سیکرٹریٹ سرائیکی وسیب سے مذاق،مسائل بڑھ جائیں گے، غلام فرید کوریجہ

  سیکرٹریٹ سرائیکی وسیب سے مذاق،مسائل بڑھ جائیں گے، غلام فرید کوریجہ

  

ملتان (پ ر)سول سیکرٹریٹ نہیں صوبائی سیکرٹریٹ چاہیئے،ملتان بہاول پور کو لڑانے کی سازش کو مسترد کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار سرائیکستان صوبہ محاذ کے چیئرمین خواجہ غلام فرید کوریجہ اور شریک چیئرمین ظہور دھریجہ نے ملتان میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر محمد بخش براٹھا، حاجی عید احمد دھریجہ، محمد یٰسین خان دریشک بھی موجود (بقیہ نمبر6صفحہ6پر)

تھے۔ انہو ں نے کہا کہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی طرف سے صوبائی حکومت سے چار ارب روپے سول سیکرٹریٹ کی عمارتوں کے لئے طلب کئے گئے ہیں۔ یہ عمارتیں بہاول پور میں بنیں گی یا ملتان میں کسی کوکوئی علم نہیں۔ابھی تک سول سیکرٹریٹ والوں کو یہ بھی علم نہیں کہ ان کی حدود میں کون کون سے 16اضلاع آتے ہیں۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری کو سرائیکی وسیب کے ان مسائل کے حل کیلئے بھیجا گیا ہے جن کا اُن کے پاس اختیار نہیں۔سول سیکرٹریٹ مکمل مذاق اور گورکھ دھندا ہے اور مسائل کے حل کیلئے نہیں بلکہ سرائیکی صوبے کے مسئلے کو خراب کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے۔یہ سرائیکی وسیب خصوصاً ملتان بہاول پور کو ایک دوسرے کو لڑانے اور میانوالی، بھکر، ٹانک، ڈی آئی خان، جھنگ اور ساہیوال، پاکپتن کو سرائیکی وسیب سے مکمل طور پر کاٹنے کا حربہ ہے جس کی ہم بھرپور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ ہمارا مطالبہ وسیب کی شناخت اور مکمل حدود پر مشتمل صوبہ سرائیکستان کے قیام کا ہے۔ سرائیکستان صوبہ محاذ کے رہنماؤں نے کہا کہ ہم بہت جلد صوبہ محاذ کا اجلاس طلب کر رہے ہیں جس میں آئندہ لائحہ عمل کو آخری شکل دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان ارکان اسمبلی اور وزراء کی بھرپور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں جو خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

غلام فرید کوریجہ

مزید :

ملتان صفحہ آخر -