آپ مسجد کے منبر وہ زبان استعمال کررہے تھے جو کوئی جاہل آدمی بھی نہیں کر سکتا،سپریم کورٹ نے ججز کی توہین سے متعلق کیس میں ملزم افتخار الدین پر فردجرم عائد کردی

آپ مسجد کے منبر وہ زبان استعمال کررہے تھے جو کوئی جاہل آدمی بھی نہیں کر ...
آپ مسجد کے منبر وہ زبان استعمال کررہے تھے جو کوئی جاہل آدمی بھی نہیں کر سکتا،سپریم کورٹ نے ججز کی توہین سے متعلق کیس میں ملزم افتخار الدین پر فردجرم عائد کردی

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)ججز کی توہین اورجسٹس قاضی فائزعیسیٰ کو قتل کی دھمکیوں کے کیس میں سپریم کورٹ نے ملزم افتخار الدین پر فردجرم عائد کرتے ہوئے تحریری جواب جمع کرانے کیلئے ایک ہفتے کی مہلت دیدی،عدالت نے کہاکہ آپ کی جانب سے جمع کرائے گئے گزشتہ تحریری جواب سے مطمئن نہیں۔عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ آپ مسجد کے منبر وہ زبان استعمال کررہے تھے جو کوئی جاہل آدمی بھی نہیں کر سکتا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ میں ججز کی توہین اورجسٹس قاضی فائزعیسیٰ کو قتل کی دھمکیوں کے کیس کی سماعت ہوئی، چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی،افتخار الدین مرزا نے کہاکہ اپنے ویڈیو بیان پر تہہ دل سے معذرت خواہ ہوں،بطورمسلمان بھی آپ سے معافی چاہتاہوں،مجھے ویڈیوکی اپ لوڈنگ اورایڈیٹنگ کاعلم نہیں۔چیف جسٹس پاکستا ن نے کہاکہ یہ معافی والا کیس نہیں ،آپ عدالت سے مذاق نہیں کرسکتے اس طرح تو پاکستان کا سارانظام فیل ہو جائے گا،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ آپ مسجد کے منبر وہ زبان استعمال کررہے تھے جو کوئی جاہل آدمی بھی نہیں کر سکتا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے افتخار الدین کیس میں بیان حلفی جمع کرادیا،چیف جسٹس پاکستان نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیاکہ کیا آپ نے بیان حلفی پڑھا؟،اٹارنی جنرل نے کہاکہ مجھے بیان حلفی نہیں ملا،چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہاکہ اسے پڑھیں اورجواب دیں، سپریم کورٹ نے سرینا عیسیٰ کابیان حلفی اٹارنی جنرل کے حوالے کردیا۔

چیف جسٹس پاکستان نے ایف آئی اے،سی ٹی ڈی کی رپورٹس پراظہارعدم اطمینان کرتے ہوئے کہاکہ یہ محکمے کیاکررہے ہیں؟معاملے کوسنجیدہ نہیں لے رہے،تحقیقاتی رپورٹ میں کوئی ٹھوس چیزموجودنہیں،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ بیان حلفی میں بہت سنگین نوعیت کی باتیں ہیں ،بیان حلفی میں مرزاافتخار کاکنکشن شہزاداکبر اوروحید ڈوگر سے جوڑا گیا ،افتخار الدین کاکنکشن ان لوگوں سے کس بنیاد پر جوڑا گیا معلوم نہیں ۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ وحید ڈوگر ،جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کیخلاف شکایت کنندہ تھا ،اٹارنی جنرل بیان حلفی کاجائزہ لے کر جواب دیں ،چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیاکہ کیاایف آئی اے نے افتخار مرزا کے کنکشن کاکھوج لگایا؟،عدلیہ کیخلاف ایسا بیان کوئی اپنے طور پر نہیں دے سکتا ،اٹارنی جنرل نے کہاکہ معاملہ ٹرائل کورٹ میں ہے ۔

سپریم کورٹ نے ملزم افتخار الدین پر فردجرم عائد کرتے ہوئے تحریری جواب جمع کرانے کیلئے ایک ہفتے کی مہلت دیدی،عدالت نے کہاکہ آپ کی جانب سے جمع کرائے گئے گزشتہ تحریری جواب سے مطمئن نہیں۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -