کورونا کی تاریخ کا انوکھا کیس، 35 روز تک سمندر میں رہنے والے 57 ماہی گیر کورونا کا شکار ہوگئے، دنیا بھر کے ڈاکٹرز نے سر پکڑ لیے

کورونا کی تاریخ کا انوکھا کیس، 35 روز تک سمندر میں رہنے والے 57 ماہی گیر کورونا ...
کورونا کی تاریخ کا انوکھا کیس، 35 روز تک سمندر میں رہنے والے 57 ماہی گیر کورونا کا شکار ہوگئے، دنیا بھر کے ڈاکٹرز نے سر پکڑ لیے

  

بیونس آئرس (ڈیلی پاکستان آن لائن) جنوبی امریکہ کے ملک ارجنٹائن میں 57 ماہی گیر 35 روز سمندر میں گزارنے کے باوجود کورونا کا شکار ہوگئے۔ سمندر میں جانے سے پہلے ان تمام افراد کے کورونا ٹیسٹ کیے گئے تھے جو منفی آئے تھے، ماہی گیروں کا سمندر میں کورونا میں مبتلا ہونا ایک معمہ بن گیا ہے۔

ارجنٹینا کی وزارت صحت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سمندر میں موجود جہاز کو اس وقت واپس آنا پڑا جب عملے کے اکثر ارکان میں کورونا کی علامات ظاہر ہونا شروع ہوئیں۔ بندرگاہ پر پہنچتے ہی عملے کے دوبارہ ٹیسٹ کیے گئے جس کے نتائج نے سب کو حیران کردیا۔

جہاز کے عملے کے 61 میں سے 57 ارکان کے کورونا ٹیسٹ پازیٹو آگئے جس کے بعد انہیں اوشویا شہر کے ایک ہوٹل میں 14 روز کیلئے قرنطینہ کردیا گیا ہے۔

ڈائریکٹر آف پرائمری ہیلتھ الیجانڈرا الفارو کے مطابق یہ بتانا مشکل ہے کہ جہاز کا عملہ کورونا سے کس طرح متاثر ہوا، سمندر میں گزارے گئے 35 دنوں کے دوران عملے کا زمین سے کوئی رابطہ نہیں ہوا، وہ اپنی ضرورت کا سامان بھی اوشویا کی بندرگاہ سے ہی لے کر گئے تھے

اوشویا ریجنل ہسپتال میں وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر لیونارڈو بالٹور کا کہنا ہے کہ یہ ایک منفرد قسم کا کیس ہے، ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کورونا کا انکیوبیشن پیریڈ اتنا لمبا رہا ہو۔ ہم حتمی طور پر نہیں کہہ سکتے کہ عملہ کورونا سے کس طرح متاثر ہوا ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -کورونا وائرس -