کورٹ میرج، حقیقت یا افسانہ

 کورٹ میرج، حقیقت یا افسانہ
 کورٹ میرج، حقیقت یا افسانہ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 ہمارے ہاں بہت سی باتیں بغیر جانے، پہچانے، پرکھے غلط العام ہو جاتی ہیں۔ نہ کوئی تحقیق، نہ ریسرچ، نہ غور و فکر، نہ علم،نہ مطالعہ نہ جستجو، ایک بھیڑ چال،سنی سنائی باتوں پر یقین بلکہ اندھا دھند یقین۔ ہمارے معاشرے میں ہر سو ایسی بے شمار داستانیں بکھری پڑی ہیں۔ انہیں سن کر بعض اوقات دکھ بھی ہوتا ہے اور ہنسی بھی آتی ہے، انہی بے سروپا باتوں میں سے ایک کورٹ میرج کی اصطلاح بھی ہے۔عمومی طور پر یہ بات ہمارے مشاہدہ میں آئی ہے کہ لڑکا لڑکی اگر اپنے اپنے گھر والوں کی مرضی کے بغیر شادی کر لیں جسے عدالتی اصطلاح میں Run away Marriage بھی کہتے اور پھر اس میں عدالتی کارروائی کا تڑکا اسے عرف عام میں کورٹ میرج کہتے ہیں۔ عام آدمی بلکہ اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی یہی سمجھتے ہیں کہ شاید اس قسم کی شادیاں عدالتوں کے اندر ہوتی ہیں، یا عدالتوں کے اندر کوئی خاص شعبہ اس طرح کی شادیوں کی انجام دہی کے لئے قائم ہے،حالانکہ حقیقت اسکے بالکل برعکس ہے،ہوتا کچھ یوں ہے کہ لڑکا اور لڑکی یا تو نکاح کر کے عدالت کا رخ کرتے ہیں یا نکاح کی سہولت بھی انہیں احاطہ عدالت میں کسی وکیل صاحب کے توسط سے معہ نکاح خواں، نکاح رجسٹرار، گواہان نکاح میسر اور مہیا کی جاتی ہے۔ یہ ایک پورا پیکیج ہوتا ہے۔ نکاح کے بعد لڑکی کے والدین یا قانونی کارروائی سے بچنے کے لئے مرحلہ وار کچھ سوچے سمجھے Pre Planned  اقدامات کرنے پڑتے ہیں۔یہ تفصیل بیک وقت دلچسپ بھی ہے، حیران کن، پریشان کن، بلکہ افسوس ناک بھی ہے۔ نکاح کے بعد کسی ممکنہ قانونی کارروائی سے بچنے کے لئے مجسٹریٹ کی عدالت میں لڑکی یعنی دلہن کے والدین کے خلاف استغاثہ دائر کیا جاتا ہے کہ لڑکی کو اسکے والدین  جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں،

اس استغاثہ میں والدین کی طلبی مطلوب نہیں ہوتی صرف ممکنہ پولیس کارروائی سے بچنے کے لئے حفاظتی گراؤنڈ تیار کی جاتی ہے،اس کے بعد پوری قانونی مشاورت کے تابع والدین کو اور پولیس کو قانونی کارروائی سے روکنے کے لئے harassment کی ایک درخواست سیشن کورٹ میں زیر دفعہ 22A. 22B. ضابطہ فوجداری دائر کی جاتی ہے جس میں لڑکی کی عدالت کے اندر فوٹو بھی کھینچوا کر مثل میں لگائی جاتی ہے تاکہ اس کی حاضری ثابت کی جا سکے اور اگر اس دوران FIR اغوا کی درج ہو جائے تو پھر مجسٹریٹ کے روبرو بیان زیر دفعہ 164ضابطہ فوجداری قلم بند کرانے کی سعی کی جاتی ہے تاکہ یہ ثابت ہو سکے کہ لڑکی بالغہ ہے اور اس نے اپنی مرضی سے یہ نکاح کیا ہے۔ اس طرح وہ نو بیاہتا جوڑا جسے کسی پر فضا مقام پر ہنی مون منانا چاہیے تھا وہ عدالت، کچہری اور تھانوں کی راہداریوں اور برآمدوں میں ذلیل و خوار ہوتے ہیں۔کمسن لڑکے لڑکیاں آنکھوں میں عشق و محبت کے سپنے سجائے جب اس اضطراب انگیز حالت سے گزرتے ہیں اور ان کے لواحقین اور دوست احباب سبھی یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ یہ سب کچھ کورٹ میرج کی ہی کڑیاں ہیں۔ میرے خیال میں یہ سب کچھ قانونی موشگافیوں اور ضوابط کو ایک خاص انداز میں استعمال کرتے ہوئے exploit کیا جاتا ہے اور عام آدمی اسے کورٹ میرج کہہ کر سارا ملبہ عدالتوں پر ڈال دیتا ہے۔یہ بات ہمارے روز مرہ مشاہدہ کی ہے کہ ہمار ے معاشرے کی  سخت گیر  روایات، بے لچک  خاندانی نظام، پرانی اقدار کی پاسداری اور عزت و انا پرستی سب مل کر اس قسم کی شادیوں کو شرف قبولیت نہیں بخشتیں،اگر پسند کی شادی کرنے والوں کو مستقبل میں درپیش مسائل کا ہلکا سا ادراک بھی ہو یا نکاح کرانے والے انہیں ان ممکنہ خطرات سے بھی آگاہ کر دیں تو بہت سی معصوم زندگیاں قربان گاہوں کی بھینٹ  چڑھنے سے بچ جائیں۔  ذرا چشم تصور سے دیکھیں کہ ایک بیٹی کی کس ناز و نعم سے پرورش کی جاتی ہے۔ماں کی آنکھ کا تارا اور باپ کے دِل کی دھڑکن۔ پورا خاندان اسکی عزت و عصمت پر پہریدار۔ سکول سے واپسی تک ماں کی  بے چین ممتا دروازے پر نظریں جمائے اس بیٹی کی منتظر ہے۔

باپ بیٹی کے ہر مطالبہ پر اپنی ذاتی ضروریات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بسر وچشم حاضر ہے، مگر پھر ایک وقت آتا ہے کہ صرف پسند کی شادی کی ضد ان تمام رشتوں کو پامال کرتے ہوئے آگے بڑھتی ہے اور پھر دِل و جان سے فدا وہی باپ اور بھائی اپنے ہاتھوں سے اسی بیٹی اور بہن کو بڑی بے دردی سے قتل کر دیتے ہیں۔  اس طرح کی لرزہ خیز  وارداتوں کے لئے احاطہ عدالت کے تقدس کو بھی اکثر پامال کیا جاتا ہے، اس طرح ہم  آئے دن ہم عدالتوں کے اندر اور باہر ظلم و جبر اور بربریت کی نئی نئی داستانیں رقم ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ وہ کمسن لڑکی لڑکا محبت کی شادی کی وہ قیمت ادا کرتے ہیں کہ روح و جسم کانپ جاتے ہیں۔ انس و محبت میں شروع ہوئی داستان آنکھوں میں آس و امید کے سپنے سجائے مقتل گاہ میں قربان کر دی جاتی ہے۔ نہ کسی کو پشیمانی ہوتی ہے نہ ندامت۔ نہ خوف خدا، نہ قانون کا ڈر۔ اگر قتل ہونے والی صرف لڑکی ہو تو قصاص و دیت کے  قانون کو بھی اپنی اغراض کے لئے  استعمال کرنے سے احتراز نہیں کیا جاتا اور وہی مدعی، وہی گواہ، وہی ملزم اور وہی معاف کرنے والے۔ عدالت یہ سب کچھ بے بسی سے دیکھ رہی ہوتی ہے۔ بڑے کم دلیر ججز ہوتے ہیں جو اسے فساد فی الارض کے زمرہ میں زیر دفعہ 311 تعزیرات پاکستان میں لا کر سزا دینے کی جرأت کرتے ہیں ورنہ مجھ جیسے بہت   سے Run of The Millکی طرح ملزم کو باعزت بری کرنے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں۔اکثر و بیشتر ملزمان قانونی موشگافیوں،گواہان کے منحرف ہونے اور دیگر تکنیکی وجوہات کی بنا پر بری ہو جاتے ہیں۔یہ ایک گھمبیر معاشرتی اور قانونی مسئلہ ہے۔ مختلف حکومتوں نے بڑی قانونی سازی کی ہے،مگر انسانی خون کی ارزانی اسی طرح ہے۔خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد۔ اہل فکر و دانش، پولیس، عدلیہ، حکومت معاشرہ کے سبھی باشعور طبقے  مل کر اگر اس پر توجہ دیں تو شاید امن و راستی کا کوئی راستہ نکل سکے۔ پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ۔

مزید :

رائے -کالم -