امدادی رقوم کو بروقت منصوبوں پر نہ لگانے والوں کیخلاف کارروائی کی جائے

امدادی رقوم کو بروقت منصوبوں پر نہ لگانے والوں کیخلاف کارروائی کی جائے

  

اسلام آباد(آئی این پی) پارلیمنٹ کی ذیلی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے امدادی رقم کو بروقت منصوبوں پر نہ لگانے والوں کے خلاف کاروائی کی سفارش کر دی، آڈٹ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ورلڈ بنک نے این ڈی ایم اے کی استعداد بڑھانے کے لیئے امداد دینے کا معاہدہ کیا،مجموعی رقم کا 20 فی صد خرچ کیا گیا،منصوبہ ختم ہو گیا اور معاشی رقم واپس ہو گئی جبکہ این ڈی ایم اے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ وزرات ماحولیات کی منصوبوں میں تاخیر کے باعث رقم واپس ہوئی۔منگل کو پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنوینئر کمیٹی شاہدہ اختر علی کی صدارت میں ہوا، اجلاس میں وزارت موسمیاتی تبدیلی کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا،اجلاس میں رکن کمیٹی ریاض فتیانہ اور منزہ حسن بھی شریک ہوئے، کنوینئر کمیٹی نیچیئرمین این ڈی ایم اے کی اجلاس میں عدم شرکت پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ این ڈی ایم اے کے چیئرمین آج بھی نہیں آئے، اس سے قبل بھی دو بار کمیٹی کا اجلاس چیئرمین این ڈی ایم اے کی غیر موجودگی کی باعث ملتوی کرنا پڑا، بغیر کسی اطلاع کے چیئرمین این ڈی ایم اے کمیٹی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے،ممبر این ڈی ایم اے نے کمیٹی کو بتایا کہ چیئرمین صاحب اس وقت کوئٹہ میں ہیں،رکن کمیٹی ریاض فتیانہ نے کہا کہ آئندہ احتیاط کریں اور نا آنے کی صورت میں بروقت آگاہ کریں، اجلاس کے دوران آڈٹ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ وزارت موسمیاتی تبدیلی کی جانب سے دستاویزات مکمل نہیں دیں گئیں،وزارت موسمیاتی تبدیلی نے 2 کروڑ 50 لاکھ روپے کی رقم سرینڈر کردی،یہ رقم دوبارہ اے جی پی آر نے محمکہ موسمیات کو دیدی،اے جی پی آر کو یہ اختیار ہی نہیں ہے کہ سرینڈر کی گئی رقم دوبارہ وزارت کو دے دے،کمیٹی نے معاملے پر دوبارہ محکمانہ آڈٹ کروانے کی ہدایت کردی، کنوینئر کمیٹی نے کہا کہ سونامی ٹری منصوبے میں جڑی بوٹیوں کو بھی اس کا حصہ بنایا گیا، سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی نے کمیٹی کو بتایا کہ سونامی ٹری منصوبے کو عالمی اداروں نے بھی تسلیم کیا ہے۔ اجلاس کے دوران این ڈی ایم اے کے سال 2016-17 کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ بھی لیا گیا، آڈٹ حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ این ڈی ایم اے ملازمین کو سرکاری رینٹل سیلنگ سے زیادہ رقم ادا کی گئی،گریڈ 22 کے لیئے رینٹل سیلنگ کی حد 45 ہزار 576 ہے،این ڈی ایم اے نے 22 گریڈ میں رینٹل سیلنگ ایک لاکھ 56 ہزار ادا کی،این ڈی ایم اے کے ابھی تک قوائد و ضوابط موجود نہیں، این ڈی ایم اے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ وزیراعظم 2007 میں قوائد و ضوابط کی منظوری دے چکے ہیں، کمیٹی نے ہدایت کی کہ اگر رولز موجود ہیں تو انھیں گزٹ کا حصہ بنایا جائے، آڈٹ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ورلڈ بنک نے این ڈی ایم اے کی استعداد بڑھانے کے لیئے امداد دینے کا معاہدہ کیا، مجموعی رقم کا 20 فی صد خرچ کیا گیا،منصوبہ ختم ہو گیا اور معاشی رقم واپس ہو گئی،این ڈی ایم اے حکام نے کمیٹی کو بتایاوزرات ماحولیات کی منصوبوں میں تاخیر کے باعث رقم واپس ہوئی، کمیٹی نے امدادی رقم کو بروقت منصوبوں پر نہ لگانے والوں کے خلاف کاروائی کی سفارش کر دی۔

اکاؤنٹس کمیٹی

  

مزید :

پشاورصفحہ آخر -