دو لڑکیوں کے آپس میں شادی کرنے کامعاملہ ،عدالت کا جنس کی تبدیلی کے بعدلڑکا بننے کادعویدار آکاش علی کامیڈیکل ٹیسٹ کرنے کیلئے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کاحکم

دو لڑکیوں کے آپس میں شادی کرنے کامعاملہ ،عدالت کا جنس کی تبدیلی کے بعدلڑکا ...
دو لڑکیوں کے آپس میں شادی کرنے کامعاملہ ،عدالت کا جنس کی تبدیلی کے بعدلڑکا بننے کادعویدار آکاش علی کامیڈیکل ٹیسٹ کرنے کیلئے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کاحکم

  

راولپنڈی(ڈیلی پاکستان آن لائن)لاہورہائیکورٹ راولپنڈی بنچ نے جنس کی تبدیلی کے بعدلڑکا بننے کادعویدار آکاش علی کامیڈیکل ٹیسٹ کرنے کیلئے 4 رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دینے  کاحکم دیدیا۔

نجی ٹی وی کے مطابق لاہورہائیکورٹ راولپنڈی میں دو لڑکیوں کے آپس میں شادی کرنے کے معاملے پر سماعت ہوئی،ہائیکورٹ بنچ نے دونوں لڑکیوں اور ایس ایچ او ٹیکسلا کو طلب کررکھا تھا ،جنس کی تبدیلی کے بعدلڑکا بننے کادعویدار آکاش علی اپنی مبینہ بیوی نیہا علی کیساتھ عدالت میں پیش ہوا،لڑکیوں کے عدالت پیشی کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔

عدالت نے ایم ایس ڈی ایچ کیو ہسپتال کو4 رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دینے  کاحکم دیدیا،عدالت نے حکم دیا ہے کہ جنس تبدیل کرنے والے آکاش علی کامیڈیکل ٹیسٹ کرکے رپورٹ پیش کی جائے ،لاہورہائیکورٹ راولپنڈی بنچ نے کیس کی سماعت 20 جولائی تک ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ کچھ روز قبل سوشل میڈیا پر یہ خبر وائرل ہوئی تھی کہ راولپنڈی میں دو لڑکیوں نے آپس میں شادی کر لی ہے ،عاصمہ بی بی نے نادرا میں اپنا شناختی کارڈ تبدیل کرایا اور اپنا نام آکاش رکھ لیا۔ بعد میں اس نے خود کو لڑکا ظاہر کرکے نیہا نامی لڑکی سے عدالت میں شادی کرلی، دونوں لڑکیاں ٹیکسلا کی رہائشی ہیں۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -راولپنڈی -