ہم اور سکینڈل

ہم اور سکینڈل
ہم اور سکینڈل

  



پاکستانی معاشرہ شاید سکینڈل زدگی کا دائمی مریض بن چکا ہے۔ جب تک روزانہ ایک نئے سکینڈل کی”بوتل“ (Drip)اسے نہیں لگتی، یہ مضطرب اور نیم بسمل سا رہتا ہے۔ جسمانی دردوں میں اضافہ ہو جاتا ہے، کوئی چیز اچھی نہیں لگتی، کام کاج میں جی نہیں لگتا اور بے نام سی غنودگی حواس خمسہ پر طاری رہتی ہے اور پھر جب کسی شام ”ٹاک شو“ کی بوتل اسے چڑھا دی جاتی ہے تو گویا اسے ایک ”نئی زندگی“ مل جاتی ہے۔ نیا خون رگوں میں دوڑتا محسوس ہوتا ہے اور تمام اعضائے رئیسہ و غیر رئیسہ فنکشنل ہو جاتے ہیں۔ سکینڈلوں کی بوتلیں اگر بازار میں دستیاب نہ ہوں تو ہم خود جو بوتل سازی کے فن میں خود کفیل ہیں.... اقبالؒ نے شاید اسی کیفیت کو با اندازِ دگر یوں بیان کیا تھا:

می تراشد فکرِ ما ہر دم خدا وندے دگر

رُست ازیک بند تا افتاد در بندِ دگر

(ہماری سوچ ہر آن ایک نیا خدا تراشتی رہتی ہے۔ گویا ایک قید سے آزاد ہوتی ہے تو دوسری قید میں جا پڑتی ہے)

معاشرے کا ہر فرد رات کوآرام اور چین کی نیند سونا چاہتا ہے، دن بھر کا تھکا ہارا غریب پاکستانی جب گھر واپس لوٹتا ہے تو بجائے بعد از طعام چہل قدمی کرنے اور افراد خانہ سے دن بھر کے مسئلے مسائل پر تبادلہءخیال کرنے کے، ٹی وی کا ریموٹ کنٹرول ہاتھ میں لیتا ہے اور پھر رات کے بارہ بجے تک اپنا منہ بند رکھتا اور آنکھیں اور کان کھول کر پیچ و تاب کھاتا رہتا اور فشارِ خون کو اوپر نیچے کرتا رہتا ہے۔ یہ معمول اسے مسلسل، گرفتارِ عذاب رکھتا ہے اور پھر اسے گویا اس عذاب کی لَت پڑ جاتی ہے اور جب تک کسی سکینڈل کا کوئی عذاب اس کے جسم و جاں میں بصورتِ ”بوتل“ داخل نہیں ہوتا، تب تک اسے چین نہیں آتا۔

آپ ایک عرصے سے دیکھ رہے ہیں کہ ہمارا آزاد میڈیا بڑے تواتر اور جانفشانی“ سے قوم کو ”آگہی“ دئیے جا رہا ہے۔ ہر ٹاک شو کے کارکنانِ قضا و قدر ہر شب ایک نیا موضوع لے کے آتے ہیں اور اگر معاشرہ اسے شرفِ قبولیت سے سرفراز کرتا اور کھلے بازوو¿ں کے ساتھ اسے خوش آمدید کہتا ہے (اور ہو نہیں سکتا کہ وہ ایسا نہ کہے) تو یہ موضوع پورا ہفتہ بلکہ پورا پندرھواڑہ چلتا رہتا ہے۔ مجھے کسی سکینڈل کا نام لینے کی ضرورت نہیں۔ بہار کی ہوا خود اپنا تعارف ہوتی ہے اور لوگ پہچان لیتے ہیں کہ نام کیا اور ”کام“ کیا ہے۔ جدید وسیلہءمواصلات جس کا نام الیکٹرانک میڈیا ہے، پل بھر میں ہونٹوں سے نکلی بات کو کوٹھوں پر چڑھا دیتا ہے۔ پہلے جو باتیں چہ میگوئیوں کی صورت میں بھی نہیں کہی جا سکتی تھیں، آج ببانگ دہل اور نقارے کی چوٹ پر کہی جا رہی ہیں۔ بعض ادارے پہلے مقدس گائے کا لقب پاتے تھے۔ بعض ایسے بھی تھے جن کی گائیں، آسٹریلین نسل کی ہوتی تھیں اور اس لئے ”مقدس تر“ سمجھی جاتی تھیں.... لیکن آج ان تمام متبرک جانوروں کو کھلے عام قربان گاہ (Butchery) پر لا کر ذبح کیا جا رہا ہے اور ساری قوم ”ہنٹر بیف“ سے لذتِ کام و دہن حاصل کر رہی ہے۔ یہ کلچر اب اتنی تیزی سے فروغ پا رہا ہے اور سکینڈلوں کا آزار اتنا بڑھ گیا ہے کہ مریض کو دن میں دو دو، تین تین بوتلوں کی ضرورت پڑنے لگی ہے، مثلاً آپ یہی بات ملاحظہ کریں کہ( صرف ایک دن 12 جون 2012ءکو بروزمنگل) ایک نہیں دو ایسے سکینڈل واشگاف ہوئے کہ مریض کی ”چاندی“ ہوگئی۔ 13 کا ہندسہ ویسے تو منحوس سمجھا جاتا ہے، لیکن آج جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں تو 13 جون ہے اور آج کے اخبار دیکھ کر اندازہ ہو رہا ہے کہ آج گویا ”قرآن السعدین“ ہے۔ وہی جس کا ذکر اقبالؒ نے اپنی اس مختصر سی نظم میں کیا ہے:

آئے جو قِران میں دو ستارے

کہنے لگا ایک دوسرے سے

یہ وصل مدام ہو تو کیا خوب

انجامِ خرام ہو تو کیا خوب

لیکن یہ وصال کی تمنا

پیغامِ فراق تھی سراپا

پہلا ستارہ حسین حقانی صاحب کے فلکِ ہفتم سے نیچے گرا ہے اور دھم سے ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا ہے۔ میمو کمیشن نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کر دیا ہے کہ ہمارے محترم سفیر با تدبیر در امریکہ نے پاکستان سے غداری کی تھی اور امریکہ کے ساتھ شرطِ وفا نبھائی تھی۔ سپریم کورٹ نے ان انکشافات یا اظہارات پر کہہ دیا ہے کہ پاکستانی سفیر کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ دوسرے ملکوں کے سامنے پاک فوج، آئین، ایٹمی اثاثوں اور آئی ایس آئی کی تضحیک کرے یا ان اداروں کی اہمیت کم کرنے کی کوشش کرے۔

دوسرا ستارہ ملک ریاض کا دھماکہ تھا.... انہوں نے فاضل چیف جسٹس آف پاکستان سے براہ راست تین سوالات پوچھے ہیں۔ ان سوالات اور اس موضوع کے ابتدائیہ پر گزشتہ ہفتہ عشرہ سے ٹاک شوز کا ایک سیریل چل رہا تھا۔ خیال ہے کہ مسئلے کی نزاکت اور اہمیت کی وجہ سے یہ سیریل اب شاید سلور جوبلی منائے! ایک لمبے عرصے سے پاک فوج کے کردار کو تقریباً ہر روز ٹاک شوز میں کسی نہ کسی حیلے بہانے یا حوالے سے موضوع سخن بنایا جاتا ہے۔ گزشتہ ساڑھے چار پانچ برسوں میں افوجِ پاکستان نے اتنے مواصلاتی تھپیڑے کھائے ہیں کہ اگر کوئی اور ادارہ ہوتا تو شاید ڈگمگانے لگتا، لیکن آفرین ہے، پاکستان کی مسلح افواج کے اربابِ کار پر کہ انہوں نے بڑے تحمل اور بڑی بردباری سے ان تھپڑوں اور تھپیڑوں کو برداشت کیا ہے اور یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ بات بات پر اشتعال میں نہیں آتے اور نہ ہی لگائے گئے کسی تھپڑ کا جواب تھپڑ سے دیتے ہیں۔

یادش بخیر، جنرل پرویز مشرف کے زمانے میں ڈی جی آئی ایس آئی ہر روز ٹیلی ویژن پر آکر فوج پر لگائے گئے مختلف الزامات کا جواب دیا کرتے تھے۔ مختلف غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کیا کرتے تھے، مختلف مفروضات کا بطلان کیا کرتے تھے اور مختلف افسانوں کی حقیقت کھول دیا کرتے تھے، لیکن جب سے جنرل اشفاق پرویز کیانی نے زمامِ اقتدار سنبھالی ہے تو شاید انہوں نے آئی ایس پی آر کو ہدایت کر دی ہے کہ جب تک اشد ضرورت نہ ہو تب تک چُپ رہا جائے اور فوج پر لگائے گئے، ہر ”انٹ شنٹ“ الزام کا دفاع نہ کیا جائے۔ وقت آنے پر سب کچھ خود ہی ظاہر و باہر ہو جائے گا.... میرا خیال ہے وہ ”وقت“ اب زیادہ دور نہیں رہ گیا!

آئی جی ایف سی بلوچستان، جنرل عبید اللہ خٹک نے گزشتوں دنوں جو پریس کانفرنس کی تھی، اس پر راقم السطور نے انہی صفحات میں عرض کیا تھا کہ اگر ایک طرف ملک کی بقاءاور دوسری طرف لاپتہ افراد کی بازیابی کا مسئلہ ہو تو یہ فیصلہ بڑے دل گردے کا کام ہے کہ کس مسئلے کو اولیت حاصل ہونی چاہئے۔ کیا اس مسئلے پر بھی کوئی تحقیقاتی کمیشن بٹھانے کی ضرورت ہے؟.... بھارت، دنیا کی سب سے بڑی جمہوریہ ہے۔ وہاں آئے روز مسلح افواج کے جرنیل کیمروں کے سامنے کوئی نہ کوئی بیان دیتے رہتے ہیں۔ دراصل ملک کی سیکیورٹی کا مسئلہ ہو تو جو لوگ سیکیورٹی کے براہ راست ذمہ دار ہوتے ہیں، ان کی باتیں بہ نسبت ان لوگوں کے زیادہ وزنی اور قابلِ اعتماد ہوتی ہیں، جن کی ذمہ داری بالواسطہ ہوتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں کسی سروس چیف کا استدلال، کسی سویلین وزیر دفاع یا سویلین سیکرٹری دفاع سے زیادہ اہم ہوتا ہے.... ذرا سیاچن کے مسئلے ہی پر غور کریں....!

اسی مسئلے پر تازہ مذاکرات ابھی ایک دو روز پہلے دونوں ممالک کے دفاع کے سیکرٹریوں کے درمیان ہوئے تھے جو ناکام ہوگئے۔ یہ ناکامی سیاسی بنیادوں کی وجہ سے نہیں، بلکہ فوجی بنیادوں کی وجہ سے ہوئی۔ بھارت کے سیاستدان (من موہن سنگھ صاحب سمیت) شاید دل سے چاہتے ہوں گے کہ دنیا کے اس سب سے اونچے محاذ جنگ سے انڈین آرمی کو واپس بلالیاجائے، لیکن بھارتی جرنیل یہ نہیں چاہتے.... ان کا اصرار ہے کہ پاکستان ایک اور ایسے معاہدے پر دستخط کرے جیسا کہ شملے میں (1972ءمیں) کیا تھا.... 1972ءکے اس معاہدے میں پاکستان نے کارگل دراس سیکٹر میں اپنے وہ علاقے (Heights) بھارت کو دے دئیے تھے جو 1971ءکی جنگ کے آغاز پر پاکستان کے قبضے میں تھے اور جنگ بندی لائن کو لائن آف کنٹرول تسلیم کر لیا تھا۔ پاکستان کے اس ”بزدلانہ“ فیصلے نے ہی 1984ءمیں انڈین آرمی کو سیاچن پر قبضہ کرنے کا موقع دیا۔ اب وہ سمجھتا ہے کہ سیاچن اس کا ہے اور سارے کا سارا اس کا ہے.... انڈین جرنیل کہتے ہیں کہ پاکستان یہ تحریری یقین دہانی کروائے کہ انڈین آرمی آج جن پوزیشنوں پر بیٹھی ہے، وہ انڈیا کی ہیں۔ اس لئے سیاچن کے نئے نقشے بنائے جائیں جن پر انڈین آرمی کی موجودہ صف بندی دکھائی جائے اور پاکستانیGHQ اس پر دستخط کرے۔

انڈین آرمی کی ناردرن کمانڈ کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل کے ٹی پر نائیک (K.T.PARNAIK) کا یہ حالیہ بیان ہمارے لئے چشم کشا ہونا چاہئے.... جنرل صاحب فرماتے ہیں: ”چین اور پاکستان کی ملی بھگت ہمارے لئے وجہءپریشانی ہے اور ہم سے از بس احتیاط کا تقاضا کرتی ہے۔ بھارت کے سویلین دفاعی تجزیہ نگاروں کو پاکستان کے سفارتی دام میں نہیں آنا چاہئے۔ چین تو پہلے ہی گلگت ، بلتستان اور آزاد کشمیر میں موجود ہے“۔ (دیکھئے اخبار ٹربیون میں ارون جوشی کا مضمون مورخہ 10 جون2012ءجس کا عنوان ہے ”سیاچن کو غیر فوجی علاقہ قرار دینا“....)

مقبوضہ کشمیر میں انڈین آرمی نے معصوم اور مظلوم کشمیری مسلمانوں پر جو ظلم ڈھائے ہیں، اس کا ثبوت سرینگر کا وہ قبرستان ہے، جس میں 90,000 کشمیری مسلمانوں کی لاشیں دفن ہیں۔ آئے روز ہم انٹرنیشنل میڈیا پر روتی دھوتی اور سسکتی، بلکتی مسلمان کشمیری ماو¿ں کی فریادیں سنتے اور دیکھتے ہیں جن کے بیٹے بھائی اور شوہر انڈین آرمی نے اغواءکئے اور ان کا آج تک پتہ نہ چل سکا کہ کہاں گئے.... کیا کسی انڈین کورٹ نے بھی ان لاپتہ اور لاوارث ”جوانوں“ کی بازیابی کو اسی شد و مد سے اٹھایا ہے جس طرح ہماری عدالتیں اور انسانی ہمدردی کی نام نہاد تنظیمیں اٹھا رہی ہیں؟....

 میری مراد اس سے ہرگز یہ نہیں کہ سیکیورٹی فورسز ہر مشتبہ شہری کو جب چاہیں اٹھا کر لے جا سکتی ہیں اور اسے لاپتہ قرار دیا جاسکتا ہے، لیکن ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ یہ سیکیورٹی ایجنسیاں آپ اور مجھ کو اٹھا کر کیوں نہیں لے جاتیں؟.... دوسروں کو ان سے کیا بیر اور ہم آپ سے کیا الفت ہے؟.... کے جی بی، را، سی آئی اے اور دنیا بھر کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو ملک کی بقا اور اس کا استحکام، ان افراد کی بقاءسے عزیز تر ہوتا ہے جن پر ملک کی جڑیں کھودنے،آئین سے بغاوت کرنے اور دہشت گردی کے الزامات ہوں۔ اگر کوئی ایجنسی کسی بے گناہ کو بغیر کسی ثبوت کے اٹھا کر لے جاتی ہے تو وہ ضرور قابل مواخذہ ہے، اس کا احتساب ضرور کیا جائے اور مجرموں کو سزا بھی ضرور دی جائے۔  ٭

مزید : کالم


loading...