400 جسم فروش خواتین سڑکوں پر نکل آئیں، حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

400 جسم فروش خواتین سڑکوں پر نکل آئیں، حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ
400 جسم فروش خواتین سڑکوں پر نکل آئیں، حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

  

برلن (ڈیلی پاکستان آن لائن) جرمنی میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے بیروزگار ہونے والی جسم فروش خواتین نے حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔

کورونا وائرس کی وجہ سے دوسرے کاروبار کی طرح قحبہ خانوں کو بھی بند کردیا گیا تھا، جرمنی میں دیگر کاروبار تو کھول دیے گئے ہیں لیکن جسم فروشی کے اڈے تاحال بند ہیں جس کے خلاف جسم فروش خواتین نے احتجاجی مظاہرہ کیا ۔

ہیمبرگ میں 400 سے زائد جسم فروش خواتین نے ریڈ لائٹ ایریا میں احتجاجی مظاہرہ کیا اور مطالبہ کیا کہ دوسرے کاروبار کی طرح ان کے دھندے کو بھی کھولا جائے، ان کے کام سے کسی کی صحت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ایک خاتون نے پلے کارڈ پر لکھوا رکھا تھا کہ " دنیا کے سب سے پرانے پیشے کو آپ کی مدد کی ضرورت ہے۔"

احتجاجی مظاہرے کا اہتمام کرنے والی تنظٰم ایسوسی ایشن آف سیکس ورکرز کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ جسم فروشی کو کسی بھی کاروبار کی طرح قانونی تحفظ حاصل ہے، اس کاروبار کو بند کرنے کی وجہ سے خواتین اپنے طور پر سڑکوں پر جسم فروشی کر رہی ہیں جو صحت کیلئے نقصان دہ ہے، اس لیے حکومت فوری طور پر قحبہ خانوں کو کھولے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -