگیا کہ ان کے پاس 5 روز ہیں جس میں سکروٹنی پوری کرائیں‘ ایوارڈ لسٹیں اور نتائج مکمل ہونے پر کنٹرولر امتحانات نے خود اس کو چیک کیا‘تین دن اپنے پاس رکھ کر انہوں نے حکم دیا کہ یہ چیک کرلیا گیا‘اس کو آؤٹ کردیا جائے مگر دو ماہ بعد ڈاکٹرفاروق نے دعویٰ کردیا کہ انہوں نے امتحان میں بہت بڑی کرپشن پکڑی ہے، پھر انکوائری کمیٹی کے سربراہ بن گئے اور رپورٹ جاری کردی جس کے بعد پیڈاایکٹ والی کمیٹی نے سابق انکوائری رپورٹ پر اپنی رپورٹ لکھ کر جبری ریٹائرمنٹ کی سفارش کردی، اس کیس کے مرکزی کردار محمد امین کا کہنا ہے کہ اس کیس میں ہمیں سازش کے تحت نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ان سے دیگر افراد کے خلاف بیان زبردستی لیا گیا، اس بابت کمیٹی کو بتایا مگر وہ سننے کو تیار ہی نہ تھی‘ جیسے وہ سب کچھ پہلے سے سوچ سمجھ کر بیٹھے ہوں‘اب عدالتیں ہی ہمیں انصاف دلاسکتی ہیں۔دوسری طرف عدالت عالیہ کے جسٹس امیر بھٹی نے اس کیس پر پیڈاایکٹ کے تحت انکوائری بنانے کے نوٹیفکیشن کے خلاف حکم امتناعی جاری کردیا جس کے بعد اس کمیٹی رپورٹ پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے، ذرائع کا کہناہے کہ وائس چانسلر نے ا پنے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے 27نومبر 2019 کو پیڈاایکٹ کے تحت انکوائری کی منظوری دی تھی۔

دراڑیں

مزید :

ملتان صفحہ آخر -