ٹرمپ انتظامیہ کو یوٹرن لینے پر مجبور کردیاگیا

ٹرمپ انتظامیہ کو یوٹرن لینے پر مجبور کردیاگیا
ٹرمپ انتظامیہ کو یوٹرن لینے پر مجبور کردیاگیا

  

واشنگٹن(ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ یونیورسٹیوں کی جانب سے مقدمات اور تعلیمی ماہرین کی جانب سے تنقید کے بعد یوٹرن لینے پر مجبور ہوگئی ہےاور  غیر ملکی طلبہ کو ملک بدر کرنے کی پالیسی واپس لے لی ہے۔

بی بی سی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت اُن غیر ملکی طلبا کو ملک بدر کرنے کے منصوبے سے دستبردار ہوگئی ہے جن کی تعلیمی سرگرمیاں کورونا کے باعث مکمل طور پر آن لائن ہو چکی ہیں۔

امریکہ کی حکومت کی جانب سے یہ یو ٹرن نئی پالیسی کے اعلان کے ایک ہفتے کے بعد ہی لیا گیا ہے۔

اس سے قبل چھ جولائی کو امریکہ کے محکمہ امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئس) نے کہا تھا کہ امریکی یونیورسٹیوں میں زیرِ تعلیم وہ غیر ملکی طلبا جن کی کلاسیں مکمل طور پر آن لائن ہو چکی ہیں، ان کا ملک میں رہنا غیر قانونی قرار پائے گا۔

محکمے نے کہا تھا کہ طلبا کو یا تو امریکہ چھوڑنا ہوگا، اور اگر وہ فال 2020 یعنی خزاں کے سیمیسٹر کے دوران امریکہ میں رہنا چاہتے ہیں تو انھیں ایسا کوئی کورس لینا ہوگا جہاں آف لائن کلاسیں جاری ہوں۔

امریکہ کی صفِ اول کی یونیورسٹیوں ہارورڈ اور میساچوسیٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) نے اس منصوبے پر حکومت کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا تھا۔

اب میساچوسیٹس کے ضلعی جج ایلیسن بروز کا کہنا ہے کہ فریقین کے درمیان تصفیہ ہوگیا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کے اس فیصلے پر پاکستانی طالب علموں کی بڑی تعداد نے بھی پریشانی کااظہارکیاتھا۔

مزید :

بین الاقوامی -