آئی ایم ایف، ایک تلخ حقیقت 

   آئی ایم ایف، ایک تلخ حقیقت 
   آئی ایم ایف، ایک تلخ حقیقت 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 ایک ملک کی سرحدوں سے باہر جا کردوسرے ملک کے اختیار پر دخل اندازی کرنے کے عمل کو ”سامراجیت“ کہا جاتا ہے۔ یہ دخل اندازی جغرافیائی، سیاسی یا اقتصادی طور پر ہو سکتی ہے، کسی ملک یا خطے کو اپنے سیاسی یا مالیاتی اختیار میں لا کر وہاں کے باشندوں کو مختلف حقوق سے محروم کرنا اس نظام کی سب سے ظاہری صورت ہے۔
نو آبادیات کے ذریعہ اپنے سامراج کو وسعت دینے والا یہ نظام، نا مناسب اقتصادی، تہذیبی اور جغرافیائی مسائل پیدا کرتا ہے۔ قدیم چینی سامراج اور سکندر کے ”یونانی سامراج“ سے جدید امریکی سامراجیت تک اس کی بے شمار مثالیں ہیں۔ انیسویں صدی کے نصف اوّل سے بیسویں صدی کے نصف اوّل تک کا دور ”زمانہ ء سامراجیت“ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ”سامراج“ کی اصطلاح دوسری جنگ عظیم کے بعد ”نو آبادیات“ کے نام سے جانی گئی۔برطانیہ فرانس، اطالیہ، جاپان اور امریکہ وغیرہ جیسے ممالک نے اس زمانے میں عالمی پیمانے پر نو آبادیات قائم کیں۔ نو آبادیات ایک ایسا سفاک اور استبدادی رویہ ہوتا ہے جس میں ایک طاقت ور ملک چھوٹے اور کمزور علاقوں پر اپنا تسلط قائم کرتا ہے اور ان کا سیاسی، معاشرتی اور ثقافتی استحصال کرتے ہوئے فوجی قوت اور سازشوں سے مقامی اداروں اورثقافت کو تباہ و برباد کیا جاتا ہے۔
آج اکیسویں صدی کے اس دور میں انفارمیشن کا انقلاب برپا ہے اور ابلاغیات کے جدید اور تیز ترین ذرائع دستیاب ہیں، تاہم آج بھی عالمی میڈیا اس بات کو چھپانے کی کوشش کرتا ہے کہ سامراجی طاقتوں نے خود اپنی محکموم کالونیوں کو کیوں آزاد کیا تھا؟؟اس سوال کے جواب میں حقائق کی بجائے گمراہ کن اور متضاد معلومات عوام تک پہنچائی جاتی ہے کہ برطانوی سلطنت تاریخ کی سب سے بڑی سلطنت تھی، دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر برطانیہ کو اپنی نو آبادیوں سے نکلنا پڑا۔ گمراہ کن طور پر اس کی بڑی حد تک وجہ یہ بتائی جاتی رہی کہ صنعتی ترقی کی وجہ سے معاشی خوشحالی میں ہونے والا اضافہ، ذرائع نقل و حمل میں بہت زیادہ ترقی اور مواصلاتی رابطوں کے نئے طریقے ایجاد ہونے کے بعد  سلطنت کا کنٹرول کمزور ہوتا چلا گیا۔ 


تاہم حقائق اس سے بالکل مختلف ہیں، دراصل ان کالونیوں کو آزادی دینے کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ ”گورا“ دھاتی کرنسی کا نظام ختم کر کے کاغذی کرنسی رائج کرنے میں کامیاب ہو چکا تھا جو مکمل طور پر گوروں کے کنٹرول میں تھی اور آج تک ہے۔ ہر کالونی میں اس کا سنٹرل بینک بن چکا تھا جو گوروں کے کنٹرول میں تھا۔ 1944 ء میں بریٹن اوڈز کا معاہدہ منظور کر کے تیسری دنیا کے سارے ممالک اپنی محکومی قبول کر چکے تھے۔اب صرف ”ایکسپورٹ آف کیپیٹل“ یعنی نوٹ چھاپ کر، قرضے دے کر یا سرمایہ کاری کر کے وہ سارے مالی اور سیاسی فوائد سامراجیوں کو حاصل ہو چکے تھے جو پہلے طاقت سے چھینے جاتے تھے۔ اب طاقت ور ملکوں کوپاکستان جیسے تیسری دنیا کے ممالک کا استحصال کرنے کے لئے اس بات کی ضرورت نہیں تھی کہ وہ کالونیوں میں قیام کا رسک لیں اس لئے بریٹن اوڈز معاہدے کے بعد صرف چند سالوں میں دنیا بھر کی کالونیوں کو بظاہر آزاد کر دیا گیا لیکن تاریخ نے یہ ثابت کر دیا کہ اس نام نہاد آزادی کے بعد بھی دولت سابقہ کالونیوں سے سامراجی ممالک تک منتقل ہوتی رہی اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ روایتی نو آبادیاتی نظام کو 1940 ء سے 1960 ء کی دہائیوں میں توڑ دیا گیا، اس کے بعد مالیاتی طاقتوں نے ہم جیسے ملکوں پر سیاسی کنٹرول کی بجائے مالیاتی کنٹرول کا اختیار حاصل کیا۔


پاکستان کے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف)کے ساتھ ہونیوالے معاہدے کو اگرمندرجہ بالا حقائق کی روشنی میں دیکھیں تو آپ کو پوری ”گیم“ سمجھ آ جائے گی۔کس طرح طاقت ور ملکوں نے تیسری دنیا کے ممالک کا مالیاتی کنٹرول اپنے ہاتھ میں رکھا ہوا ہے، نوآبادیاتی نظام کے خاتمے کے بعد زیر تسلط علاقوں کو بظاہر آزاد کر دیا گیا تاہم ان ملکوں کا سارا مالیاتی نظام آج بھی ”گورے“ کے ہاتھ میں ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب سے ہم نے ہوش سنبھالا ہے تب سے ہی یہی سنتے آ رہے ہیں کہ پاکستان جلد آئی ایم ایف کے چُنگل سے خود کو آزاد کروا لے گا، تاہم پاکستان کے دیگر سدا بہار مسائل کی طرح یہ مسئلہ کبھی حل نہ ہو سکا۔در حقیقت آئی ایم ایف کے چنگل سے آزادی ہی اس ملک کی حقیقی آزادی ہے تاہم اس نظام کا شکنجہ اس قدر مضبوط ہے کہ اب اس کے بغیر گزار نہیں ہے۔ یہ عالمی مالیاتی ادارہ پاکستان کے معرض وجود میں آنے سے بھی دو سال قبل، یعنی 1945 ء تک فعال ہو چکا تھا اور آج دنیا کے 189 ممالک اس کا حصہ ہیں۔ادارے کا مقصد تو دنیا سے غربت کا خاتمہ تھا تاہم پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں آئی ایم ایف کے کہنے پر اربوں روپے کے نئے ٹیکسز، پٹرولیم مصنوعات پر لیوی اور بجلی و گیس کی قیمتوں میں اضافے کے نتیجے میں حالیہ مہینوں میں مہنگائی کا ایک طوفان برپا ہوا ہے، آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کیلئے سخت اور غیر مقبول فیصلے کئے گئے جس کے بعد معاہدہ منظور ہو چکا ہے اور قرضوں کی تازہ قسط کی ادائیگی کے بعد بیمار معیشت میں خون کی روانی بہتر ہوگی۔ وقتی طور پر ڈیفالٹ کا خطرہ بھی ٹل گیا ہے اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر بھی مستحکم ہوئی ہے، تاہم یہ مستقل حل نہیں ہے اسی لئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بھی کہہ دیا ہے کہ پاکستان نے آئی ایم ایف پروگرام مجبوری کے تحت قبول کیا ہے۔تاہم اس کے لئے عالمی مالیاتی ادارے نے پاکستان کی ناک سے لکیریں نکلوائی ہیں،لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ آہستہ آہستہ مشکل فیصلے کر کے ملک کو خود انحصاری کی طرف لے جایا جائے کیونکہ پاکستان ہر قسم کے قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، آپ انداز لگائیں کہ ڈیم نہ بننے کی وجہ سے پاکستان ہر سال سیلابی سیزن میں 30 سے 40 ملین ایکڑ میٹھا پانی سمندر میں پھینک کر ضائع کرتا ہے، آبی ماہرین کے مطابق ایک ملین ایکڑ فٹ پانی کی مالیت کا محتاط اندازہ ایک بلین ڈالر بنتا ہے اگر صرف ڈیم بنا کر اس پانی کو ہی ذخیرہ کر کے بروئے کار لایا جائے تو پاکستان کو شاید آئی ایم ایف کی ضرورت ہی نہ پڑے۔

مزید :

رائے -کالم -