چودھری صاحب پر حملہ 

   چودھری صاحب پر حملہ 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


بہت سے اختلافات کے باوجود چوہدری ایاز امیر ہمیں اچھے لگتے ہیں اس لئے کہ کبھی موج میں آ کر وہ سچی بات بھی کر جاتے ہیں:
نکل جاتی ہے جس کے منہ سے سچی بات مستی میں 
فقیہہ مصلحت بیں سے وہ رند بادہ خوار اچھا
ایاز امیر صاحب پر تشد د کی خبرسنی تو بہت دکھ ہوا۔ سفر میں ہونے کی وجہ سے تفصیل معلوم تھی اس لئے فوری رد عمل یہ ہوا کہ میں ان کی خیریت کی دعائیں کرنے لگا اور پھرکئی دھائیوں سے ان کے ساتھ تعلق کی مختلف شکلیں ذہن کی سکرین پر چلنے لگیں، تین دہائیاں قبل جب راولپنڈی کے بدنام جواخانےsmash کرنے پر شیخ رشید نے میرا تبادلہ کر دیا تو ایاز امیر صاحب نے ڈان میں میرے لئے کالم لکھا۔ بے شمار لوگوں کی طرح میں بھی ان کی خوبصورت انگریزی نثر کا مداح تھا، صاحب مطالعہ بھی ہیں اور پروگریسو بھی  اس لئے وہ کبھی کبھار پولیس کا سامراجی اور دقیانوسی نظام تبدیل کرنے کے حق میں بھی لکھ دیا کرتے تھے، اس پر وہ  ہمیں مزید اچھے لگنے لگے۔ ہماری اشرافیہ اور حکمران انگریزی تحریر سے جلد متاثر ہوتے ہیں اس لئے انہیں مختلف کمیٹیوں میں شامل کرلیا گیا۔ 1997ء میں انہوں نے مسلم لیگ ن کا ٹکٹ مانگا جوتھوڑی سی محنت کے بعد مل گیا اور وہ ایم پی اے منتخب ہو گئے اور جلد ہی وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے چہیتوں میں شمار ہونے لگے۔ میں ان دنوں لاہور پولیس کا سربراہ تھا اس لئے ان سے زیادہ ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ 1999ء میں جنرل مشرف نے مسلم لیگ کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تو وہ مشرف کے خلاف کسی جدوجہد میں شامل نہ ہوئے اس لئے قید و بند کی صعوبتوں سے بچے رہے لیکن میاں صاحبان سے قرب کے باعث وہ 2008ء میں بھی مسلم لیگ ن سے قومی اسمبلی کا ٹکٹ لینے میں کامیاب ہو گئے اور ایم این اے بن گئے۔ مشرف دور میں جب میں نیشنل پولیس اکیڈمی میں تعینات ہوا تو اے ایس پیز کی ٹریننگ میرے سپرد کی گئی۔ پولیس اکیڈمی کے اعلیٰ حکام اور خود وزیر داخلہ جنرل معین حیدر کی مخالفت کے باوجود میں چوہدری ایاز میر کو بطور گیسٹ سپیکر بلاتا رہا۔ جنرل مشرف کے پورے دور میں میرے لئے پنجاب کے دروازے بند رہے۔ پولیس اکیڈمی کے بعد صوبہ سرحد کے پی کے، کے مختلف علاقوں میں تعینات رہنے کے بعد 2008ء کے وسط میں میری تعیناتی گوجرانوالہ ہوئی تو ایک شام میرے موبائل کی گھنٹی بجی، میں نے سبز بٹن دبایا تو ایاز صاحب کی آواز کانوں میں پڑی، میں نے بڑے تپاک سے پوچھا، "چوہدری صاحب فرماؤ کیویں یاد کیتا اے" (میری ان سے گفتگو پنجابی میں ہی ہوتی ہے اور میں انہیں چوہدری صاحب کہہ کر بلاتا ہوں۔پوچھا  فرمائیں کیسے یاد کیا ہے تو کہنے لگے، " اِدھر اُدھر سے پتا چلا ہے کہ ہمارے ضلع چکوال کا ڈی پی اوصرف آپ کی بات مانتا ہے، ہماری تو بات نہیں سنتا"۔ میں نے مسئلہ پوچھاتو فرمانے لگے، "اسے کہیں کہ فلاں پولیس افسر کو فلاں تھانے میں ایس ایچ او لگوا دے"۔ مجھے ایاز امیر کے منہ سے یہ بات عجیب سی لگی، اس لئے میں نے کہا چوہدری صاحب آپ جیسا intellectual کن چکروں میں پڑ گیا ہے۔ کہنے لگے، "دیہاتی سیاست میں یہ کرنا پڑتا ہے، میری یہ ذاتی درخواست  ہے اسے ضرور کروادیں "۔

میں نے ڈی پی او چکوال کو اپنی سفارش کے ساتھ ان کی خواہش پہنچادی اور ساتھ یہ بھی کہا  " موصوف اہم فورمز پر پولیس سسٹم کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی بات کرتے ہیں ورنہ اس پر پولیس کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے"۔ ڈی پی او نے چوہدری صاحب کی خواہش پوری کردی۔ اس کے بعدایک مہینہ ہی گزرا ہوگا کہ چوہدری صاحب کا پھر فون آ گیا، اس بار قدرے طویل تمہید کے بعد فرمانے لگے، "ڈی پی او چکوال نے فلاں ایس ایچ او کو کسی غلط فہمی کی بناء پر ہٹادیا تھا، ان سے کہیں کہ اسے پھر اسی تھانے میں SHO لگادے"۔ میں نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "چوہدری صاحب تھانیدار لگوانا آپ کو زیب نہیں دیتا اور ساتھ یہ بھی بتایا کہ صاحب میرے بھائی صاحب جو اسوقت رکن اسمبلی تھے) وہ بھی ایس ایچ او لگوانے کی سفارش نہیں کرتے اور میں خود بھی کسی کی سفارش پرSHO انہیں لگاتا، یہ ڈی پی او کی صوابدید ہے، وہ جیسا مناسب سمجھے گا کر لے گا۔ انہوں نے اسے ذاتی اور آخری درخواست قرار دیا اور ساتھ یہ بھی سنا دیا کہ پولیس کے مخالف گروپ کا دباؤ بہت ہے اس لئے حکومت پولیس آرڈر ختم کر کے دوبارہ 1861ء والا نظام نافذ کرنے پر تلی ہوئی ہے مگر میں جس حد تک ممکن ہے مزاحمت کر رہا ہوں، آپ کو بھی چاہئے کہ اپنے سپورٹروں کا خیال رکھا کریں اس بار میں نے ڈی پی او سے سفارش کرنے کی بجائے صرف یہ پوچھا کہ "چوہدری ایاز امیر جسے SHO لگوانا چاہتا ہے اس پولیس افسر کی شہرت کیسی ہے"؟ ڈی پی اوتو اس کا نام سنتے ہی پھٹ پڑا اور کہنے لگا، "سر! یہ پورے ضلع کا گندا ترین تھانیدار ہے، اسی لئے میں نے اسے ہٹایا تھا۔ اس کے لئے پہلے بھی مجھے مختلف ذرائع سے کہلوا چکے ہیں، اس کے ساتھ ڈیل یہ ہورہی ہے کہ ایم این اے صاحب اسے لگوائیں گے اور اس کے بدلے میں وہ اسباب شبینہ کا بندوبست کیا کر ے گا یعنی تھانیداری اور بادہ خواری دونوں دھندے چلتے رہیں گے۔ ڈی پی او نے SHO کو دیئے جانے والے ممکنہ این آر او کی چند مزید مخفی شقوں کا بھی حوالہ دیا جس کا ذکر یہاں مناسب نہیں۔ میں نے ڈی پی او کی بات سنتے ہی کہا، " میں ابھی ایاز امیر کو فون کرنے لگا ہوں کہ حکومت چاہے 1861ء کی بجائے 1761ء کا نظام لے آئے مگر اتنے گندے افسر کو SHO نہیں لگایا جاسکتا "۔ چوہدری صاحب کا مطلوب و محبوس افسرSHOنہ لگ سکا تو انہوں نے اگلے کالم میں تحریر فرمایا، " چکوال کا ڈی پی او امن و امان قائم کرنے میں بری طرح ناکام ہو گیا ہے،وہ نہ جرائم کو کنٹرول کر سکتا ہے اور نہ ہی عوامی نمائندوں کو مطمئن کر سکتا ہے نیز یہ کہ 1861ء والا پولیس ایکٹ نافذ کرنا بے حد ضروری ہے"۔ ڈی سی او بھی چوہدری صاحب کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا، لہٰذا ڈی سی او اور ڈی پی او دونوں چوہدری صاحب کے کالموں کی زد میں آگئے۔

ضلعی افسربیچارے ایک دو کالموں کی مار ہوتے ہیں، دونوں افسروں کو کالموں کی وہ مار دی گئی کہ عوام کے بہترین مفاد میں دونوں تبدیل کر دیئے گئے۔ ممبری اور اقتدار کے دوران کچھ ایسے کارنامے بھی ان کی ذات سے منسوب ہو گئے جو آجکل سابق چیئرمین نیب کی وجہ شہرت بنے ہوئے ہیں، مسلم لیگ ن کی قیادت انک کی ”شہرت“ سے گھبرا گئی لہٰذا انہیں 2013ء میں ٹکٹ نہ مل سکا۔ مگر چوہدری صاحب سے اس کے بعد بھی میرا رابطہ رہا۔ میں بھی جب انہیں کہتا ہوں کہ چوہدری صاحب آپ کے توبہ شکن کالم پڑھ کر بڑے بڑے پرہیز گاروں کا میناروں میں شامل ہونے کو دل مچل اٹھتا ہے تو یہ جان کر بھی مسکراتے رہتے ہیں کہ یہ صرف مجھے خوش کرنے کے لیے ایسا کہہ رہا ہے۔ ان کی تقریر(جو ان پر تشد دکا باعث بنی) سنی تو معلوم ہوا کہ اس میں تو انہوں نے سب سے زیادہ کھچائی عمران خان کی کی تھی ورنہ خان صاحب تو صرف خوشامدانہ باتیں سننے کے عادی ہیں۔ چوہدری ایاز امیر صرف قوم کو درپیش مسائل کا ذکر ہی نہیں کرتے اس کے حل کیلئے بھی ان کے پاس ایک نسخہ کیمیا موجود ہے جسے وہ بکمال مہربانی ضبط تحریر میں بھی لاتے رہتے ہیں، وزیراعظم عمران خان سے ملکر بھی انہوں نے ملک کے مسائل کا چندلفظوں میں حل بتا دیا تھا کہ شاپروں پر پابندی لگادیں جبکہ شراب اور طاؤس و رباب پرلگی پابندی ہٹا دیں۔ خان صاحب یقیناً یہ حل سن کر پکار ا ٹھے ہوں گے، پالیا، پالیا۔ ایاز صاحب کے بقول وزیر اعظم نے کہہ دیا تھا کہ " کردو" مگر اُن کے مشیر نالائق نکلے کہ زیادہ تر چوہدری صاحب کے ہم مشرب ہونے کے باوجود اس حکم پر عملدرآمد نہ کرا سکے لہٰذا چوہدری نے بھری محفل میں خان کی کلاس لے لی اور ان کے گرد بنا ہوا تقدس کا جالا توڑ کر رکھ دیا۔ چوہدری ایاز امیر کی بے باکانہ تقریب کا ایک فائدہ بھی ہوا کہ انکے بعد آنے والے مقررین کو اپنی تقریروں سے خوشامد کا کچھ عنصر نکالنا پڑا۔

ہاں یاد آیا کہ ایک روز میں نے فون کر کے پو چھ لیا، "چوہدری صاحب آپ بڑے وسیع المطالعہ ہیں، کیا آپ نے وہ حیرت انگیز کتاب بھی پڑھی ہے؟" توکہنے لگے کون سی؟ میں نے کہا، " جس کے مصنف نے عجیب وغریب دعویٰ کیا ہے کہ کبھی دنیا، کائنات، زمین، آسمان اور انسان ہر چیز کا تخلیق کار میں ہوں۔ کیا قرآن پڑھنے کا بھی اتفاق ہوا ہے؟ اس کا انگریزی ترجمہ بھی با آسانی مل جاتا ہے انہوں نے کہا، "ہاں Pickthall اور عبداللہ یوسف علی نے قرآن کا انگریزی میں ترجمہ کیا ہے مگر میں نہیں پڑھ سکا"۔ مجھے یقین ہے کہ وہ یہ حیرت انگیز تصنیف ضرور پڑھیں گے اور خالق انہیں روشنی عطاء کر دے گا۔ بہرحال ایک تو چوہدری ایاز امیر کبھی غیر مہذب گفتگو نہیں کرتے اور دوسرا عمر کے لحاظ سے وہ اب بزرگوں میں شمار ہوتے ہیں اسلئے انکے ساتھ ہونے والی زیادتی انتہائی نامناسب اور قابل مذمت ہے۔ الزام کا جواب دلیل سے دینا ہوگا ورنہ ملک میں انارکی پھیلے گی اور شہریوں کا ریاست کیساتھ رشتہ کمزور ہو جائیگا۔(بشکریہ روزنامہ ایکسپریس)

مزید :

رائے -کالم -