ایل ڈبلیو ایم سی تجھے سلام 

  ایل ڈبلیو ایم سی تجھے سلام 
  ایل ڈبلیو ایم سی تجھے سلام 

  

 گزشتہ تین سالوں میں عید قرباں گزرنے کے بعد لاہور اور اس کے مضافات میں ہر جگہ گندگی آلائشیں،اوجھڑیاں نظر آنا  معمول بن گیا تھا عید تو گزر جاتی لیکن فضلات کی وجہ سے سارے شہر کی فضا بدبودار رہتی پی ٹی آئی حکومت نے سارے شہر کو روڑی بنا دیا تھا اللہ پاک کا شکر ہے کہ عثمان بزدار صاحب پنجاب سے رخصت ہوگئے اگر وہ ابھی تک موجود ہوتے تو حالات گزشتہ سالوں سے مختلف نہ ہوتے اب سوال یہ ہے کہ کیا صفائی کی ذمہ داری  سرکار کی تھی تو جی ہاں جناب تمام چیزوں کا ذمہ دار حاکم وقت ہی ہوتا ہے تبدیلی سرکار کو پتہ نہیں کس نے کہا تھا کہ محکموں کی ڈاؤن سائزنگ،بھینسیں اور گاڑیاں بیچنے  سے ملک ترقی کرتے ہیں کاش کہ کوئی انہیں یہ بتا دیتا کہ اگر آپ ملکی معیشت کو مستحکم کرنا چاہتے ہیں تو جناب اپنی عیاشیاں کم کریں فرح گوگی، پنکی پیرنی،  اور باقی لٹیروں کی ٹیم سے معافی مانگ لیں  ملکی معیشت، انتظامات کی بربادی کے سارے اعزازات  تبدیلی سرکار کے حصے میں آتے ہیں اسی طرح یہ اعزاز بھی انہیں کو حاصل ہوا کہ انہوں نے لاہور کو گندا کر دیا گزشتہ تین سالوں میں جب  عید گزرتی تھی تو سڑکوں کے کناروں اور فٹ پاتھوں پر فضلات کے ڈھیر  نظر آتے تھے وہ اس لئے کہ ایل ڈبلیو ایم سی کے پاس نہ تو مشینری تھی اور نہ ہی مین پاور تبدیلی سرکار نے پاکستان کے ساتھ بالکل ایسے ہی کیا جیسے کرائے دار کرائے کی عمارتوں اور گاڑیوں کو برباد کرتے ہیں اور جب مالک آتے ہیں تو انہیں  اپنے مکانات کی تعظیم وآرائش کے لئے دوبارہ پیسے خرچ کرنا پڑتے ہیں ویسے دیکھا جائے تو پی ٹی آئی والے بھی تو کرائے دار ہی تھے جو ملک کو برباد کرنے آئے  اور انہوں نے کیا،اللہ کا کروڑہا شکر ہے کہ پی ٹی آئی قصہ ماضی بن چکی۔

اللہ کا کرم ہوا اور پھر سے حکومت مالکوں کے ہاتھ آئی اور انہوں نے پوری دلجمعی کے ساتھ اپنے گھر کی تزئین و آرائش پھر  سے شروع کی اس سال عید قربان اور بعد کے ایام میں ایل ڈبلیوایم سی نے اپنی پوری ٹیم کے ساتھ کمال کی کارکردگی دکھائی۔

عید سے قبل سینکڑوں کی تعداد میں کیمپ لگائے گئے،گاربیج بیگ بنوائے گئے تین دن کے آپریشن کے لیے ہزاروں کی تعداد میں اضافی نفری اور گاڑیاں حاصل کی گئیں ایل ڈبلیو ایم سی کی سی ای او میڈم رافیہ اپنے گیارہ ہزار جوانوں کے لشکر کے ساتھ میدان میں اتریں جنہوں نے عید سے ایک دن پہلے ہی بڑے بڑے گار بچ بیگ ہر اس گھر تک پہنچا دیے جن کے پاس قربانی کا جانور تھا تاکہ اس میں آلائشیں ڈال کر دروازے کے باہر رکھ دی جائیں اور ان کی گاڑیاں وہاں سے اٹھا  لے جائیں۔

  یاد رہے کہ تبدیلی والوں نے تو تین سال تک گاربیج بیگ بنوانے کے لئے بھی فنڈز جاری نہیں کیے تھے خیر چھوڑیں وہ تو کرائے دار تھے ان سے کیا گلہ ایل ڈبلیو ایم سی نے اس آپریشن کو زیرو ویسٹ آپریشن کا نام دیا اور بلاشبہ وہ اس میں سو فیصد کامیاب رہے جس پر یہ مبارک باد کے مستحق ہیں۔

عید ختم ہوتے ہی سارا لاہور پہلے کی طرح صاف ستھرا ہو گیا انہوں نے عید سے قبل صفائی کے لیے  حکمت عملی تیار کی اضافی مین پاور اور بھاری مشینری کا انتظام کیا گاڑیاں کرائے پر حاصل کیں  اور اپنے ٹارگٹ میں کامیابی سے ہمکنار ہوئے میرے قارئین کرام یہ جانتے ہیں کہ میں ہر اس ادارے یا شخصیت کو کھلے الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتا ہوں جو میرے ملک اور شہر کے لئے محنت کرتا ہے جیسا کہ ایڈیشنل اینڈ سیشن جج ابراہیم اصغر، ڈی ایس پی عمران عباس چدھڑ،محکمہ زراعت اور اسی طرح اب ایل ڈبلیو ایم سی کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

  میڈم رافیہ سی ای او، احمد ایاز صاحب ڈپٹی   سی او،کامران ناصر جی ایم،آصف اقبال ڈپٹی جی  ایم،علی رضا شاہ زیڈ او، عابد علی سپروائزر،رانا اشفاق احمد اور ان کی ٹیم میں شامل ہر  اس جوان کو جنہوں نے ہماری عید قرباں کے لیے اپنی عید قربان کر دی ایل ڈبلیو ایم سی کے ہر چھوٹے سے چھوٹے ملازم کو بھی جنہوں نے میرے شہر کی صفائی میں اپنا حصہ ڈالا میڈم رافیہ اور ان کی ٹیم بلاشبہ یہ اہلیت رکھتی ہے  کہ وہ لاہور کو استنبول اور کوالالمپور  جتنا صاف ستھرا بنا سکیں آپ مبارکباد کے مستحق ہیں کہ محدود وسائل اور مین پاور کے ساتھ آپ نے وہ کر دکھایا جو بہت سے نہیں کر سکے وزیر اعلی پنجاب جناب حمزہ شہباز صاحب سے گزارش ہے کہ برائے کرم ایل ڈبلیو ایم سی کے مسائل بھی سنیں انہیں حل کرنے کے لیے احکامات جاری کریں ایل ڈبلیو ایم سی کی ٹیم ہی پاکستان ہے اور یہی  زندہ باد ہیں  آپ سب کچھ کر سکتے ہیں اسی طرح ٹیم ورک محنت اور پلاننگ کے ساتھ اپنا کام جاری رکھیں یہ یقین کرلیں کہ جب نام پکارے جائیں گے تو آپ لوگ بھی پکارے جاؤ گے اور وطن کی فضائیں آپ کو بھی سلام کہیں گی اور جب    شہر کی تاریخ لکھی جائے گی تو مورخ ایل ڈبلیو ایم سی کی پوری ٹیم کا ذکر ضرور کرے گا، پاکستان زندہ باد۔

مزید :

رائے -کالم -