'قندیل' کو بجھے 4 برس بیت گئے

'قندیل' کو بجھے 4 برس بیت گئے
'قندیل' کو بجھے 4 برس بیت گئے

  

مظفرگڑھ(ڈیلی پاکستان آن لائن) ماضی کی معروف مگر متنازع ماڈل اور سوشل میڈیا سٹار قندیل بلوچ کے قتل کو چار برس بیت چکے ۔  چار سال قبل قندیل بلوچ کو سگے بھائی نے گلا دبا کر قتل کر دیا تھا۔

فوزیہ عظیم المعروف ماڈل قندیل بلوچ منفرد اور بے باک انداز کے باعث نیشنل اور انٹرنیشنل میڈیا کی زینت بنے والی ماڈل قندیل بلوچ کا تعلق ڈیرہ غازی خان  کے پسماندہ علاقے شاہ صدردین سے تھا۔

شہرت اور آزادانہ زندگی گزارنے کے لیے کم عمری میں ہی اپنا آبائی شہر چھوڑ دیا اور بس ہوسٹس کی نوکری کرکے اپنے خوابوں کی تکمیل کے سفر پر نکل پڑی ۔

ماڈلنگ کی بدولت انتہائی کم وقت میں شہرت کی بلندیوں کو پہنچنے والی قندیل بلوچ کا بولڈ اور متنازعہ انداز موت کی وجہ بنا ، ماڈل قندیل بلوچ کو مفتی عبدالقوی کے ساتھ سیلفیاں بنانے کے بعد   2016 میں  15 اور 16 جولائی کی درمیانی شب سگے بھائی وسیم نے غیرت کے نام پر گلا دبا کر قتل کر دیا  تھا۔

کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزارنے والے قندیل بلوچ کے والد اب  کھجور کے پتوں سے چنگریں اور دیگر اشیا بنا کر گھر کا چولہا جلا رہے ہیں،عدالت نے مرکزی ملزم وسیم کوغیرت کے نام پر قتل ثابت ہونے پر عمر قید کی سزا سنائی جبکہ دیگر 5 ملزمان کو شک کی بنیاد پر بری کر دیا تھا۔  

تاہم پراسیکوشن ڈیپارٹمنٹ نے ہائی کورٹ میں ملزم وسیم کی سزا بڑھانے اور دیگر بری ہونے والے ملزمان کی بریت کے خلاف اپیل دائر کی ہے جبکہ ملزم وسیم نے سزا معافی کے لیے اپیل دائر کی ہوئی ہے ۔

مزید :

تفریح -علاقائی -پنجاب -مظفرگڑھ -