چین اور ایران نے مل کر وہ کام کردیا کہ امریکہ، اسرائیل اور بھارت کے منصوبے خاک میں مل جائیں

چین اور ایران نے مل کر وہ کام کردیا کہ امریکہ، اسرائیل اور بھارت کے منصوبے ...
چین اور ایران نے مل کر وہ کام کردیا کہ امریکہ، اسرائیل اور بھارت کے منصوبے خاک میں مل جائیں

  

بیجنگ، تہران(ڈیلی پاکستان آن لائن) چین اور ایران نے مل کر وہ کام کردیا کہ امریکہ، اسرائیل اور بھارت کے منصوبے خاک میں مل جائیں گے۔ ایران اور چین میں ایسا معاہدہ ہوگیا ہے جو عالمی سیاسی توازن میں تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے۔

 امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق دونوں ملکوں میں  400 ارب ڈالر کامعاہدہ طے پایا ہے جس کے تحت ایران اگلے 25 سالوں تک چین کو انتہائی سستی قمیت پر خام تیل فراہم کرے گا اور اس کے بدلے میں چین ایران میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرے گا۔

چین نے امریکی پابندیوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے یہ معاہدہ کیا ہے اس لیے ماہرین کا خیال ہے کہ اس معاہدے کے صرف بھارت پر ہی نہیں بلکہ پوری دنیا پر اثرات مرتب ہوں گے۔

ایرانی خبررساں ادارے کے مطابق اس معاہدے کے تحت  دونوں ممالک توانائی، بنیادی ڈھانچے، صنعت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں آئندہ 25 سال تک ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں گے۔

ابھی تک اس معاہدے کو عام نہیں کیاگیاہے تاہم امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے 18صفحات پر مبنی ایک ایسی دستاویز شائع کی ہے جسے اس معاہدے کا حتمی بلیو پرنٹ قرار دیا گیاہے اور اس پر گزشتہ ماہ جون کی تاریخ درج ہے۔

بی بی سی کے مطابق ان دستاویزات کو پڑھیں تو معاہدہ کچھ اس طرح سامنے آتا ہے کہ اس کے تحت  چین ایران کی تیل و گیس کی صنعت میں 280 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔

چینی فریق ایران میں پیداواری اور نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے بھی 120 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔

ایران آئندہ 25 سالوں تک چین کو باقاعدہ طور پر انتہائی سستی قیمتوں پر خام تیل اور گیس فراہم کرے گا۔

ایران میں 5 جی ٹیکنالوجی کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں چین مدد کرے گا۔

چین بڑے پیمانے پر بینکاری، ٹیلی مواصلات، بندرگاہوں، ریلوے اور دیگر درجنوں ایرانی منصوبوں میں اپنی شرکت میں اضافہ کرے گا۔

دونوں ممالک باہمی تعاون کے تحت مشترکہ فوجی مشقیں اور تحقیق کریں گے۔

چین اور ایران مل کر اسلحہ بنائیں گے اور ایک دوسرے کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات بھی شیئر کریں گے۔

مشرق وسطی کے امور کے ماہر اور خلیجی ممالک میں انڈیا کے سفیر، تلمیذ احمد کے مطابق چین کے اس اقدام سے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران پر ڈالاگیا'زیادہ سے زیادہ دباؤ'  کافی حد تک اس معاہدے سے کمزور ہوجائے گا۔

ماہرین کے اس معاہدے کی وجہ سے انڈیا کے لیے صورت حال امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب بمقابلہ ایران جیسی ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق چین اور ایران دونوں ہی امریکہ سے ناراض ہیں اور دونوں ممالک کی یہ ناراضگی آج اس معاہدے کی شکل میں دنیا کے سامنے ہے۔

ایرانی امور کے ماہر اور سینیئر صحافی راکیش بھٹ کا خیال ہے کہ چین اور ایران واقعی امریکیوں کے لیے ایک چیلنج بنیں گے۔

مزید :

اہم خبریں -بین الاقوامی -