دہری شہریت اور دیارغیر میں مقیم پاکستانی

دہری شہریت اور دیارغیر میں مقیم پاکستانی
 دہری شہریت اور دیارغیر میں مقیم پاکستانی

  



دہری شہریت کا معاملہ دیار غیر میں رہنے والے پاکستانیوں کے لئے بھی بے حد اہم ہے۔ دوسرے ملکوں میں رہنے والے پاکستانیوں کو پاکستان میں آنے جانے، جائیداد خریدنے وغیرہ کی اجازت پاکستانی اورجن (Pakistani Origne) کی حیثیت سے حاصل ہے۔ یہ ایک طرح سے دہری شہریت کی سہولت ہے، لیکن اس سے آگے بڑھ کر جب عوامی نمائندگی یا کسی حساس عہدے کا سوال ہے تو اس سلسلے میں پاکستان کا آئین بہت واضح ہے اور اس کی اجازت نہیں ہے۔ نہ جانے ہمارے وزیراعظم نے اپنے گھر میں کون سا آئین رکھا ہوا ہے، جس میں انہیں ایسی کوئی بات نظر نہیں آئی.... خیر انہیں تو توہین عدالت کا قانون بھی دکھائی نہیں دیتا۔

امریکہ میں مستقل رہائش کے لئے ”گرین کارڈ“ میں بے حد کشش ہے، لیکن اس کا رنگ ہرگز گرین نہیں ہے۔ اسے امیگریشن کی اصطلاح میں فارم آئی551 (I551) کہا جاتا ہے، جس کے تحت کوئی غیر ملکی امریکہ میں لامحدود مدت تک قیام کر سکتا ہے اور اسے امریکہ سے جانے یا دوبارہ داخلے کے لئے کسی دوسرے اجازت نامے یا ویزے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ سوائے چند ایک صورتوں کے ”گرین کارڈ“ فوری نہیں ملتا، بلکہ مرحلہ وار اس کا استحقاق بنتا ہے اور آخری مرحلے میں جا کر گرین کارڈ ملتا ہے، اس میں متعدد پیچیدگیاں بھی آتی ہیں، امیگریشن حکام کی تفتیش و تحقیق بھی ہوتی ہے اور اس میں اڑچنیں بھی پیدا ہوتی ہےں، لیکن گرین کارڈ ملنے کے بعد امریکی حکام کی کوشش ہوتی ہے کہ ہر ”گرین کارڈ ہولڈر“ سٹیزن شپ حاصل کرے۔

گرین کارڈ کا حامل ووٹ نہیں ڈال سکتا۔ کبھی کبھی کچھ سیاست دان یہ آواز اٹھاتے رہے ہیں کہ گرین کارڈ رکھنے والوں کو بھی ووٹ کا حق ملنا چاہئے، لیکن ایسا نہیں ہوا اور شاید کبھی ہوگا بھی نہیں، کیونکہ کسی بھی ملک میں ووٹ ڈالنے کے لئے اس ملک کا شہری ہونا ضروری ہے، جبکہ ”گرین کارڈ“ صرف امریکہ میں مستقل رہائش کی دستاویز ہے۔ ”گرین کارڈ“ کے حصول کے تین سال یا پانچ سال بعد شہریت حاصل کی جا سکتی ہے۔ شہریت ملنے کے بعد آپ امریکی شہری بن جاتے ہیں، اس کے بعد آپ ووٹ بھی ڈال سکتے ہیں اور کسی عوامی عہدے کے لئے انتخابات میں بھی حصہ لینے کے اہل ہو جاتے ہیں، لیکن صدارت کے لئے صرف شہری ہونا کافی نہیں ہے، بلکہ اس کے لئے لازمی ہے کہ پیدائشی شہری ہو۔

گرین کارڈ کے حامل شخص سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ زیادہ عرصہ امریکہ میں رہائش رکھے۔ اگر کوئی شخص مستقل اور مسلسل رہائش رکھنے میں ناکام رہتا ہے تو اس کا ”گرین کارڈ“ ختم کر دیا جاتا ہے۔ ایک زمانے میں یہ عرصہ ایک سال تھا۔ سال میں اگر کوئی شخص چند دن امریکہ میں رہ لیتا تھا تو اس کا گرین کارڈ کارآمد رہتا تھا، لیکن اب یہ مدت چھ ماہ کر دی گئی ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہ کوئی شخص ایسا نہیں کر سکتا کہ ایک بار سال کے وسط میں امریکہ کا چکر لگائے، پھر سال کے آخر تک ایک چکر لگا کر ”گرین کارڈ“ کو محفوظ کر لے، حتیٰ کہ اگر وہ ہر تین یا چار ماہ بعد بھی چکر لگائے تو اسے امریکہ کا ”مستقل رہائشی“ نہیں سمجھا جائے گا اور اس کا ”گرین کارڈ“ کینسل ہو سکتا ہے۔ ایئر پورٹ پر بیٹھا ہوا کوئی امیگریشن افسر یہ فیصلہ کرنے کا مجاز ہے کہ کوئی شخص، جو گرین کارڈ کا حامل ہے، وہ فی الواقعی امریکہ میں مستقل رہائش پذیر ہے یا نہیں؟ اگر وہ محسوس کرتا ہے کہ شخص مذکور صرف امریکہ آتا جاتا رہتا ہے تو وہ اس کی تحقیق انکوائری وغیرہ کر سکتا ہے اور اس کو واپس بھجوا (ڈی پورٹ کر )سکتا ہے۔

اگر کسی جرم میں 365دنوں سے ایک دن بھی زائد سزا ہو جائے تو سزا کے بعد ڈی پورٹیشن اور گرین کارڈ کا خاتمہ بھی اس کا لازمی نتیجہ ہے۔ جج کو اپنے فیصلے میں یہ لکھنے کی ضرورت نہیں ہے، جیسے توہین عدالت میں سزا یاب کی نااہلی کا تذکرہ عدالتی فیصلے میں مذکور ہونا ضروری نہیں ہے۔ بعض اوقات امیگریشن اسے جیل سے سزا پوری ہونے کے بعد اپنی تحویل میں لے کر ڈی پورٹ کرتی ہے اور بعض اوقات ایسا تردد نہیں کرتی۔ ایسا شخص جب کبھی ملک سے باہر جا کر واپس آتا ہے تو ایئر پورٹ پر دھر لیا جاتا ہے، اس کا گرین کارڈ رکھ لیا جاتا ہے اور اسے ڈی پورٹ کر دیا جاتا ہے یا پھر جب اس کے گرین کارڈ کی مدت ختم ہوتی ہے تو اس میں توسیع نہیں کی جاتی۔

بہت سے پاکستانی اسی وجہ سے گرین کارڈ پر اکتفا کرتے تھے اور شہریت حاصل نہیں کرتے تھے، کیونکہ اس طرح انہیں پاکستانی شہریت سے ہاتھ دھونا پڑتے تھے، لیکن رفتہ رفتہ قوانین سخت ہوتے گئے اور ایسا محسوس ہونے لگا کہ ”گرین کارڈ“ محض رہائش کی ایک دستاویز ہے۔ یہ کوئی لامحدود ضمانت مہیا نہیں کر سکتا اور اسے کسی بھی وقت کسی بھی وجہ سے منسوخ کیا جا سکتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ یہاں رہنے والے پاکستانیوں نے یہ مسئلہ ضیاءالحق کے آگے رکھا تھا اور کہا تھا کہ انہیں دہری شہریت دی جائے، جس پر ضیاءالحق نے کہا کہ ایسا نہیں ہو سکتا ،لیکن ہم کسی کی شہریت منسوخ کرنے کا بھی اعلان نہیں کریں گے اور ایسے پاکستانیوں کو پاکستان میں بعض شہری سہولتیں بدستور فراہم رہیں گی۔ یہی چیز آگے چل کر ”پاکستانی اوریجن کارڈ“ کی صورت میں متشکل ہوئی۔

امریکہ سمیت دنیا کے ہر ملک کا دستور ہے کہ جب آپ اس کی شہریت حاصل کرتے ہیں تو اپنی سابق شہریت سے دست برداری کا اعلان کرتے ہیں۔ ایک صاحب نے پاکستانی اخبارات میں کیلے فورنیا کے سابق گورنر اور اداکار آرنلڈ شیوارزینگر کی دہری شہریت کا حوالہ دیا تھا، جو درست نہیں ہے۔ آرنلڈ شیوارزینگر آسٹریا میں پیدا ہوا تھا اور دو سال کی عمر میں امریکہ آ گیا تھا۔ بعد میں اس نے امریکی شہریت حاصل کرلی، جس سے اس کی آسٹریا کی شہریت خود بخود ختم ہو گئی، اس نے واپس آسٹریا جا کر کوئی الیکشن نہیں لڑا۔ نہ کبھی جا کر آسٹریا کے انتخابات میں ووٹ ڈالا۔

کسی امریکی شہری کو اگر کسی ملک کی شہریت قدرتی طریقے سے مل جاتی ہے تو امریکہ اس سے تعرض نہیں کرتا۔ جیسے بیرون ملک شادی یا کسی بچے کی پیدائش وغیرہ، لیکن اگر وہ باقاعدہ درخواست دے کر دوسرے ملک کی شہریت حاصل کرتا ہے تو اس کی امریکی شہریت ختم ہو جاتی ہے۔ پیدائش یا شادی وغیرہ کی صورت میں عوامی نمائندگی کے لئے اسے اپنی شہریت ترک کرنا پڑتی ہے۔ صدر اوباما کی امریکی شہریت مشکوک نہیں ہے، ان کی پیدائشی امریکی شہریت مشکوک ہے، جسے ان کے مخالفین ان کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔

بھارتی آئین دہری شہریت کی اجازت نہیں دیتا۔ بھارتی آئین میں سٹیزن شپ ایکٹ میں پانچ بار ترمیم ہوئی، آخری ترمیم 2005ءمیں ہوئی، جس کے بعد اب بھارت میں پیدا ہونے والے کو بھارتی شہریت نہیں مل سکتی تاوقتیکہ ماں یا باپ میں سے کوئی ایک بھارتی شہری ہو۔ اب امریکی شہریت کے لئے بھی یہ شرط ضروری ہو گئی ہے۔ جب یہ شرط نہیں تھی، پاکستان سے ایک بینک افسر ہر سال اپنی حاملہ بیوی کو امریکہ لے آتے اور بچہ یہاں پیدا ہو کر امریکی شہری بن جاتا تھا۔ اس سلسلے میں دو اصول استعمال ہوتے ہیں۔ Jus Sanguinis یعنی خونی اصول۔ ماں یا باپ میں سے کم از کم ایک اس ملک کا شہری ہو۔کچھ ممالک Jus Soli کے اصول کو اپناتے ہیں،یعنی ان کی سرزمین پر پیدا ہونے والا ہر شخص، خواہ اس کے ماں باپ کی حیثیت کوئی بھی ہو، اس ملک کا خود بخود شہری ہو جاتا ہے، کئی ممالک میں دونوں طریقے بیک وقت بھی نافذ ہیں۔ اسرائیل کو امریکی شہریت رکھنے پر کوئی اعتراض نہیں، لیکن پارلیمنٹ کی رکنیت کے لئے امیدوار کو امریکی شہریت سے دستبردار ہونا پڑتا ہے۔ امریکہ میں شہریت سے دست برادری کے لئے باقاعدہ درخواست دینا ہوتی ہے اور اس امر کا ایک وفاقی رجسٹر میں اندراج ہوتا ہے، جسے ”ویب سائٹ“ پر دیکھا جا سکتا ہے۔

2006ءمیں لندن کے میئر بورس جانسن نے امریکی شہریت ترک کی۔ وہ پیدائشی امریکی تھے۔ میکسیکو میں شہریت حاصل کرنے کے لئے پہلے تمام سابقہ شہریتیں ترک کرنا پڑتی ہیں۔ والڈاس ایڈامکس نے 1998ءمیں لتھوانیا کا صدر بننے کے لئے امریکی شہریت ترک کی۔ 1968ءکے سمر اولمپکس میں گولڈ میڈل حاصل کرنے والی جی چنگ تائیوان گئی تو اسے صدر نے حکومت میں مشیر کا عہدہ پیش کیا، جس کے لئے اسے امریکی شہریت ترک کرنا پڑی۔ اداکار جیٹ لی نے 2009ءمیں سنگاپور کی شہریت حاصل کرنے کے لئے امریکی شہریت ترک کر دی۔ شاہائین اوبنسن نے جمیکا کی اسمبلی کی ممبر ہوتے ہوئے 2006ءمیں امریکی شہریت حاصل کرلی۔ عدالت کے حکم پر ان کی پارلیمنٹ کی رکنیت ختم کر دی گئی۔ انہوں نے امریکی شہریت ترک کر دی اور دوبارہ انتخابات میں حصہ لے کر پارلیمنٹ میں پہنچ گئی۔ اردن کی ملکہ نور نے شادی کے وقت اردن کی شہریت حاصل کی اور امریکی شہریت چھوڑ دی۔ سابق اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کا معاملہ خاصا پُراسرار ہے۔ وہ امریکی شہری تھے، لیکن ان کا ریکارڈ دسترس سے باہر ہے، اس لئے معلوم نہیں ہو سکتا کہ انہوں نے امریکی شہریت چھوڑی تھی یا نہیں۔ دہری شہریت بعض افراد کے لئے دہرے فوائد کی حامل ہو سکتی ہے، لیکن قومی نقطہءنظر سے کوئی بھی ملک اس کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا۔ اب یہ لوگوں پر منحصر ہے کہ وہ کس کشتی میں سوار ہونا پسند کرتے ہیں، دو کشتیوں کی سواری کا کوئی اعتبار نہیں اور آئین پاکستان یہی قرار دیتا ہے۔

( اشرف قریشی لاہور کے متعدد اخبارات سے وابستہ رہے ہیں۔ ہفت روزہ ”تکبیر کراچی“ کے نمائندے بھی رہے۔ اس وقت نیویارک میں مقیم ہیں اور ہفت روزہ ”ایشیا ٹربیون“ کے ایگزیکٹو ایڈیٹر ہیں۔)   ٭

مزید : کالم